کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ‘ پاکستان کا اسے متنازعہ قرار دینا اشتعال انگیزی ہے : بھارتی وزارت خارجہ

کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ‘ پاکستان کا اسے متنازعہ قرار دینا اشتعال انگیزی ہے : بھارتی وزارت خارجہ

نئی دہلی (اے این این+ کے پی آئی) بھارت نے ایک بار پھر کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب  سے جموں و کشمیر کو متنازعہ خطہ قرار دینا اشتعال انگیزی ہے۔ بھارت کے بقول پاکستان ہٹ دھرمی ترک کر کے باہمی تعلقات کے لئے نیا راستہ اختیار کرے۔ ایسے بیانات اور حربوں سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ دونوں ممالک کو ماضی بھول کر امن مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ صحافیوں کو بریفنگ میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین نے پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس میں کہا گیا تھا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ متنازعہ خطہ ہے۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کو تسلیم نہیں کرتا۔ ترجمان نے کہا کہ اشتعال انگیز بیانات سے پاکستان، بھارت تعلقات استوار نہیں ہو سکتے۔ تعلقات بہتر بنانے کیلئے پاکستان کو کشمیر پر متنازعہ ہٹ دھرمی ترک کرنا ہو گی۔ اشتعال انگیز بیانات کا وقت گزر چکا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی میں حال ہی میں وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیراعظم نوازشریف کے درمیان ہوئی ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مذاکرات کے ذریعے بہتر بنانے کا عہد کیا گیا اس میں اشتعال انگیز بیان بازی کیلئے کوئی جگہ ہے نہ ہی دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان  ملاقات میں اس طرح کے بیانات پر کوئی عہد کیا گیا۔ بھارت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا متمنی ہے تاہم اس کے لئے پرامن ماحول انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے اس بیان جس میں کہا گیا تھا کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں، پر ردعمل میں واضح کیاکہ جموں کشمیر و بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف مودی ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مذاکرات کے ذریعے بہتر بنانے کے ایگریمنٹ کے بعد  اشتعال انگریز بیان بازی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پاکستان کو کشمیر پر اپنی رٹ کی پالیسی ترک کر کے بھارت کے ساتھ تعلقات آگے بڑھانے کے حوالے سے نیا راستہ اختیار کرنا ہوگا کیونکہ اشتعال انگیز بیانات سے کوئی مسئلہ نہ آج تک حل ہوا ہے نہ ہی مستقبل میں حل ہوگا۔ دونوں ممالک کو باہمی تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا اس کیلئے ضروری ہے کہ امن مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔
بھارت/ کشمیر