بلوچستان میں نالائق افسروں کو ہٹایا جائے / پورے ملک میں لوگ مارے جا رہے ہیں ایجنسیوں کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی :سپریم کورٹ

 بلوچستان میں نالائق افسروں کو  ہٹایا جائے / پورے ملک میں لوگ مارے جا رہے ہیں ایجنسیوں کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی :سپریم کورٹ

کوئٹہ (ثناءنیوز) بلوچستان میں امن و امان کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بلوچستان پاکستان کی روح ہے۔ ملک بچانے کیلئے ہر قسم کی قربانی دینگے۔ سکیورٹی اداروں کو اغوا اور ٹارگٹ کلنگ روکنے کیلئے نتائج دینا ہونگے۔ صوبے میں نالائق افسروں کو عہدوں سے ہٹایا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے سیکرٹری دفاع کو اسلحہ و گاڑیوں کی تمام راہداریاں منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میںقرار دیا ہے کہ کابلی گاڑیوں کی آمدورفت سے امن و امان خراب ہوا کوئٹہ اور اردگرد کے بازار سمگلنگ کی اشیاءسے بھرے پڑے ہیں۔کسٹمز حکام ایکشن لیں اور کسٹم حکام دو ہفتوں میں نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں سے متعلق جامع رپورٹ پیش کریں۔ محکمہ میں ایماندار، فرض شناس افسر تعینات کئے جائیںجو ایمانداری اور محنت سے قانون کی عملداری یقینی بنائیں، عدالت نے قرار دیا ہے کہ بلوچستان پاکستان کی روح ہے اور ملک بچانے کے لئے ہر قسم کی قربانی دیں گے، سکیورٹی اداروں کو اغواءاور ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے نتائج دینا ہوں گے۔صوبے میں تعینات نالائق افسروں کو عہدوں سے ہٹایا جائے۔ سیکرٹری دفاع کو اسلحہ وگاڑیوں کی تمام راہداریاں منسوخ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سمگلنگ یہاں ہوتی ہے، سرعام اسلحہ یہاں بکتا ہے اگر کچھ نہیں کر سکتے تو محکمہ کسٹمز بند کر دیں۔ چار دن کی سماعت کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ انہوں نے چیف سیکرٹری کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیاکہ کیا بلوچستان میں اچھے افسروں کی کمی ہے اور نالائقوں کو کیوں ہٹایا نہیں جا رہا۔ جو افسر نتائج نہیں دے رہے انہیں تبدیل کیا جائے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان میں امن و امان سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف سیکرٹری بلوچستان، سیکرٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین، صوبائی سیکرٹری داخلہ اور آئی جی ایف سی میجر جنرل عبیداللہ بھی عدالت میں پیش ہوئے جبکہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر عدالت نے اظہار برہمی کیا۔ آئی جی ایف سی سے مکالمہ کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے ہمیں دو لفظ لکھ کر دینے ہیں کامیاب ہوئے یا ناکام۔ آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ وقت ضائع نہیں کر رہا بلکہ صوبہ میں امن کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ عدالت میں چمن سے پکڑے جانے والے کاہو بگٹی کے بھائی بنسرا بگٹی بھی پیش ہوئے اور بتایا کہ دونوں کو ایک ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں رہا کردیا گیا جبکہ بھائی کی حراست سے انکار کیا جا رہا ہے۔دوران سماعت ہزارہ قبیلے کی خواتین بھی عدالت میں پیش ہوئیں اور بتایا کہ انیس سو ننانوے سے سات سو پچاسی افراد قتل کئے جا چکے ہیں۔ ہزارہ برادری کی خواتین نے12-1999تک ہزارہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے اعداد و شمار بھی پیش کئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے اکابرین کو دھمکی آمیز فون آتے ہیں۔خواتین نے الزام لگایا کہ قتل کے ملزموں کو جیل میں سہولتیں دی جاتی ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہزارہ قبائل کے لوگوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کیلئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ جسٹس خواجہ نے کہا کہ حکومت اپنے اقدامات سے آگاہ کرے، کس نے کیاکیا؟۔اس موقع پر چیف جسٹس نے آئی جی ایف سی کو مخاطب کر کے کہا کہ ہم نے آئی ایس آئی کے جنرل کو نہیں بلایا کہ الزام آپ پر لگ رہے ہیں،آپ تحریری طور پر دیں کہ آپ ناکام ہو چکے، اس پر آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ میں عدالت کو یقین دہانی کراتا ہوں، دن رات کام کیا، وقت ضائع نہیں کیا۔ ایک موقع پر جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیئے کہ 6 ماہ میں 46 اہل تشیع افراد کو ٹارگٹ کیاگیا، یہ ایک صوبے کا ریکارڈ ہے، دوسرے صوبوں میں علیحدہ معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری دفاع کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ نے دو لفظ دینے ہیں کامیاب یا فیل ہوگئے۔ سیکرٹری دفاع نے کہا کہ وہ لاپتہ افراد کے مسئلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت چاہے تو آئی ایس آئی کے جنرل کو بلا سکتی ہے۔ آپ کو لاپتہ افراد کے بارے میں بتانے کے لیے طلب کیا گیا ہے دوران سماعت ایف سی کے وکیل کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت ہورہی ہے ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سکیورٹی کے اداروں نے غیر ملکی ایجنٹ پکڑے ہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ ایجنسیاں سو رہی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اغواءاور ٹارگٹ کلنگ روکنے کے لیے سکیورٹی کے اداروںکو نتائج دینا ہوں گے پولیس ہو یا لیویز اس مسئلہ پر خاموش ہیں۔چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سے استفسار کیا کہ کیا آپ لوگ اتنی کمزوری محسوس کر رہے ہیں کیا جرائم پیشہ لوگ اتنے بااثر ہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کوئی لاپتہ شخص ایف سی کی حراست میں نہیں، پورے ملک میں لوگ مارے جا رہے ہیں ایجنسیوں کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو گی! وکیل راجہ ارشاد نے عدالت کو بتایا کہ ایک بھی لاپتہ شخص ایف سی کے پاس نہیں ہے۔ انہوں کہا کہ ایف سی کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ راجہ ارشاد کا عدالت سے کہنا تھا کہ آپ آئین سے باہر نہ جائیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ہمیں آئین نہ پڑھائیں آپ کا جتنا کام ہے اتنا ہی کریں۔ راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ اگر ایف سی برائی کی جڑ ہے تو عدالت ان کے پولیس کے اختیارات ختم کردے۔چیف جسٹس نے راجہ ارشاد کو ہدایت کی کہ آئین کے آرٹیکل پانچ کو آرٹیکل آٹھ کے ساتھ ملا کر پڑھیں کیونکہ آپ اکثر غیر ملکی ایجنسیوں کی بات کرتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم تمام مقدما ت میں دلچسپی لے رہے ہیں لیکن بلوچستان کی صورتحال انتہائی حساس ہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کی روح ہے اسے سنبھالنے کی کوشش کریں۔ افسروں کو چادر اوڑھ کر سونے کی بجائے اپنی ذمہ داریا ں نبھانی چاہئیں۔ سب لوگ ذمہ داریاں نبھائیں، میڈیا بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرے۔ دوران سماعت ایجنسیوں کے وکیل کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صورتحال خراب ہے اور غیر ملکی قوتیں ان حالات کے پیچھے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج تک ایجنسیوں نے کوئی غیرملکی ایجنٹ پکڑ کر دکھایا ہے۔