باقاعدہ منظوری نہیں لی گئی‘ ریٹرننگ افسروں کے کہنے پر بعض حلقوں میں سو فیصد سے بھی زائد بیلٹ پیپر چھاپے گئے : سابق الیکشن کمشنر پنجاب

باقاعدہ منظوری نہیں لی گئی‘ ریٹرننگ افسروں کے کہنے پر بعض حلقوں میں سو فیصد سے بھی زائد بیلٹ پیپر چھاپے گئے : سابق الیکشن کمشنر پنجاب

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت +نوائے وقت رپورٹ+نیشن رپورٹ ) مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمشن میں سابق الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انور نے بیان ریکارڈ کرا دیا، ان کا کہنا ہے کہ بعض ریٹرننگ افسروں نے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سے زائد بیلٹ پیپر چھاپنے کا کہا تھا۔ تحریک انصاف کے وکیل حفیظ پیرزادہ نے گواہ سے جرح کی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کس حلقے کے لئے کتنے بیلٹ پیپر درکار ہیں اس کا فیصلہ ریٹرننگ افسر کرتا ہے، ریٹرننگ افسروں نے جتنے بیلٹ پیپرز کی ڈیمانڈ کی اتنے ہی چھاپے گئے۔ حفیظ پیرزادہ نے سوال کیا کہ کیا ایسے بھی ہوا کہ ریٹرننگ افسروں نے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سے زائد بیلٹ پیپر چھاپنے کی درخواست کی اور اس پر عمل ہوا؟ محبوب انور نے جواب دیا کہ یہ درست ہے کہ بعض ریٹرننگ افسروں نے اکثر حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد سے زائد بیلٹ پیپر چھاپنے کا کہا، تاہم درست تعداد ان کے علم میں نہیں۔ حفیظ پیرزادہ کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ انتخابات سے تین دن پہلے پرنٹڈ میٹریل ریٹرننگ افسروں تک پہنچنا ضروری ہے، مگر ایسا نہ ہو سکا، حفیظ پیرزادہ نے یہ استفسار بھی کیا کہ الیکشن شیڈول ڈسٹرب ہونے پر کوئی جواب طلبی ہوئی؟ اس پر محبوب انور بولے کہ بیلٹ پیپرز الیکشن کمشن کی نگرانی میں چھپ رہے تھے تاخیر پر ہم سے کیوں پوچھا جاتا۔ علاوہ ازیں جوڈیشل کمشن نے مسلم لیگ ن کو گواہوں کی فہرست سوموار تک پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ، چیف جسٹس ناصرالملک نے ریمارکس دئیے کہ چاہتے ہیں کہ گواہوں کے بیان ریکارڈ ہونے کے بعد ان پر جلد از جلد جرح مکمل ہو۔ محبوب انور نے مزید کہا کہ انتخابی مواد کی چھپائی 5 مئی تک مکمل نہیں ہو سکی تھی۔ عام طور پر الیکشن سے تین روز پہلے انتخابی مواد پولنگ سٹیشنز تک پہنچ جاتا ہے تاہم یہ بات درست ہے کہ گزشتہ عام انتخابات میں الیکشن کمشن مقررہ مدت میں یہ کام مکمل نہیں کر سکا۔ حفیظ پیرزادہ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا انتخابی مواد تاخیر سے پہنچنے کی کسی نے باز پرس کی جس پر محبوب انور کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ان سے کسی نے باز پرس نہیں کی۔ زائد بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکام کو آگاہ ضرور کیا تھا تاہم اس کی باقاعدہ منظوری نہیں لی گئی تھی۔ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ سوموار کو پورا دن کمشن کا اجلاس ہوگا۔نمائندہ نوائے وقت کے مطابق انور محبوب نے کہا ہے کہ میرا الیکشن کمشن یا اس کے کسی ممبر سے رابطہ نہیں تھا۔ چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم سے اسلام آباد میں ایک بار ملاقات ہوئی۔ وہ 12 دسمبر 2011 سے لے کر 17 دسمبر 2014 تک اس عہدے پر رہے، درمیان میں انہوں نے تین ماہ 11-12-2012 سے 25-3-13 تک رخصت پر سندھ چلے گئے تھے میرے نوٹیفکیشن پر بھی یہ بات لکھی گئی تھی کہ مجھے واپس بھیجا جائے گا۔ وہ خودمختار نہیں بلکہ مرکزی الیکشن کمشن آف پاکستان (چیف کمشنر) کے تابع تھے۔نیشن رپورٹ کے مطابق محبوب انور نے کہا کہ بعض حلقوں میں ضرورت سے 100 فیصد سے بھی زائد بیلٹ پیپرز چھاپے گئے
جوڈیشل کمشن