عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کے سربراہ سمیت 6 غیرملکی افسروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کے سربراہ سمیت 6 غیرملکی افسروں کو ملک چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز+ایجنسیاں) وفاقی حکومت نے بچوں کی امداد کی عالمی تنظیم سیو دی چلڈرن کے سربراہ سمیت 6 غیرملکی افسروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ افسروں کی ملک بدری کا حکم ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطے ثابت ہونے پر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسامہ بن لادن کی جاسوسی کے الزام میں غداری کے مرتکب ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطوں کے الزام میں وزارت داخلہ نے بین الاقوامی تنظیم سیو دی چلڈرن کے 6 غیرملکی افسروں کو ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے تنظیم کے عالمی افسروں کو ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دےدی ہے۔ پاکستانی خفیہ اداروں کی تحقیقات میں ثابت ہوا ہے کہ سیو دی چلڈرن کے افسروں کے ایبٹ آباد میں جعلی ویکسین مہم چلانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی سے رابطے تھے۔ ڈاکٹر شکیل پر اسامہ کے کمپاو¿نڈ سے لیے گئے خون کے نمونے سی آئی اے کے حوالے کرنے کا الزام ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ کا حکم نامہ ملتے ہی تنظیم کے پاکستان میں سربراہ مسٹر ڈیوڈ پاکستان چھوڑ گئے ہیں جبکہ باقی 5افسر بھی رواں ہفتے ملک سے واپس چلے جائیں گے۔ سیو دی چلڈرن کے ترجمان غلام قادری نے بھی وزارت داخلہ کے خط کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی سے تنظیم کا کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی مالی معاونت کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تنظیم کے دو ہزار مقامی افراد کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان میں 105 ملین ڈالر خرچ کئے گئے ہیں۔ حکام نے انہیں پاکستان چھوڑنے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں بتائی۔ غےرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر تنظےم کے اہلکارنے بتاےاکہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے غیر ملکی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا اور اس کے بارے میں تنظیم کو انٹیلی جنس بیورو نے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ تنظیم کے مطابق حکام نے غیرملکی اہلکاروں کو ملک چھوڑنے کے حکم کی بظاہر کوئی وجہ نہیں بتائی تاہم اس ضمن میں حکومت سے بات چیت جاری ہے۔