بل کا اطلاق ماضی کی کرپشن پر لاگو نہ ہو گا :وزیر قانون

 بل کا اطلاق ماضی کی کرپشن پر لاگو نہ  ہو گا  :وزیر قانون

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + دی نیشن رپورٹ + نوائے وقت رپورٹ) پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو احتساب بل کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے جس میں اس کے تمام تحفظات دور کرنے کا عندیہ دیا ہے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے اس قانون کی منظوری کی تاریخ سے لاگو کرنے پر زور دیا ہے اگرچہ دونوں جماعتوں نے متفقہ طور پر قانون سازی کے لئے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اعلیٰ قیادت سے مشاورت کے بغیر حتمی جواب دینے سے معذوری کا اظہار کر دیا ہے اور وقت مانگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے فی الحال خود کو مزید مذاکرات سے الگ رکھا ہے، نوازشریف ہی کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔ دونوں جماعتوں کے رہنما¶ں کے درمیان پنجاب ہا¶س میں احتساب بل کے یک نکاتی ایجنڈے پر ہونے والے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ، وزیر دفاع سید نوید قمر اور وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قومی اسمبلی کے رکن خواجہ آصف اور سینیٹر پرویز رشید نے کی۔ ملاقات میں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے احتساب بل پر تفصیلی بریفنگ دی، مسلم لیگ (ن) نے احتساب بل پر اپنے تحفظات کا اعادہ کیا اور احتساب بل میں اپنے چار مطالبات تسلیم کرنے پر زور دیا، دونوں جماعتوں کے رہنما¶ں کے درمیان 2 گھنٹے تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے کرپشن کے خاتمہ کے لئے احتساب کے بااختیار ادارے کے قیام کے لئے ساڑھے تین سال سے زیر التوا احتساب کے قانون پر تمام تحفظات دور کر کے متفقہ طو ر پر قانون سازی کرنے اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ اس بل کا اطلاق ماضی کی کرپشن پر ہو گا نہ ہی کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا سکے گا، یہ احتساب بل اتفاق رائے سے منظور ہو گا۔ وفاقی وزیر خورشید شاہ نے کہا کہ جو بھی قانون سازی ہو گی وہ اتفاق رائے سے کی جائے گی۔ فاروق نائیک نے کہا کہ نئے مسودہ قانون میں فرد واحد کے اختیارات ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، احتساب کا اختیار کسی ایک ممبر کے پاس نہیں کمشن کے پاس ہو گا، کسی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہمارے مسلم لیگ (ن) قیادت کے ساتھ وقتاً فوقتاً مذاکرات اور بات چیت جاری رہتی ہے۔ اس سے قبل 18، 19 اور 20ویں ترمیم پر اتفاق رائے کےلئے بھی ہمارے کامیاب مذاکرات ہوئے اور اب ہم احتساب بل پر اتفاق رائے کےلئے بات چیت کر رہے ہیں، ہمیں امید ہے سابقہ قانون سازی اور آئینی ترامیم کی طرح یہ بات چیت بھی کامیاب رہے گی۔ ہم احتساب بل کا مجوزہ ڈرافٹ اپنے ساتھ لائے تھے جو لیگی وفد کے حوالے کیا گیا اور دونوں جانب سے اس پر بات چیت کی گئی ۔ پی پی پی کی کوشش ہے کہ پارلیمنٹ میں تمام اہم قانون سازی اتفاق رائے سے کی جائے، اس اتفاق رائے کےلئے جاری کوششیں جاری رہیں گی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مذاکرات کا ایجنڈا یک نکاتی تھا۔ اس کے علاوہ کسی ایشو پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ خورشید شاہ گزشتہ دنوں میرے چیمبر میں آئے اور احتساب بل پر بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا جس پر فیصلہ ہوا کہ دونوں طرف کے وفود ڈرافٹ کا جائزہ لیں کیونکہ پی پی پی کی خواہش ہے کہ ان کے دور میں احتساب بل بھی منظور کر لیا جائے، پی پی پی کی قیادت اس کے لئے دیگر پارٹیوںکو بھی اپروچ کر رہی ہے۔ ملاقات میں مجوزہ ڈرافٹ ہمارے حوالے کیاگیا یہ 200 صفحات کی دستاویز ہے اور ظاہر ہے کہ اس پر صرف دو گھنٹوں میں اتفاق رائے نہیں ہو سکتا۔ ہم اس پر اپنی قیادت اور قائمہ کمیٹی کے ان ارکان سے بھی مشاورت کریں گے جو اس ڈرافٹ بل کی تیاری کے مراحل میں شریک رہے، انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔ مجوزہ ڈرافٹ پر پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ سے بھی تجاویز لی جائیں گی۔ احتساب بل کے قانون کو بدلنے میں ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ مشرف کے اس کالے قانون کو بدلنے کےلئے میثاق جمہوریت میں بھی اتفاق کیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ایک شخص کی بجائے احتساب کے ادارے کو مضبوط اور بااختیار بنایا جائے کیونکہ افراد کے بااختیار ہونے سے بعض اوقات مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بل کی بعض شقوں پر اعتراصات کے بارے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اختلاف رائے کا ہر کسی کو حق حاصل ہے لیکن یہ اختلاف ذاتی کی بجائے اصول اور ایشو کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ بات چیت اور مذاکرات کے دوران آنے سے مسودہ قانون کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ کا م¶قف ہے کہ موثر احتساب بل ہونا چاہئے، میثاق جمہوریت میں بےنظیر بھٹو اور نوازشریف نے 14 مئی 2006ءکو طے کیا تھا کہ مشرف کا ظالمانہ قانون ختم ہو گا اور ہم فیئر اور م¶ثر بل لائیں گے۔ مستقبل قریب میں صدر زرداری اور نوازشریف کی کسی ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔ بل کو پڑھنے میں دو دن لگیں گے شاید اس میں 50 تبدیلیاں کریں۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ پی پی پی کے ڈرافٹ اور پہلے سے طے شدہ ڈرافٹ کا موازنہ کر سکتے۔ قیادت کو یہ مسودہ دیں گے جو فیصلہ ہو گا اس سے پی پی پی کو آگاہ کر دیں گے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایشوز پر گفتگو ہونی چاہئے، اس پر مخالفت ہونی چاہئے، ذاتی مخالفت نہیں ہونی چاہئے اور پرسنل ہو کر کسی پر حملہ نہیں کرنا چاہئے اور اگر کوئی اچھی تجاویز آتی ہیں تو ہم سب کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہئے، یہ ملک کی سالمیت کے لئے اچھا ہے، جمہوریت کو تقویت ملتی ہے اور آگے اچھی رائے اور اچھی مثال قائم ہوتی ہے۔ دی نیشن کے مطابق مسلم لیگ (ن) خود کو مزید مذاکرات سے الگ رکھ رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نے دی نیشن کو بتایا کہ میاں محمد نوازشریف کی اجازت کے بعد ہی ان امور پر کوئی فیصلہ ہو گا۔ دریں اثناءوفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی کافی عرصے سے کوشش ہے کہ اتفاق رائے سے احتساب کا قانون لایا جائے، احتساب بل پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بات حیت میں پیشرفت کی توقع ہے، چودھری نثار علی خان ہر معاملے کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسحق ڈار کی مثبت تجاویز کو احتساب بل کا حصہ بنایا جائے گا، وزارت اطلاعات کے پاس کوئی خفیہ فنڈ نہیں۔ عدالت سے درخواست کروں گا کہ غلط بیانی کرنے والوں کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے۔
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور قائد حزب اختلاف چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اگر ان کی پارٹی بھی کہے تو وہ کسی صورت بھی پیپلز پارٹی سے مذاکرات نہیں کریں گے جو اپنی زبان کا پاس نہیں رکھ سکتی میری پارٹی میں دورائے نہیں، سینیٹر محمد اسحق ڈار حکومتی عہدےداروں سے ہونے والی ملاقات ملتوی کرنا چاہتے تھے لیکن پارٹی کے اجلاس میں حکومتی رابطے کو یکسر مسترد کرنے سے روکا تاہم ہم اس بات پر قائم ہیں کہ حکومتی عہدےداروں سے باضابطہ مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی نے احتساب بل کے نام پر نئی تجاویز کا جو شوشہ چھوڑا ہے وہ قبول نہیں۔ احتساب اور زرداری دو متضاد چیزیں ہیں۔ انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ ہا¶س کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ان کے ساتھ ڈاکٹر طارق فضل چودھری، انجم عقیل خاں اور ملک ابرار بھی موجود تھے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ احتساب بل کے نئے مسودہ کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان احتساب بل پر کوئی اتفاق نہیں ہوا۔ حکومت بدعنوان افراد کو بچانے کے لئے اپنا احتساب بل لانا چاہتی ہے، آصف علی زرداری اور احتساب دو متضاد چیزیں ہیں، ہم نے حکومت سے احتساب بل پر تجاویز لے لی ہیں اس بارے میں حتمی فیصلہ پارٹی کرے گی، مسلم لیگ (ن) کرپٹ لوگوں کو بچانے کے لئے احتساب بل کی حمایت نہیں کرے گی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ نہیں ہوں لیکن ایسی جماعت کے ساتھ مذاکرات کے حق میں نہیں جو کمٹمنٹ پوری نہیں کر سکتی۔ حکومت میں موجود اتحادی جماعتوں کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتوں کو نگران سیٹ اپ پر اعتماد میں لیا جائے گا، عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لئے حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا شوشہ چھوڑا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے درمیان احتساب بل پر مذاکرات نہیں رابطہ ہوا ہے۔ احتساب بل ساڑھے 4 سال سے مسلسل التوا کا شکار ہے۔ حکومت کرپٹ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اپنا احتساب بل لانا چاہتی ہے، مسلم لیگ (ن) کرپٹ لوگوں کو بچانے کے لئے احتساب بل کی حمایت نہیں کرے گی۔ ساڑھے چار سال پہلے احتساب بل پر حتمی مسودہ طے ہوا تھا تاہم پیپلز پارٹی نے اس سے راہ فرار اختیار کر لی تھی اب مسلم لیگ (ن) نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ احتساب بل صرف اسی صورت میں قابل قبول ہے جس کے حتمی مسودے پر اتفاق ہوا تھا۔ ضلع ناظمین کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ جس جماعت نے ساڑھے چار سال میں ملک کی تباہی کی اس کے ساتھ مذاکرات کسی صورت نہیں ہو سکتے۔ سندھ اور بلوچستان کی اسمبلی میں کوئی قائد حزب اختلاف نہیں، وہاں حکومت اپنی مرضی کا نگران سیٹ اپ بنائے گی جو ہمیں قبول نہیں۔ نگران سیٹ اپ کے لئے حکومت اتحادی جماعتوں کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی بات ہو گی اور انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق نہ ہوا تو یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی اور پھر بھی اتفاق نہ ہو سکا تو معاملہ الیکشن کمشن کے پاس جائے گا اور نگران سیٹ اپ کا فیصلہ وہی کرے گا۔ نئے صوبوں کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق قومی کمشن قائم کیا جائے۔ وفاقی حکومت کے سرکاری افسروں کو پنجاب حکومت کے افسروں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ رحمن ملک اپنی حرکات سے بعض آ جائیں پنجاب حکومت ان سے بہتر کام کر سکتی ہے۔ یہ لڑائی سیاسی لوگوں کے درمیان ہے اس میں بیوروکریسی کو ملوث نہ کیا جائے۔ نیب اینٹی کرپشن پنجاب سے ملک ریاض کے خلاف کیس اپنے پاس لانا چاہتی ہے کیونکہ چیئرمین نیب کی بیٹی ملک ریاض کی پرسنل سیکرٹری رہی ہے۔ میڈیا کی آزادی کا ثمر غریب عوام کو بھی ملنا چاہئے۔ میڈیا کے چند لوگوں میں حکومت اربوں روپے تقسیم کر رہی ہے اور وزارت اطلاعات کے اربوں روپے نام نہاد صحافیوں میں تقسیم کئے جا رہے ہیں۔