سندھ اسمبلی: الطاف کے بیان کے خلاف قرارداد کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا دوسرے روز بھی ہنگامہ

سندھ اسمبلی: الطاف کے بیان کے خلاف قرارداد کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن کا دوسرے روز بھی ہنگامہ

کراچی + لاہور (نوائے وقت نیوز+ صباح نیوز) سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے روز بھی ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیان کیخلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے شدید ہنگامہ کیا جس کے باعث ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ سپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت اجلاس کے دوران مسلم لیگ فنکشنل، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے الطاف حسین کیخلاف قرار داد پیش کرنے کی کوشش کی۔ تا ہم سپیکر نے کہا کہ قرار داد ٹیک اَپ کرنے کی مدت 7 روز ہوتی ہے فوری ٹیک اپ کرنے کا مطالبہ اور مجھے ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس دوران سپیکر آغا سراج درانی اور فنکشنل لیگ کے رکن شہریار مہر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے کہا کہ سپیکر کی رولنگ آخری ہوتی ہے کچھ لوگ پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں۔ جس پر فنکشنل لیگ، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ارکان نے بیک وقت بولنا شروع کر دیا۔ ایوان شور شرابے کے باعث مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ نثار کھوڑو اور اپوزیشن ارکان میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ اپوزیشن ارکان نے وزیرتعلیم کے خطاب کے دوران شدید احتجاج کرتے ہوئے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے۔ قبل ازیں نثار کھوڑو نے کہا کہ ٹی وی پر آکرمیری پارٹی کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں، یہ پیپلز پارٹی ہی تھی جو آمروں کے ساتھ نہیں تھی۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد پیش کی یہ جماعت سندھ کا تحفظ کرنا جانتی ہے۔ سپیکر نے نثار کھوڑو کو دوا لینے کا مشورہ بھی دے ڈالا۔ علاوہ ازیں پنجاب اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے الطاف حسین کے فوج سے متعلق بیان کے خلاف قرارداد جمع کرا دی۔ قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن راحیلہ خادم حسین نے پنجاب ا سمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی۔ قرارداد میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ الطاف حسین کا مسلح افواج کیخلاف شرانگیز پروپیگنڈا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ملک کے دفاع کیلئے افواج نے لازوال قربانیاں دی ہیں، پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی پر الطاف حسین کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس سے پہلے پنجاب اسمبلی میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے بھی الطاف حسین کے خلاف قراردادیں جمع کروا رکھی ہیں۔