ٹھٹھہ: زائرین کی کشتی الٹنے سے 16 افراد جاں بحق، 35 زخمی

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
ٹھٹھہ: زائرین کی کشتی الٹنے سے 16 افراد جاں بحق،  35 زخمی

ٹھٹھ کے ساحلی علاقے بوہارہ میں زائرین کی کشتی الٹنے سے 16 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ کشتی میں خواتین اور بچوں سمیت 60 سے زائد زائرین سوار تھے اور نیو بھٹائی پیر میلے میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔ کشتی الٹنے کی اطلاع ملنے پر ضلعی انتظامیہ کے علاوہ ایدھی ویلفیئر کی ریسکیو ٹیمیں بھی موقع پر پہنچیں اور امدادی کام شروع کیا۔ ایدھی ویلفیئر کے ذرائع کے مطابق ڈوبنے والے 15افراد کی نعشوں کو نکال کر سول ہسپتال گھارو پہنچادیا گیا ‘ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق زائرین جس کشتی میں سوار ہوئے اس میں تقریباً 200 افراد کی گنجائش تھی لیکن کنارے پر تیز ہوا اور مسافروں کی جلدبازی کے باعث کشتی الٹ گئی۔ حادثے کے بعد کئی افراد کنارے پر ہی پانی میں ڈوبے جن میں بعض افراد کی ہلاکت کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ کے مطابق سمندر میں ڈوبنے والے 47 افراد کو بچا لیا گیا۔ پاک فوج کے غوطہ خوروں نے بھی امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ پاک بحریہ کا ریسکیو اور میڈیکل سٹاف امدادی کاموں میں مصروف رہا۔ جاں بحق افراد میں 6 مرد، 5 بچے اور 5 خواتین شامل ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ٹھٹھہ کے حکام کا کہنا ہے ساحلی علاقے میں دو کشتیاں ٹکرانے کے باعث حادثہ ہوا۔ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ نے وزیراعلی سندھ کو ابتدائی رپورٹ میں بتایا ہے 16 نعشیں نکالی گئی ہیں اور 20 سے زیادہ لوگوں کو بچایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے دو کشتیاں جن میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار تھے میھو پٹائی کی مزار پر جا رہے تھے کہ تیز ہوا کے باعث کشتیاں آپس میں ٹکرا گئیں اور یہ واقعہ پیش آیا۔ شیخ زید ہسپتال میرپور ساکرو کے ڈاکٹر گل میمن نے بتایا ان کے پاس 16 نعشیں اور 35 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 30 سے زیادہ کو کراچی اور ٹھٹھہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کمشنر حیدر آباد کو ریسکیو کا کام تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔ پولیس کے مطابق زائرین درگاہ کے میلے میں شرکت کے لئے جا رہے کہ بوھارا کے قریب سمندر میں کشتی الٹ گئی۔ کشتی میں سوار افراد کا تعلق کراچی کے علاقے گڈاپ، میمن گوٹھ اور شیدی گوٹھ سے ہے۔ ایس ایس پی ٹھٹھہ کے مطابق کشتی والے نے بہت زیادہ لوگوں کو کشتی میں بٹھا لیا۔ جس کی وجہ سے کنارے کے قریب ہی کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا، تاہم 52 مسافروں کو باہر نکال لیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ٹھٹھہ کے قریب کشتی الٹنے کے واقعے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے سندھ حکومت اور انتظامیہ ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیز کریں۔ ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ ناصر بیگ نے بتایا بدقسمت کشتی میں خواتین اور بچوں سمیت 60 افراد سوار تھے جو ٹھٹھہ کے قریبی علاقے بوھارا میں دریا پار پیرپٹھائی کے مزار پر حاضری کے لئے جا رہے تھے۔ ایک این جی او پاک فشرفوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ نے کہا ہے کشتی میں 100 سے زائد افراد سوار تھے جبکہ یہ کشتی جیٹی پر اپنا توازن کھو جانے کی وجہ سے الٹ گئی۔ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے ٹھٹھہ کے قریب سمندر میں کشتی الٹنے کے واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلی نے کہا میری اور پنجاب حکومت کی تمام تر ہمدردیاں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہیں اور ہم غم کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔