جوڈیشل کمشن کا اجلاس، دوسرے صوبوں میں بھی تھیلے کھولنے کا حکم دے سکتے ہیں: چیف جسٹس

جوڈیشل کمشن کا اجلاس، دوسرے صوبوں میں بھی تھیلے کھولنے کا حکم دے سکتے ہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ایجنسیاں) مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمشن نے نگران دور حکومت میں پنجاب کے چیف سیکرٹری جاوید اقبال، ایڈیشنل چیف سیکرٹری رائو افتخار اقبال، سابق صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب کو آج بدھ کو طلب کرلیا گیا ہے جن پر پی ٹی آئی اور دیگر فریق وکلاء جرح کریں گے۔ سربراہ کمشن نے کہا کہ آج پیش ہونے والے گواہ دوبارہ پیش نہیں ہوں گے، کس کو بطور گواہ بلانا ہے کس کو نہیں، یہ کمشن کا اختیار ہے۔ ووٹوں کے تھیلوں کو پہنچنے والے نقصان کے قانونی اثرات کا جائزہ لیں گے۔ تحریک انصاف نے اپنا پہلا گواہ اور دستاویزات پیش کردیں، کمشن نے گواہ اسحاق خاکوانی پر جرح روکتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کو کہا کہ وہ اپنے اپنے سوالات نوٹ کروا دیں اور دستاویزات مارک اینڈ ایگزبٹ کرلیں جبکہ جرح، دستاویزات کی درستگی اور صحت سے متعلق کمشن بعد میں فیصلہ کرے گا جس پر مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، الیکشن کمشن نے اپنے اپنے تحفظات پر مبنی سوالات نوٹ کروا دیئے، پی ٹی آئی کی جانب سے فریقین کو دستاویزات کی کاپی نہ دینے پر چیف جسٹس کا اظہار برہمی، قرار دیا کہ یہ عام عدالت نہیں کمشن ہے جس کا طریقہ کار مختلف ہے فریق سیاسی جماعتوں کو دستاویزات تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ مسلم لیگ ن کے وکیل شاہد حامد نے بتایا کہ انہیں پی ٹی آئی کی جانب سے کمشن میں جمع کروائی گئی دستاویزات کی نقول فراہم نہیں کی گئی ہیں وہ دلائل نہیں دے سکیںگے کمشن کچھ مہلت دے، جس پر پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیر زادہ نے کہا کہ چونکہ انہوں نے پی ایم ایل این کو اپنی درخوست میں فریق نہیں بنایا تھا اس لئے انہیں دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔ پی ایم ایل این کو کمشن نے فریق بنایا ہے اس لئے انہیں دستاویزات فراہم کردی جائیں گی۔ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ فریق سیاسی جماعتوں کو تمام دستاویزات تک رسائی کا حق حاصل ہے،کمشن میں سماعت کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ یہ کمشن ہے، عدالت نہیں ہے اس لئے یہاں پر قانون شہادت لاگو نہیں ہوگا، جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ جہاں تک ان دستاویزات کا تعلق ہے کمشن کی فائنڈنگ میں ان دستاویزات کے دھاندلی کے الزامات سے تعلق کو دیکھا جائے گا۔ انہوں نے شاہد حامد کو کہا کہ انہیں اگر کوئی اعتراض ہے تو وہ اسے داخل کردیں، الیکشن کمشن کے وکیل نے کہا کہ انہیں یہ دستاویزات آج ہی ملی ہیں، شاہد حامد نے کہا کہ گواہ اسحاق خاکوانی نے یہ دستاویزات جمع کروائی ہیں لیکن کسی دستاویز پر ان کے دستخط موجود نہیں ہیں۔ شاہد حامد نے بیان حلفی کے تحت گواہ سے حلف لیا اور 5 اعتراضات اٹھائے۔ انہوں نے گواہ سے پوچھا کہ انہوں کس حیثیت سے دستاویزات جمع کروائی ہیں، ذاتی حیثیت میں یا پارٹی کی جانب سے اور ریکارڈ کہاں سے حاصل کیا ذاتی طور پر یا پارٹی نے آپ کو دیا؟ جمع کروائی گئی دستاویزات کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ پی ٹی آئی کا وائٹ پیپر تو 21اگست 2013 کا ہے کیا یہ گواہ خاکوانی نے تحریر کیا ہے ؟چیف جسٹس نے کہا وہ ایسے سوالات نہ کریں کیا کمشن اب سماعت ان کیمرہ کرے؟آپ صر ف دستاویزت ایگزیبٹ کریں،شاہد حامد نے کہا کہ وہ تو تین چار ہزار ہیں ایک ایک صفحہ کو ایگزبٹ کرنا بہت طویل پراسس ہے۔ جسٹس امیرہانی نے کہا کہ وائٹ پیپر والیم کو آپ ایک کائونٹ کریں اسی طرح دوسری چیزوں کو بعد ازاں چیف جسٹس نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ سماعت کے بعد فریقین وکلاء کمیشن کے اسسٹنٹ کے ساتھ مل کردستاویزات ایگزبٹ کرلیں،اگر اس طرح ایک ایک کاغذ کو چیک کیا اور جرح کی تو بہت وقت لگ جائے گا سیاسی جماعتوں کے وکلاء اپنے اپنے اعتراضات پر مبنی سوالات نوٹ کروا دیں۔ شاہد حامد ایک ایک دستاویز پر اعتراض کی بجائے دستاویزات ایگزبٹ ہونے کے بعد ایک ہی دفعہ اعتراضات داخل کروا دیں۔ شاہد حامد نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وائٹ پیپر میں واضح نہیں ہے کہ دھاندلی کس نے کی ہے، کمشن نے فریقین کو دستاویزات کے ایگزبٹ یا مارک ہونے کا جائزہ لینے کے لئے 15منٹ کا وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قانونی حیثیت کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ پی پی پی کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ صرف 65 حلقوں کے بیگز کھول لئے جائیں، تو کمشن نے کہا کہ اس سلسلہ میں اس حلقہ سے انتخابات میں حصہ لینے ولے امیدواروں کو نوٹسز جاری کر دیئے گئے ہیں، اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ یکطرفہ ٹریفک چلادی گئی ہے شاید میںبھی درخواست دے سکتا ہوں کہ ایم کیوایم نے 10، پاکستان مسلم لیگ نے اور پی ٹی آئی نے 20،20حلقوں میں دھاندلی کی ہے،اعتزاز نے کہ اکہ جان بوجھ کر فارم 14 کو خراب کیا گیا، اب پہلاسوال یہ ہے کہ دھاندلی کیسے کی گئی، دوم کس کس نے کی اور سوم کس کے حکم پر کی گئی تھی ؟انہوںکہا کہ اگر بیگ کھول دئے جائیں تو شاید ری کائونٹنگ کی ضرورت بھی نہ رہے،عتزاز احسن نے سعدرفیق کے حلقہ125کا معاملہ اٹھایا کہ اسے بھی شامل کیا جائے یا کمشن کا فیصلہ ہونے تک ضمنی انتخابات کو روکا جائے چیف جسٹس نے کہا کہ وہ الگ معاملہ ہے اور کمیشن میں زیر بحث نہیں اسے اس میں نہ گھسیٹیں۔ عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اخباری تراشوں اور دیگر چیزوں کو بھی بطور ثبوت پیش کیاجاسکتا ہے اور ہم نے جتنا بھی ریکارڈ جمع کرایا ہے وہ سب الیکشن کمشن کی ویب سائٹ سے حاصل کیا گیا ہے اس کے علاوہ 9 ویڈیوز بھی جمع کروائی گئی ہیں جن میں یہ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح لوگ جعلی ووٹ پول کررہے ہیں۔ کمشن نے کہا کہ مسلم لیگ ن اعتراضات تحریری طور پر جمع کرائے، کمشن کا وقت ضائع نہ کیا جائے، سربراہ کمشن نے کہا کہ تھیلے کھولنے کے حوالے سے اعتزاز کی درخواست کا جائزہ بعد میں لیا جائے گا۔ کمشن دوسرے صوبوں میں بھی تھیلے کھولنے کا حکم جاری کرسکتا ہے۔مسلم لیگ ن کی لیگل ٹیم کے سربراہ شاہد حامد نے جوڈیشل کمشن سے استدعا کی ہے کہ اگر حلقے کھولنے ہیں تو پورے ملک سے کھولے جائیں کون سے حلقے کھولے جائیں اس کا فیصلہ اعتزاز احسن نہیں خود کمشن کرے گا۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کمشن میں ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب دستاویزات جمع کروائی جاچکی ہیں جو دھاندلی کے واضح ثبوت ہیں۔