برطانوی الیکشن : کیمرون کی کنزرویٹو کو لیبر پارٹی پر واضح برتری : ایگزٹ پول

برطانوی الیکشن : کیمرون کی کنزرویٹو کو لیبر پارٹی پر واضح برتری : ایگزٹ پول

لندن (نوائے وقت رپورٹ+ رائٹر+ اے ایف پی) برطانیہ میں عام انتخابات کیلئے ووٹنگ پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی شب 2بجے ختم ہوگئی، ایگزٹ پول کے مطابق برطانوی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو لیبر پارٹی پر واضح برتری حاصل ہے کنزرویٹو پارٹی 316 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر جبکہ لیبرپارٹی 239 نشستیں حاصل کرنے کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، سکاٹش نیشنل پارٹی کی 58 نشستیں ہو سکتی ہیں، لبرل ڈیموکریٹ کی 10 اور یو کے آئی پی کی دو نشستیں ہیں۔ ایگزٹ پول کے مطابق نیشنلسٹس سکاٹش سیٹوں پر 59 میں سے 58 نشستیں حاصل کریں گے۔ کنزرویٹو پارٹی لیبر پارٹی سے آگے ہے، مگر واضح اکثریت نہیں ملے گی اس حوالے سے تھوڑی پیچھے رہے گی۔ 650 نشستوں والی ویسٹ منسٹر پارلیمنٹ کے ایوان میں واضح اکثریت کے لئے 323 نشستیں درکار ہیں۔ ایگزٹ پول نیشنل براڈ کاسٹرز کی جانب سے جاری کیا گیا ہے کنزرویٹو اور لبرل ڈیموکریٹس کی کل ملا کر 326 نشستیں ہوں گی جس کے باعث ڈیوڈ کیمرون بدستور برسراقتدار رہ سکیں گے برطانیہ کے سینئر کنزرویٹو قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات صحیح ہوئے ہیں تو کنزرویٹو واضح اکثریت سے یہ الیکشن جیتے گی۔برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں لاکھوں افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس الیکشن میں اندازاً پانچ کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جن کے لئے ملک بھر میں 50 ہزار کے قریب پولنگ سٹیشن بنائے گئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ برطانیہ میں عوام آن لائن ووٹ ڈالنے کے لئے بھی رجسٹر ہوئے۔ پوسٹل بیلٹ کے ذریعے کچھ ووٹ پہلے ہی ڈالے جا چکے ہیں۔ 2010 کے انتخابات میں یہ ووٹ کل ووٹوں کے 15 فیصد کے برابر تھے۔ 2010 میں برطانیہ میں عام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح 65 فیصد رہی تھی۔ انتخابات کے لئے زیادہ تر پولنگ مراکز سکولوں، سماجی سینٹروں اور گرجا گھروں میں قائم کئے گئے مگر کچھ پولنگ مراکز شراب خانوں کے علاوہ لانڈری کی دکانوں اور ایک سکول بس میں بھی بنائے گئے۔ مکمل نتائج آج دوپہر تک متوقع ہیں۔ عام انتخابات کے علاوہ انگلینڈ میں 279 مقامی کونسلوں کے نو ہزار ارکان کے چناو¿ کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی۔ بیڈفرڈ، کوپ لینڈ، لیسٹر، مینز فیلڈ، مڈلزبرو اور ٹوربے میں میئر کا انتخاب ہو گا۔ یوکپ کے رہنما نائیجل فراج، لیبر رہنما ایڈ ملی بینڈ، گرینز کی رہنما نیٹلی بینیٹ، ایس این پی کی رہنما نکولا سٹروجن اور کنزرویٹو رہنما ڈیوڈ کیمرون نے ووٹ ڈالا۔ مقامی ووٹنگ کا مطلب ہے کہ لندن کے علاوہ جہاں مقامی انتخابات نہیں ہو رہے، پورے انگلینڈ میں قریباً تمام ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں کے اندر کم از کم دو بیلٹ پیپر دئیے گئے۔ کئی ووٹ پہلے ہی ڈاک کے ذریعے ڈالے جا چکے ہیں جن کی شرح 2010 کے عام انتخابات میں 15 فیصد رہی تھی اس وقت کل ٹرن آو¿ٹ 65 فیصد تھا۔ سیاسی امور کے لیے بی بی سی کے نائب مدیر جیمز لینڈل کا کہنا ہے کہ سیاست دان انتخابی تجزیہ کار اور میڈیا سبھی ان انتخابات کے بارے میں واضح پیشن گوئی کرنے سے قاصر رہے۔ برطانیہ کے موجودہ وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو جماعت نے 2010 کے الیکشن میں 307 نشستیں جیتی تھیں۔
برطانیہ/الیکشن