اگست میں ’’انقلاب مارچ‘‘ کی منظوری، حکمرانوں کی رخصتی چند قدم دور ہے: طاہرالقادری

اگست میں ’’انقلاب مارچ‘‘ کی منظوری، حکمرانوں کی رخصتی چند قدم دور ہے: طاہرالقادری

لاہور (خصوصی نامہ نگار + نوائے وقت رپورٹ) پاکستان عوامی تحر یک کی سنٹرل ایگزیکٹو کونسل نے اگست میں ’’انقلاب مارچ‘‘ کی منظوری دیدی ہے تاہم حتمی تاریخ کا اعلان ہم خیال جماعتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ’’انقلاب مارچ‘‘ کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا اجلاس میں مارچ کے انتظامات اور مختلف جماعتوں سے رابطوں کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کونسل کے ارکان نے انقلاب مارچ کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ ذرائع کے مطابق انقلاب مارچ کے لئے اگست کا دوسرا ہفتہ زیر غور ہے۔ اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ’’یوم انقلاب‘‘ ہر صورت ہوگا صرف تاریخ طے کرنا باقی ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت ہماری جدوجہد میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ عوامی تحریک کے کارکنوں نے جانوں کے نذرانے پیش کرکے انقلاب کی عمارت کو مضبوط بنیادیں فراہم کردی ہیں۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ملک میں عوام کا حق حکمرانی ہوگا۔ عوامی تحریک کے انقلاب کی کال سے قبل ہی حکمرانوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اور وہ حواس باختہ ہوچکے ہیں۔ دریں اثناء ایک انٹرویو میں ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ’’یوم انقلاب‘‘ اور حکمرانوں کی رخصتی چند قدم دور ہے‘ حکمرانوں کے اقتدار کو ایک یا2 ورزاء کی قربانی نہیں بچاسکتی‘ ہم ملک دشمن اور کر پٹ حکمرانوں کو اقتدار کے ایوانوں سے جیلوں میں ڈالیں گے‘ ہمیں اللہ تعالی اور عوام کے سوا کسی کے ’’سہارے‘‘ کی ضرورت نہیں‘ سانحہ منہاج القرآن کے ذمہ دار حکمرانوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا اور تاریخ انکو کبھی معاف نہیں کر یگی‘ حکمرانوں میں اتنی جرات نہیں کی وہ ہمیں نظر بند یا گرفتارکریں ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں‘ پنجاب حکومت اب بھی ہمارے کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ مسلم لیگ ن کے کرپٹ اقتدار کو ختم ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی جب ہم ملک میں یوم انقلاب کی تاریخ کا حتمی اعلان کرینگے اس دن سے ہی حکمرانوں کیلئے الٹی گنتی شروع ہو جائیگی۔ دریں اثناء مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما ممتاز علی بھٹو اور طاہر القادری کے درمیان رابطوں میں اضافہ ہوا ہے، طاہر القادری نے ممتاز بھٹو کو اپنی انقلابی تحریک میں شمولیت کی دعوت دے دی۔ ممتاز بھٹو نے ایک بار پھر سابق جماعت سندھ نیشنل فرنٹ کی بحالی کا اشارہ بھی دیا۔ ممتاز بھٹو کی رہائش گاہ پر پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور کی سربراہی میں 8 رکنی وفد نے ملاقات کی اور ممتاز بھٹو کو ڈاکٹر طاہر القادری کا خاص پیغام پہنچایا۔ وفد نے کہا کہ ملک کو بچانے کے لئے آپ جیسے اصول پرست نظریاتی شخصیت کے اہم کردار کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں انقلاب کے لئے عمران خان، طاہر القادری اور ممتاز علی بھٹو کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ ممتاز علی بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں نظام کی تبدیلی عوامی تحریک کی ہی نہیں بلکہ 20کروڑ عوام کی بھی خواہش ہے۔ وہ جلد اپنی سابقہ پارٹی سندھ نیشنل فرنٹ کی سینٹرل کمیٹی کا اہم اجلاس بلا رہے ہیں، جس میں آئندہ کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ اس میں ڈکٹر طاہر القادری کی انقلابی تحریک کو بھی زیر غور لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چوروں سے پائی پائی کا حساب لینے کی بات کرنے والے بھائی بھائی بن گئے ہیں لیکن ہم نے اصولوں اور سچائی کے بغیر ملنے والا اقتدار نہ کبھی پہلے قبول کیا نہ ہی قبول کریں گے۔ موجودہ حکمران بھی الیکشن میں کئے گئے عوام سے وعدوں سے منحرف ہو گئے ہیں۔ نواز شریف نے نوڈیرو میں ہزاروں لوگوں کے جلسے میں شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کی ایف آئی آر درج کرانے کا وعدہ کیا تھا جسے پورا کرنے کے لئے کونسی خفیہ مفاہمت آڑے آ رہی ہے۔
طاہر القادری