چیئرمین سینٹ : مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے‘ حکمران جماعت کا تحریک انصاف سے بھی مدد مانگنے کا فیصلہ

چیئرمین سینٹ : مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے‘ حکمران جماعت کا تحریک انصاف سے بھی مدد مانگنے کا فیصلہ

اسلام آباد (عترت جعفری+جواد آر اعوان+خبرنگار خصوصی+نوائے وقت رپورٹ+ نیوز ایجنسیاں) چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو اپنے اپنے حمایتیوں کے مطالبات کی وجہ سے امتحان کا سامنا کررہے ہیں، دونوں جماعتوں نے ماضی کی طرح مفاہمت کا دروازہ ابھی بند نہیں کیا۔ وزیراعظم نے رابطوں کیلئے 3 رکنی کمیٹی بنا دی جبکہ زرداری نے پیپلز پارٹی کا اجلاس کل بلا لیا۔ دونوں جماعتوں نے حمایت حاصل کرنے کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وفد نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ہے جبکہ وزیر ریلوے سعد رفیق نے متحدہ سے رابطہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ق لیگ کے مشاہد حسین سید سے ملاقات کرکے سینٹ کے چیئرمین کے الیکشن میں تعاون مانگ لیا ہے۔ آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات کا بھی امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کھر اور ڈاکٹر قیوم سومرو نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی ۔ وزیراعظم نے چیئرمین سینٹ کے انتخابات کیلئے اتحادی جماعتوں اور اپوزیشن جماعتوں کی قیادت سے رابطوں کیلئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی بنا ئی جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو ایم کیو ایم کی قیادت کی حمایت حاصل کرنے کا ٹاسک دیدیا گیا۔ کمیٹی میں اسحاق ڈار، پرویز رشید اور خواجہ سعد رفیق شامل ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت پارٹی رہنماﺅں کا اہم ترین اجلاس ہوا جس میں سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے رابطوں کی ذمہ داری مختلف رہنماﺅں کو سونپ دی گئی۔ اسحاق ڈار کو اے این پی، پیپلزپارٹی اور بلوچ جماعتوں سے رابطوں کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ پرویز رشید، جے یو آئی کے فضل الرحمن سے رابطہ کریں گے۔ اجلاس میں سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے ناموں کا فیصلہ فی الحال نہیں کیا گیا۔چیئرمین شپ کیلئے اسحاق ڈار، حاصل بزنجو اور بلوچستان کے سینیٹرز سے بات کریں گے۔علاوہ ازیں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات پرویز رشید نے سینیٹر منتخب ہونے پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو ٹیلی فون پر مبارکباد دی۔ اس موقع پر سراج الحق نے کہاکہ چیئرمین سینٹ کے انتخابی عمل سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا۔ ادھر وزیراعظم نوازشریف نے پروفیسر ساجد میر کو ٹیلی فون کیا اور انہیں سینیٹر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ بعض اطلاعات تھیں کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے میر حاصل بزنجو کا نام چیئرمین کیلئے تجویز کردیا ہے اور وہ آج وزیراعظم سے ملاقات کریں گے جبکہ پیپلز پارٹی نے روبینہ ر¶ف خالد کا نام ڈپٹی چیئرمین کیلئے تجویز کیا ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں نے ان اطلاعات کی تردید کر دی ہے۔گزشتہ روز آصف زرداری کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں اتحادیوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔ادھر وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے حاصل بزنجو کو ٹیلیفون کیا۔ وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی نامزدگیوں کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا مشاورت کا عمل جاری ہے۔ اسحاق ڈار نے اسفند یار ولی سے بھی رابطہ کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی سے بھی بات ہوئی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے ایم کیو ایم سے رابطہ کیا ہے۔ دریں اثنا آصف علی زرداری نے اتحادیوں اور سینئر پارٹی رہنماﺅں کا اہم اجلاس کل پیر کو طلب کرلیا ہے۔ چودھری شجاعت اور پروےز الٰہی بھی زرداری سے کل ملاقات کرےنگے،گزشتہ روز ان میں ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ، زرداری نے میدان مسلم لیگ (ن) کےلئے کھلا نہ چھوڑنے اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے اتحادیوں سے رابطے کر رہے ہیں، ہاﺅس مکمل نہیں ہوا ہے، فاٹا کے انتخابات کا انتظار ہے، لگتا ہے مسلم لیگ (ن) اپنا امیدوار لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ صورتحال کو سامنے رکھ کر تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) سے رابطہ کرینگے۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے حکو مت سے کہا ہے کہ اگر وہ افہام و تفہیم کی سیاست چاہتی ہے تو سینٹ میں اپوزیشن کی اکثریت کو تسلیم کرے اور چیئرمین سینٹ کے عہدے کے الیکشن میں نہ آئے، پنجاب کی طرح دھاندلی نہ کرے وہاں سے اپوزیشن کو ایک سیٹ ملنا تھی مگر وہ بھی حکومت نے لے لی سکھر میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اتحادیوں کیساتھ ملکر سینٹ چیئرمین لائیں گے، حکومت بھی ہماری مدد کرے۔ سینٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) میں روابط کی ابتدا پر دونوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، سچے دل سے عمران خان سے کہوں گا کہ وہ پارلیمنٹ میں آ جائیں،پیپلزپارٹی کے رہنما سنیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ چیئرمین سینٹ پیپلزپارٹی کا حق ہے۔ لوٹاکریسی ختم کی جائے۔ حکومت کو فاٹا کے انتخابات ملتوی ہونے سے رابطوں کیلئے کافی وقت مل گیا ہے۔ دریں اثناءچیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو فون کیا اور انہیں سینیٹر منتخب ہونے کی مبارکباد دی۔ دونوں رہنما¶ں نے ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔سراج الحق سے پرویزرشید نے چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں مدد بھی مانگی، پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق اجلاس میں میاں رضا ربانی، تاج حیدر، فرحت اللہ بابر کے ناموں پر غور کیا گیا۔ پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بتایا ہے کہ روبینہ خالد کو ڈپٹی چیئرمین بنانے کی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔آن لائن کے مطابق چیئرمین سینٹ کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذمہ دار نے آن لائن کو بتایا کہ حکومت نے تحریک انصاف کو پیغام دیا ہے کہ وہ جوڈیشل کمشن بنانے کی تیاریاں کررہی ہے تاہم تحریک انصاف کو بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا وقت دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق (ن) لیگ کی طرف سے گورنر خیبر پی کے سردار مہتاب خان عباسی کے ذریعے بات چیت کو آگے بڑھایا جائے گا۔ دی نیشن کے مطابق مشاہد حسین سید نے پرویزرشید اور سعد رفیق کو کہا ہے کہ وہ اپنی جماعت کی اعلیٰ قیادت سے بات کرکے حمایت کے حوالے سے جواب دیں گے واضح رہے کہ شریف برادران کی واپسی کے بعد سے اب تک چودھری برادران اور ان میں ابھی تک مکمل ”صلح“ نہیں ہوسکی واضح رہے کہ مسلم لیگ کے متحد ہونے کے حامی چاہتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے رابطے بحال ہوں۔
چیئرمین سینٹ رابطے