برسر اقتدار آئے تو چین سے شراکت داری کو دوسرے ممالک پر ترجیح دینگے: عمران

لاہور (سٹاف رپورٹر) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ برسر اقتدار آئے تو انکی حکومت دیگر ممالک کی نسبت چین کو شراکت داری میں ترجیح دے گی۔ اسی لئے وہ لاہور میں 30 اکتوبر کے کامیاب جلسے کے بعد چین گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی کو مقدس گائے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس ملک کی تباہی کی ذمہ دار سیاسی جماعتوں کی طرح بعض فوجی جرنیل بھی ہیں۔ ہفت روزہ نیوز ویک کو خصوصی انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ برسراقتدار آ گئے تو دفاعی بجٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے لائیں گے۔ ہم قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں فوجی آپریشن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کسی کا کٹھ پتلی نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے بیشتر بڑے سیاستدان سیاست کے ذریعے پیسہ بناتے اور پھر اس پیسے کو محفوظ کرنے کیلئے سیاست کا سہارا لیتے ہیں۔ نیوز ویک نے عمران خان کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی کرشماتی شخصیت میں وہ جادو ہے جو بکھرے ہوئے پاکستان کو یکجا کر سکتا ہے وہ جرات اور دلیری کے ساتھ مخالف جماعتوں کا سامنا بھی کر سکتے ہیں۔ کون ایسا سیاستدان ہو گا جو اپنے جلسے میں موسیقی کیساتھ لطف اندوز ہو اور پھر نماز بھی پڑھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کو چاچی کلنٹن کہنے والے عمران خان کے بڑے مداحوں میں پاکستان میں امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر بھی شامل ہیں۔ عمران خان کی سحرانگیز شخصیت اور لاہور کے کامیاب جلسے نے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ق لیگ کی صفوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ جو ان پارٹیوں کے ارکان کو وفاداریاں تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، جس کے بعد عمران کے نام پر سیاسی کھمبوں کے منتخب ہونے میں کوئی کمی نہیں رہے گی۔آئی این پی کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کرپشن سے تنگ عوام سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار ہیں۔ بلدیاتی نظام عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ضروری ہے، اسحاق ڈار کوئی فلاسفر یا پالیسی میکر نہیں بلکہ محض اکاﺅنٹنٹ ہیں۔ طالبان کو راہ راست پر لانے کیلئے وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا زمین لینے کیلئے میں نے بیوی سے پیسے ادھار لئے بعد میں طلاق ہو گئی تو جمائما نے زمین مجھے تحفے میں دیدی۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں غربت کے خاتمے کیلئے چین کی کمیونسٹ پارٹی سے مدد لے رہے ہیں، ان کی ٹیمیں جلد پاکستان پہنچ جائیں گی۔