عورت بدستور بے بسی کی تصویر:عالمی دن آج منایا جائیگا‘خواتین کیخلاف امتیازی رویہ کا خاتمہ ضروری ہے:صدر، وزیراعظم

عورت بدستور بے بسی کی تصویر:عالمی دن آج منایا جائیگا‘خواتین کیخلاف امتیازی رویہ کا خاتمہ ضروری ہے:صدر، وزیراعظم

لاہور+اسلام آباد(رفیعہ ناہید اکرام+نمائندہ خصوصی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج 41 واں ”عالمی یوم خواتین“ انتہائی جوش و خروش سے منایا جائے گا۔ 2015ءکاتھیم ”میک اٹ ہیپن “ (Makeji Happen) ہے۔آج تقریبات، کانفرنسیں، ریلیاں، سیمینار اور مذاکرے منعقد ہونگے۔ خوش کن اعلانات بھی کئے جائیں گے۔ 1900 میں خواتین کیخلاف استحصالی رویوں، جرائم، استحصال، فرسودہ روایات اور معاشی پسماندگی سے نجات کیلئے شروع ہونے والی جدوجہد آج بھی جاری ہے مگر اربوں خواتین حالت زار میں بہتری آنے کی بجائے ابتری بڑھتی گئی ہے۔ آج بھی عورت بنیادی حقوق اور خود کو انسان سمجھے جانے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ حکومتی اقدامات کے اعلان اپنی جگہ مگر ہسپتالوں، عدالتوں، جیلوں اور ذہنی امراض کی علاج گاہوں میں آج بھی لاتعداد خواتین بے بسی کی تصویر نظر آتی ہیں۔ عورتیں آج بھی ظلم کی چکی میں پس کر جرم ضعیفی کی سزا پانے پر مجبور ہیں اچھی ملازمتیں، تعلیم کا حصول آج بھی عورت کیلئے خواب ہے، پنجاب میں تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، عورت اغوا ہورہی ہے، غیرت کی بھینٹ چڑھائی جاتی ہے، خودکشی پر مجبور ہے، مقدمہ بازی، ونی، کاروکاری، عصمت دری اور گھریلو تشدد نے اس کی روح تک کو زخمی کردیا ہے۔ اسمبلیوں میں موجود جاگیردار اور سرمایہ دار خواتین کی دھواں دار تقاریر بھی متاثر نہیں کرتیں۔ خواتین کے حقوق کی تنظیموں کی عہدیداروں بشریٰ خالق، فرزانہ ممتاز، نبیلہ شاہین، سدرہ ہمایوں اور دیگر کا کہنا ہے کہ عورت کو ریلیف دینے کیلئے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ حکومت خواتین کے کسی بھی قسم کے استحصال سے تحفظ اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے اور ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنے کیلئے انہیں سازگار ماحول کی فراہمی کیلئے پرعزم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری اس کو الفاظ کی بجائے عمل میں ڈھالے۔ اس حوالے سے اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے مقام کا احترام کیا جاتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے خواتین کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے۔ شاید اسی لیے خواتین کی ذمہ داریاں بھی کافی زیادہ ہیں مگر جو حقوق انہیں حاصل ہونے چاہئیں ان میں ابھی تک امتیاز روا رکھا جاتا ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔ آج کے یوم خواتین کا موضوع ”ایسا کردکھائیں“ نہایت بامعنی اور موزوں ہے۔ اس موضوع میں وہ تمام امکانات موجود ہیں جنہیںکردکھانا وقت کا تقاضا ہے۔ خواتین کی بہبود ایسا نصب العین ہے جسے بہرحال پورا ہونا چاہیے۔ ہم خواتین کو بااختیار بنانے کا مکمل عزم رکھتے ہیں اور ہر سطح پر فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ حکومت ملک میں خواتین کی بہبود کے لیے موجود اداروں کو متحرک اور سرگرم رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور مثبت رویوں کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے توقع ہے وہ ان پر عملدرآمد کریگی۔