وزیر اعلی پنجاب فوری طور پر استعفی دیں : زرداری، طاہر القادری

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
وزیر اعلی پنجاب فوری طور پر استعفی دیں : زرداری، طاہر القادری

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا ذمہ دار راناثناءاللہ کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ کی حکومت کے خلاف پہلے بیان پھر ایکشن سامنے آیا ہے ، باقرنجفی رپورٹ میں شہبازشریف کوواضح طورپرقاتل ڈکلیئرکیا جبکہ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے آنکھیں نہیں موڑ سکتی ، ہم پہلے دن کے ساتھ شہدا کے ساتھ کھڑے ہیں ، جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے بعد ہم شہباز شریف کو برداشت نہیں کریں گے ، ان کے خلاف لڑیں گے ،وزیر اعلی پنجاب فوری طور پر استعفی دیں اور عدالت میں پیش ہوں، عدالت انہیں ضمانت دے یا نہ دے اس کے بعد کا لائحہ عمل بعد میں طے کریں گے۔تفصیلات کے مطابق ، سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی لاہور میں ملاقات ہوئی ہے ۔آصف زرداری خود چل کر پاکستان عوامی تحریک کے مرکز منہاج القرآن پہنچ گئے، دونوں رہنماوں کی ملاقات دو گھنٹے جاری رہی ۔اس موقع پر آصف علی زرداری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، شہدا کے لواحقین اور عوامی تحریک کے ساتھ تھے اور ہیں۔انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون افسوسناک ہے، جو قصور وار ہیں انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے ۔سابق صدر آصف زرداری کو فائرنگ کی جگہ بھی دکھائی گئی، اس موقع پر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا کر تھک گئے لیکن امید کا دامن نہیں چھوڑا ۔ملاقات کے بعد دونوں رہنماوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی، اس موقع پر علامہ طاہر القادری نے کہا کہ جنازوں سے جسٹس باقرنجفی کی رپورٹ تک پیپلزپارٹی ہمارے ساتھ کھڑی رہی۔انہوں نے کہا کہ باقرنجفی رپورٹ میں شہبازشریف کوواضح طورپرقاتل ڈکلیئرکیا ہے،رپورٹ اتنی کلیئرہے شہباز شریف،پنجاب حکومت کواس خون کی ہولی کاذمے دارٹھہرایا۔طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ہے انسان جھوٹ بول سکتےہیں حالات ،واقعات نہیں ، ہم اندھیر نگری نہیں چاہتے، رانا ثنا اللہ اس آپریشن کے انچارج تھے۔انہوں نے امریکی صدر کی جانب سے القدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ کل ایک بین الاقوامی سانحہ رونما ہوا ہے ،آج قیام امن کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے فیصلے سے مسلمانان عالم مایوس ہوئے ہیں ، امریکی صدر ٹرمپ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں ، ٹرمپ کا فیصلہ مشکلات میں اضافہ کرے گا ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ یہ صرف مسلمانوں کانہیں عالمگیر سطح پرانسانی مسئلہ ہے، امریکی فیصلے سے مشکلات آئیں گی،تشدد میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی عوام کو خود مختار ریاست دی جانی چاہیے ،امریکا اس فیصلے سے عالمی برادری میں تنہائی کا شکار ہوگیا ہے۔طاہرالقادری نے یہ بھی کہا کہ پوپ اور یورپین لیڈرز نے بھی امریکی فیصلے کی مذمت کی، ہم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہماری جماعت سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے آنکھیں نہیں موڑ سکتی ، ہم پہلے دن کے ساتھ شہدا کے ساتھ کھڑے ہیں ، جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کے بعد ہم شہباز شریف کو برداشت نہیں کریں گے ، ان کے خلاف لڑیں گے ،وزیر اعلی پنجاب فوری طور پر استعفی دیں اور عدالت میں پیش ہوں، عدالت انہیں ضمانت دے یا نہ دے اس کے بعد کا لائحہ عمل بعد میں طے کریں گے۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹان ظلم کی ایک بدترین مثال ہے ، اب ہم شہباز شریف کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور ان کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے۔ سانحہ ماڈل ٹان کے بعد میرا خیال نہیں ہے کہ انہیں پنجاب میں ہتھکڑیاں لگ سکتی ہیں لیکن میرا یقین ہے کہ انہیں سزا ضرور ملے گی۔ اس وقت پاکستان پر 56ارب روپے قرض کا بوجھ لاددیا گیا ہے، موجود ہ حکومت کا دور اقتدار ملک کے لئے بدترین تھا۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی اس حکومت کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔آصف زرداری کا مزید کہناتھا کہ علامہ صاحب سے ہماری پرانی وابستگی ہے، سانحہ ماڈل ٹان کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے جہاں ضرورت ہوئی اپنی آواز اٹھائی ہے۔ہم علامتی طور پر طاہر القادری کے اصولی مقف کے ساتھ ہیں ، علامہ صاحب سے کوئی سیاسی ڈیل نہیں کی ،اگر علامہ صاحب سیاسی ڈیل کا کہیں گے تو کرلیں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ طاہر القادری کنٹینر پر بیٹھنے کے لئے اگر مجھ سے مطالبہ کریں گے تو میں بھی ان کے شانہ بشانہ چلوں گا۔ اس وقت پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے اور ہم نے اس دہشت گردی کے شہادتیں دی ہیںملک کے تمام موجودہ مسائل کو صرف سیاسی قوتیں ہی حل کرسکتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ، ان کا کہنا تھا کہ خوش آئند بات ہے یورپ ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے مذمت کی ہے، ہم پارلیمنٹ اور دیگر فورمز پر اس حوالے سے آوازبلند کریں گے ۔