سندھ میں بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے ایک دوسرے سے رابطے تیز کردیے ہیں۔

سندھ میں بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں نے ایک دوسرے سے رابطے تیز کردیے ہیں۔

گزشتہ روز پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان مذاکرات کے بعد بلدیاتی نظام آرڈیننس جاری کیا گیا تھا۔ سندھ اسمبلی کے اندرموجود اور باہر بیٹھی جماعتوں میں بلدیاتی نظام کے آرڈیننس کی مخالفت شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اور ان جماعتوں نے آپس میں رابطے تیز کر دیے ہیں۔

 

وفاق اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی ایک اور اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے وزراء اور مشیروں نے بھی استعفے پارٹی رہنما پیر پگاڑا کے پاس جمع کرا دیے ہیں۔ نیشنل پیپلزپارٹی بھی بلدیاتی نظام کے آرڈیننس کو قبول کرنے پر تیار نہیں۔ ملک کی دوسری بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھی اس کی سخت مخالفت کی ہے۔ پی ایم ایل این سندھ کے صدر سید غوث علی شاہ اس حوالے سے کل پریس کانفرنس کریں گے۔ مسلم لیگ ہم خیال کے رہنما اور سابق وزیراعلٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے بھی فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگارا سے رابطہ کیا اور بلدیاتی آرڈیننس پر تبادلہ خیال کیا۔ فنکشنل لیگ کےذرائع کےمطابق وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے تین بار پیر پگارا سے رابطے کی کوشش کی مگرپیر پگارا نے آُن سے بات نہیں کی۔