بے نظیر کے قتل کے بعد انتخابات ہو سکتے ہیں تو اب انتخا بات کی التوا کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی : مولانا فضل الرحمن

 بے نظیر  کے قتل کے بعد انتخابات ہو سکتے ہیں تو اب  انتخا بات کی التوا کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی : مولانا فضل الرحمن

لاہور (سید عدنان فاروق) جے یو آئی کے امیر اور چیئرمین کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ جماعت اسلامی ہی ہے، آئین نے تمام اداروں کے لئے حدود کا تعین کر دیا ہے ان سے کوئی بھی باہر نہ نکلے یہ مسائل کا حل بھی ہے اور بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ بھی ہے، اگر بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد انتخابات ہو سکتے ہیں تو اب بھی انتخا بات کی التوا کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، ملی کونسل غیرانتخابی فورم تو ہو سکتا ہے لیکن ایم ایم اے کا متبادل ہرگز نہیں، یہ تاثر یکسر غلط ہے کہ جے یو آئی نے کسی کی دوستی میں حکومت کو اپوزیشن میں بیٹھ کر فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، ہماری تو مرکز نہ صوبے کہیں بھی حکومت نہیں ، اصل اپوزیشن تو ہیں ہی ہم، بلوچستان کی طرح خیبر پی کے حوالے سے بھی سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینا چاہیے ، امریکی دباﺅ پر شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بھیانک نتائج نکلیں گے، آپریشن کرنے والے ہوش سے کام لیں، تحریک انصاف کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا ہم نے اسے اس کے حال پر چھوڑ رکھا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے نوائے وقت سے گفتگو میں کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایم ایم اے بحالی کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، ہماری کوشش ہے کہ جماعت اسلامی بھی اس پر قائل ہو جائے اور آئندہ ہم سب ملکر لڑیں۔ ملی یکجہتی کونسل ایم ایم اے کا متبادل نہیں، ہم فرقہ واریت کے خاتمے کےلئے ہر کوشش کے حامی ہیں، انہوں نے کہا آنکھیں بندکرکے امریکی جنگ میں پارٹنر بننے کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا ، اس نے اپنا کام بھی نکالا، الزامات پر بھی لگائے اور ہمیں دھمکیاں بھی دیں لیکن آج بھی امریکی دوستی کا دم بھرا جاتا ہے، ماضی کے تجربات سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے، کسی امریکی خواہش کی خاطر کوئی غلط فیصلہ نہ کیا جائے، دنیا میں بھوک، غربت عام ہو رہی ہے عالمی اداروں کو ان مسائل کے حل کی طرف توجہ دینا ہو گی لیکن ان کی پالیسیاں متضاد ہیں۔