راولپنڈی : پولیس فائرنگ سے دو بھائیوں کی ہلاکت کیخلاف ورثاءکا دھرنا‘ پتھراﺅ اہلکاروں کی دوڑیں

راولپنڈی : پولیس فائرنگ سے دو بھائیوں کی ہلاکت کیخلاف ورثاءکا دھرنا‘ پتھراﺅ اہلکاروں کی دوڑیں

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ+ اپنے سٹاف رپورٹر سے) پولیس کی فائرنگ سے 2 بھائیوں کی ہلاکت کے واقعہ کیخلاف ورثاءنے شدید احتجاج کیا اور نعشیں سپر ہائی وے ایکسپریس پر رکھ کر شدید احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔ ایس ایس پی آپریشنز مذاکرات کیلئے پہنچے تو مظاہرین نے ایس ایس پی آپریشنز کرامت حسین اور پولیس پر پتھراﺅ کردیا جس پر پولیس کی دوڑیں لگ گئیں اور ایس ایس پی اور پولیس اہلکار پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے جبکہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او راولپنڈی سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ فائرنگ سے 2 بھائےوں 24 سالہ شکیل اور 20 سالہ ذیشان کی ہلاکت مےں ملوث اے ایس آئی سمیت 2 اہلکاروں کو گرفتارکرلےا گےا جبکہ 2 اہلکار روپوش ہوگئے۔ تفصےلات کے مطابق ہفتہ کی رات پولیس ناکے پر نہ رکنے والے دو بھائیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے مےں ملوث 2 اہلکاروں کو گرفتارکرلےا گےا جبکہ 2 اہلکار روپوش ہوگئے واقعہ کے خلاف اہل خانہ نے ہولی فیملی ہسپتال کے باہر احتجاج کیا اور پولیس کے خلاف نعرے لگائے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں بھائی دکان پر کام کرنے کے بعد گھر واپس آ رہے تھے۔ بعدازاں ورثاءنے واقعہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے نعشوں سمیت ایکسپریس ہائی وے پر دھرنا دیا۔ اور سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق ورثاءنے احتجاج کیا اور ٹریفک بلاک کردی ورثاءکی بڑی تعداد نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر پولیس اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے پنجاب حکومت اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور شکوہ کیا کہ کوئی مقامی سیاستندان زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے نہیں آیا۔ بعدازاں ایس ایس پی آپریشنز مذاکرات کیلئے آئے تو مظاہرین نے انکار کر دیا اور ان پر پتھراﺅ کیا جس پر پولیس واپس بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ لاہور سے خبرنگار کے مطابق شہباز شریف نے راولپنڈی میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے 2 بھائیوں کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آر پی او راولپنڈی سے رپوٹ طلب کر لی ہے اور واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ملزمان قانون کے مطابق کڑی سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے راولپنڈی میں پولیس کی فائرنگ سے 2 نوجوان بھائیوں کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ایسے واقعات تشویشناک ہیں، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اداروں کی تباہی کی ذمہ دار ہے۔ پولیس کا معصوم شہریوں پر گولیاں برسانا کسی بھی طور پر قبول نہیں۔ عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں راولپنڈی پولیس کے ہاتھوں دو نوجوانوں کی ہلاکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے پنجاب میں انتشار پھیلے گا۔ پولیس کی جانب سے ایسے واقعات تشویشناک ہیں۔ پنجاب پولیس ریاست کی نہیں بلکہ شریف برادران کی نوکری کررہی ہے۔ علاوہ ازیں پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دو بھائیوں کا پوسٹمارٹم مکمل کر لیا گیا۔ ماں پر دو لخت جگر کھو جانے پر غشی کے دورے، پوسٹمارٹم رپورٹ کے مطابق دونوں بھائیوں کے پیٹ میں گولیاں لگیں۔ بڑے بھائی شکیل کے پیٹ کو چیرتی ہوئی گولی باہر نکل گئی جبکہ چھوٹے بھائی ذیشان کے پیٹ میں گولی موجود ہے۔ ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ گولیاں لگنے کے بعد دونوں بھائیوں کو اندرونی طورپر کافی زخم آئے، آر پی او راولپنڈی کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ظلم کیا مظلوم خاندان کو ہر صورت انصاف ملے گا۔ شکیل اور ذیشان پر فائرنگ کرنے والے اے ایس آئی اشرف اور کانسٹیبل ضمیر اور عمیر کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بعدازاں دونوں بھائیوں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی اور انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ لاہور سے خصوصی نامہ نگار کے مطابق سینیٹر سراج الحق نے دو بھائیوں کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اگراسی طرح معصوم لوگوں کو قتل کرتی رہی تو لوگوں کے اندر پولیس کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہو گا۔ علاوہ ازیں 2 بھائیوں کے جاں بحق ہونے کیخلاف صادق آباد کے تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے دکانیں بند کردیں۔ علاوہ ازیں (ق) لیگ کے مرکزی رہنما چودھری پرویز الٰہی نے بھی راولپنڈی میں پولیس کی بہیمانہ فائرنگ سے دو نوجوان بھائیوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے پولیس میں موجود ”گلو بٹ“ بے لگام ہو چکے ہیں اور آئے دن مظلوم شہری پولیس گردی کا شکار بن رہے ہیں۔ ادھر راولپنڈی پولیس کے ”محافظوں“ کے ہاتھوں دو بے گناہ نوجوان بھائیوں کی ہلاکت کے بعد پورے شہرسے وہ ناکے اچانک ختم کردئیے گئے ہیں جو تواتر سے محض شہریوں کو ذلیل ورسوا کرنے کیلئے لگائے جاتے رہے ۔ علاوہ ازیں عزےز علوی کے مطابق تھانہ صادق آباد کے علاقہ شکرےال کے رہائشی دو نوجوان بھائی راولپنڈی مےں حال ہی مےں قائم کئے جانے والے محافظ سکواڈ کی گولی کا نشانہ بننے سے گھر واپس نہ جا سکے اس واقعہ کے بعد پولےس اس کوشش مےں رہی کہ کےا ےہ دونوں بھائی کسی کےس مےں تو ملوث نہےں تھے لےکن جب ان کا رےکارڈ صاف شفاف نکلا تو تھانہ نےو ٹاﺅن نے دونوں بھائےوں کے قتل کا مقدمہ درج کرلےا محافظ سکواڈ کے دو گروپ سکستھ روڈ پر ان بھائےوں کو پنڈوارہ کی جانب سے آتے ہوئے روکنے لگے کہ اسی دوران محافظ سکواڈکا فائرکھل گےا محافظ سکواڈ کا اےک دستہ تو موقع سے فرار ہوگےا دوسرا موجود رہا جسے گرفتار کرلےا گےا مقتولےن کی والدہ دےوانہ وار اےک ہی بےن کر رہی تھی کہ مجھے مےرے بچے چاہئےں اور بس اس سانحہ نے راولپنڈی شہر کی فضاءاتوار کو مکمل طور پر سوگوار رکھی ۔