پاکستان سے اجازت ملنے کے بعد افغانستان میں اتحادی فورسز کو کراچی سے فضائی روٹ کے ذریعے فوجی سازوسامان کی ترسیل شروع

پاکستان سے اجازت ملنے کے بعد افغانستان میں اتحادی فورسز کو کراچی سے فضائی روٹ کے ذریعے فوجی سازوسامان کی ترسیل شروع

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) وزارت دفاع نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت کراچی سے  اتحادی  فورسز کے لئے فوجی سازوسامان کی باقاعدہ  فضائی ترسیل شروع کر دی گئی ہے، پہلی کمرشل پرواز کراچی سے پندرہ گاڑیاں لے کر بگرام ایئربیس پہنچ گئی، دوسری جانب ایف بی آر نے جناح ایئرپورٹ سے 1628امریکی، نیٹو اور ایساف کی گاڑیوں کے لئے فضائی کارگو کی سہولت مہیا کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق کراچی سے افغان فورسز کے لئے پہلی کمرشل پرواز 15 گاڑیاں لے کر فوجی سازوسامان کی ترسیل کے لئے گئی۔ اس موقع پر سیکرٹری دفاع آصف یٰسین ملک بھی موجود تھے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت یہ پروازیں کمرشل ہیں۔ فضائی ترسیل کی اجازت کا مقصد افغان سکیورٹی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ فضائی ترسیل کی اجازت سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ افغان فورسز کے لئے فوجی سازوسامان کی ترسیل کا آپریشن آئندہ چند ہفتوں تک جاری رہے گا۔ ایف بی آر کے اعلامیہ کے مطابق امریکی، نیٹو اور ایساف کی گاڑیوں کے لئے فضائی کارگو کی سہولت کا فیصلہ کر کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن وزارت دفاع کی تجویز پر جاری کیا گیا۔ اتحادی افواج کی جناح ایئرپورٹ سے 1628 گاڑیوں کو جناح ایئرپورٹ سے فضائی راستے سے بھیجنے کی اجازت دی گئی ہے۔ گاڑیاں بھیجنے کی سہولت صرف ایک دفعہ کے لئے دی گئی ہے۔ امریکی قونصلیٹ کراچی کارگو کی ڈیلیوری کی تصدیق تیس دن میں فراہم کرے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ایساف اور نیٹو فورسز کو ہوائی راستے سے افغانستان سامان بھیجنے کی اجازت دی ہے ۔ اس سے پہلے پاکستان سے صرف زمینی راستے کے ذریعے یہ سامان بھیجا جاتا تھا۔ جولائی 2012 ء میں اس بات کی منظوری دی گئی تھی کہ افغانستان کو فضائی راستے کے ذریعے پاکستان کے راستے نیٹو اور ایساف اپنا سازوسامان بھیج سکتی ہیں اسکا آغاز باقاعدہ طور پر ہو گیا ہے۔ اس آپریشن کو ملٹی ماڈل آپریشن کا نام دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ دوطرفہ لاجسٹک سپورٹ ہے جس میں پاکستان امریکہ کو اپنی فضائی مدد فراہم کرے گا، اس ترسیل میں سامان افغانستان سے لایا بھی جائے گا اور منتقل بھی کیا جائے گا اس حوالے سے جناح ایئرپورٹ پر تقریب ہوئی جس میں سیکرٹری دفاع (ر) جنرل یاسین ملک شریک ہوئے۔ نیٹو سپلائی میں 1628 گاڑیاں افغانستان بھیجی جائیں گی، کسٹمز جنرل آرڈر کے مطابق ہوائی راستے سے گاڑیاں بھیجنے کی اجازت ایک بار ہو گی اس پہلی پرواز میں بھیجی جانے والی گاڑیاں حکومت پاکستان کی جانب سے افغان حکام کے لئے بھیجی گئی ہیں۔ یہ اس ایم او یو کے تحت کیا گیا ہے جو حکومت پاکستان اور امریکہ کی حکومت کے درمیان جولائی 2012ء میں ہوا تھا، زمینی راستے میں سامان کی ترسیل میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں اب معمہ بھی حل ہو جائے گا، آئندہ دنوں میں ان پروازوں کا سلسلہ مزید تیزی سے شروع ہو گا جس کے ذریعے امریکہ اور نیٹو ممالک سے سامان پاکستانی فضائی راستوں سے افغانستان اور افغانستان سے پاکستانی فضائی راستوں کے ذریعے امریکہ اور دوسرے ایساف اور نیٹو ممالک کے منتقل کیا جائے گا اس ترسیل میں فوجی سازو سامان سمیت دوسری اشیاء بھی منتقل کی جائیں گی پاکستان سے افغانستان کو زمینی راستے کے ذریعے سامان کا سلسلہ جاری تھا تاہم فضائی ترسیل کا باقاعدہ آغاز اس کارگو جمبو طیارے میں 15 فوجی گاڑیاں بھیجنے سے ہوا۔