کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پرامن حل کے لئے خطے میں مذاکراتی عمل کا آغاز کیا : آصف علی زرداری

کشمیر سمیت  تمام تنازعات کے پرامن حل کے لئے خطے میں مذاکراتی عمل کا آغاز کیا : آصف علی زرداری

راولپنڈی (اے پی پی + ثناءنیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے پاکستان تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مساوی بنیاد پر اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور اس نے تمام تنازعات کے پرامن حل کے لئے خطے میں مذاکراتی عمل کا آغاز کیا ہے۔ یہاں جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز میں یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں ترقی کے لئے امن ناگزیر ہے‘ ہم وقار کے ساتھ امن پر یقین رکھتے ہیں‘ ہم نے خطہ میں مذاکراتی عمل کا آغاز کیا ہے۔ مذاکرات کا مقصد جموں و کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کو پرامن انداز میں حل کرنا ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق انہوں نے کہا ملک کو انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کا سامنا ہے۔ انتہا پسندوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا جائے گا۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق صدر نے کہا عوام کے ساتھ ملکر ملک کے تمام مسائل کا حل نکال لیں گے۔ بہادر فوجیوں نے جانوں کے نذرانے دیکر پاکستان کا وقار بلند کیا۔ اے پی پی کے مطابق صدر نے کہا پاکستان کو عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے پر توانائیاں مرکوز کرنے کے لئے امن کی ضرورت ہے‘ ہم باہمی احترام اور مساویانہ بنیاد پر سب کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ صدر نے افغانستان اور خطے میں پائیدار امن کے لئے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا پرامن اور مستحکم افغانستان ہمارے قومی مفاد میں ہے‘ ہم افغان قیادت میں اور افغان عوام کے اپنے مفاہمتی عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ صدر نے یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے کہا چھ ستمبر قومی تاریخ میں ایک یادگار دن ہے۔ اس دن قومی یکجہتی کا جو مظاہرہ کیا گیا اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس دن پاکستان کی مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں نے جس جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا ملک کو شدت پسندی‘ دہشتگردی اور فرقہ واریت کا سامنا ہے۔ عسکریت پسندوں نے ہماری قومی سالمیت کو خطرہ لاحق کیا ہے اور انتہا پسند بندوق کی نوک پر عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں‘ہم اس کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے اور نہ کبھی دیں گے۔ ہم دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے تک لڑیں گے۔ اس بارے میں کسی کو کوئی شبہ یا غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ صدر نے سوات‘ مالاکنڈ اور قبائلی علاقہ جات میں عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں شہید ہونے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہمارے افسران‘ فوجی جوانوں اور عوام نے جرات و بہادری کی نئی مثالیں قائم کی ہیں۔ صدر نے کہا ہم دو مضبوط ہتھیاروں سے لیس ہیں‘ پہلا ہتھیار جارحیت کے خلاف ہمارے عوام کا عزم ہے اور دوسرا کسی بھی جارحیت کے خلاف ہماری مسلح افواج کا عزم اور تیاری کی حالت ہے۔ ان دو ہتھیاروں کے ساتھ فتح ہمارا مقدر ہے‘ ہم سرخرو ہوں گے‘ حالات خواہ کتنے ہی نامساعد ہوں۔