دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے متحدہ کا جلسہ‘ مشرف پر مقدمہ چلانا ہے تو ساتھیوں کو بھی شامل کیا جائے : الطاف

دہشت گردوں کیخلاف پاک فوج سے اظہار یکجہتی کیلئے متحدہ کا جلسہ‘ مشرف پر مقدمہ چلانا ہے تو ساتھیوں کو بھی شامل کیا جائے : الطاف

 کراچی (راشد نور/ خصوصی رپورٹر+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) متحدہ کے قائد الطاف حسین نے  کہا ہے کہ  دہشت گردوں کے صفایا کے  بعد ملک میں وڈیروں، ملکی دولت لوٹنے والوں، کرپٹ سیاست دانوں، جاگیر داروں  اور سرمایہ داروں کا بھی  احتساب  ہوگا۔ چوروں  اور ڈاکوئوں کو پکڑنے کیلئے شیخ رشید کو  ہتھکڑی دوںگا۔ متحدہ پاک فوج کو  غیرمشروط  خدمات پیش کرتی ہے۔ وہ باغ جناح پر پاک فوج  سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک بہت بڑے جلسے سے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کررہے  تھے۔ الطاف حسین نے کہاکہ پاک فوج دہشت گردی اور دہشت گردوں سے نبردآزما ہے  اس پر  میں جوانوں کو شاباش  اور پاک فوج  کو سلیوٹ کرتا ہوں۔ اجتماع میں موجود لاکھوں شرکاء نے کھڑے  ہوکر  پاک فوج کو سلیوٹ پیش کیا۔ انہوں نے  پرزور انداز میںکہاکہ ملک میں جلد انقلاب آنے والاہے۔ انہوں نے  کہا کہ مقدمہ  چلانا ہے کہ  تو مشرف کے ساتھیوں پر بھی  چلایا جائے  اور پرویز مشرف کے پڑوس میں گھر خالی کروا کر جنرل (ر)  کیا نی کو بندکیا جائے۔ الطاف حسین نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 6 کا اطلاق صرف مشرف پر نہیں بلکہ ان کا ساتھ دینے والوں پر بھی ہوگا۔ اگر کارروائی کرنی ہے تو پھر جنرل مشرف کے گھر کے برابر میں ایک نئی آرمی بستی قائم کردی جائے جہاں آرٹیکل 6ABC کی خلاف ورزی کرنے والوں کو رکھا جائے۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ پوری قوم دہشت گردی کی اس جنگ میں فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ملکی دولت لوٹنے والوں کی تمام املاک کو ضبط کرلیا جائے اور ان کو انہی ملکوں میں بھیج دیا جائے جہاں انہوں نے لوٹی ہوئی دولت رکھی ہے۔ ایک وزیراعظم کو تو برطرف کیا جاتا ہے، دوسرے وزیراعظم پر مقدمات قائم کئے جاتے ہیں جب مہران کیس یا اسلم بیگ کیس کا ذکر آتا ہے تو یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ اس میں بڑے بڑے شرفا کے نام آجاتے ہیں۔ شرفا کے نام تو فخر سے بتائے جاتے ہیں بتانے میں شرم کیسی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ سپریم کورٹ میں انصاف کا ایسا نظام قائم ہونا چاہئے کہ جس میں امیر کے ساتھ ساتھ غریب کو بھی یکساں رسائی کا حق حاصل ہو۔ ملک سے شیعہ سنی کا جھگڑا ختم کرنے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ الطاف حسین کے خطاب سے قبل لاکھوں افراد نے ایک ساتھ قومی ترانہ پڑھا ۔ ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔ دنیا نے آج دیکھ لیا کہ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ اور دہشت گردوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی اجتماع پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ الطاف حسین نے کہا کہ میں مسلح افواج کو یقین دلاتا ہوں اور کہتا ہوں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن عناصر نے ملک میں فرقہ واریت کے بیج بوئے۔ الطاف حسین نے کہا کہ دہشت گردوں کو بہت موقع دیا گیا اور ان کو وقت دیا گیا کہ وہ آئین و قانون کی پاسداری کریں لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو شریعت نافذ کرنی ہے یا سیاسی جماعت بنانی ہے یا کسی مذہبی جماعت کو اپنے نظریات یا منشور کا پرچار کرنا ہے تو وہ آئین وقانون کے دائرہ کار میں کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو کلاشنکوف اور ڈنڈے، بدمعاشی اور تلوار کے ذریعے اپنی خود ساختہ شریعت یا نظریہ دوسروں پر مسلط کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ الطاف حسین نے کہا کہ آج پوری پاکستانی قوم اور مسلح افواج ایک پیج پر ہے اور اب پہلے ملک سے دہشت گردوں کا صفایا ہو گا، پھر بیرون ملک رکھی رقوم لاکر ان سے ادارے اور ہسپتال قائم کردیئے جائیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ دوہرا نظام تعلیم ختم ہوگا۔ شیخ صاحب کو ذمہ داری دیدوں گا کہ جو دو نمبر، تین نمبر کے سکول چلائیں، ان سے نمٹا جائے۔ شیخ صاحب جیلوں میں جانا تو ہمارا کام ہے۔ میں نے تو برطانیہ کے پولیس لاک اپ بھی دیکھ لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف پر ملک میں آرٹیکل 6 کے تحت ایک مقدمہ چل رہا ہے، اس مقدمے میں جو قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، اس پر کہوں گا کہ آرٹیکل 6 صرف آرٹیکل 6نہیں ہوتا۔ آرٹیکل 6A بھی ہوتا ہے ، 6B بھی ہوتا ہے اور 6C بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ  پرویز مشرف کو ضرور پھانسی دیجئے لیکن وہ تو جہاز میں تھے۔ نیچے گرائونڈ پر جنہوں نے وزیراعظم کو گرفتار کیا یا جنہوں نے اقتدار پر قبضہ کیا تو کیا وہ اس کی زد میں نہیں آئیں گے۔ مقدمہ چلانا ہے تو پرویز مشرف کے برابر میں ایک گھر خالی کراکر جنرل کیانی کو بھی وہاں بند کردیں اور جو شریک کار تھے ان کیلئے بھی اریب قریب مکان ڈھونڈ لیں۔ ایک بستی نئی بنا دیں۔ اس آرمی بستی میں آرٹیکل 6ABC کے مرتکب افراد کو رکھا جائے۔ چیف آف آرمی سٹاف، ان کی ٹیم، ایک ایک افسر اور جوان کو سلام پیش کرتا ہوں جو جان ہتھیلی پر رکھ کر وزیرستان میں آپریشن کررہے ہیں۔ ایم کیوایم پاکستان میں جاگیردارانہ، وڈیرانہ، سردارانہ نظام کے بغیر جمہوری نظام چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دروازہ صرف دولت مند ہی نہیں کھٹکھٹا سکیں بلکہ انصاف کا ایسا نظام قائم ہونا چاہئے کہ جہاں ایک غریب آدمی بھی سپریم کورٹ کا دروازہ انصاف کے حصول کیلئے کھٹکھٹا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی کا مسئلہ ختم کرانے میں، میں35سال سے کردار ادا کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کاروکاری اور ونی کو ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ایک وقت کا کھانا  آئی ڈی پیز کو دیں یا اس کے مساوی رقم چندے کی صورت میں انہیں بھیجیں۔ فوج دشمن کو ہر محاذ پر شکست دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا فوج، رینجرز، پولیس، گورنر سندھ، حکومت سندھ اور پولیس کے جتنے لوگ ہیں انہوں نے آج کے جلسے میں جو تعاون کیا ہے انہیں زبردست سلام اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ امت کی رپورٹ کے مطابق الطاف حسین نے کہا ہے کہ مشرف پر مقدمہ چلانا ہے تو جنرل (ر) کیانی کو بھی شامل کیا جائے۔ آرٹیکل 6کے تحت جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کو بھی مشرف کے ساتھ بند کیا جائے۔ جلسے میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، آل پاکستان مسلم لیگ اور فنکشنل لیگ سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے وفود نے بھی شرکت کی جبکہ کراچی کے علاوہ حیدر آباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں سے بھی بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے کارکنان جلسے میںشریک ہوئے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس اور رینجرز کے علاوہ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے بھی بڑی تعداد میں سکیورٹی فرائض سرانجام دئیے۔ جلسہ عام سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید ، الٰہی بخش سومرو، پیپلزپارٹی کی صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی، احمد رضا قصوری، بزرگ سیاستدان معراج محمد خان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینئر نائب صدر احسان شاہ، حلیم عادل شیخ، رہنما فنکشنل مسلم لیگ کامران ٹیسوری، پاکستان عوامی تحریک رہنما خرم نواز گنڈا پور، ہندو برادری کی منگلا شرما اور مسیحی کمیونٹی کے جے سالک نے خطاب کیا۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرز ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، انجینئر ناصر جمال، رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ جس طرح آج پاک فوج کے ساتھ ایم کیو ایم سینہ سپر ہوکر کھڑی ہوئی ہے وہ عظیم قوم کی نشانی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج فوج کے شانہ بشانہ جو جنگ ایم کیو ایم نے لڑی ہے اس سے حب الوطنی کا حق ادا کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاک فوج جو ملک کے کئی محاذ پر لڑ رہی ہے ان کے ساتھ تمام قوم کی دعائیں ہیں۔ وہ ریاست ریاست نہیں ہوتی جس کی سرحدیں غیر محفوظ ہوں، شمالی وزیرستان میں اسی طرح فوج کو کامیابی ہوگی جس طرح سوات اور جنوبی وزیرستان میں ہوئی ہے۔الطاف حسین نے تاریخی اجتماع میں اپنے خطاب کا اختتام ان اشعار سے کیا:
آج بھی منزلوں پر لگی ہے نظر
دل میں رکھتے ہیں عزم سفر آج بھی
دل شکستہ نہ سمجھے زمانہ ہمیں
اپنی ہمت ہے سینہ سر آج بھی
وفا کرو گے وفا کریں گے
جفا کرو گے جفا کریں گے
پیار کرو گے پیار کریں گے
کرم کرو گے کرم کریں گے
ستم کرو گے ستم کریں گے
ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے
جو تم کرو گے وہ ہم کریں گے
الطاف حسین

الطاف حسین/ جلسہ