سابق صدر بہانہ بنا کر بھاگنا چاہتے ہیں‘ مشرف پر سنگین الزامات ہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے : حکومت کا سندھ ہائیکورٹ میں جواب

سابق صدر بہانہ بنا کر بھاگنا چاہتے ہیں‘ مشرف پر سنگین الزامات ہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دے سکتے : حکومت کا سندھ ہائیکورٹ میں جواب

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز+ نیٹ نیوز)  وفاقی حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے  انکار کر دیا ہے۔  وفاق کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کو ملک  چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پرویزمشرف کو بیرون ملک جانے کیلئے اگر اجازت چاہئے تو سپریم کورٹ  سے رجوع کیا جائے۔ سپریم کورٹ  کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ  سے  رجوع نہیں کیا جا سکتا۔  وفاق نے کہا ہے کہ ای سی ایل  سے نام نکالے جانے کیلئے دی گئی مشرف  کی درخواست میں خلوص نیت نہیں، مشرف کے خلاف سنگین مقدمات  ہیں جن میں سے کسی کیس میں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ وفاق نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کو اگر علاج  کرانا ہے تو  پاکستان میں انہیں تمام سہولیات دی جا سکتی ہیں۔ انہیں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں، خدشہ ہے کہ سزا کے خوف سے مشرف  مفرور ہو سکتے ہیں۔ ان کا نام ای سی ایل سے  نکالنے کے حوالے سے  سندھ ہائیکورٹ  میں جمع کرائے گئے وفاق  کے جواب  میں کہا گیا کہ  حکومت نے پرویز مشرف کی والدہ  کو علاج کیلئے پاکستان لانے کی بھی پیشکش  کی تھی۔ سندھ ہائیکورٹ  درخواست سننے کا اختیار نہیں رکھتی۔  مشرف کا نام ای سی ایل  میں ڈالنے  کے احکامات  سپریم کورٹ نے دئیے تھے اور  فیصلے کے خلاف  سپریم کورٹ سے ہی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جواب ڈپٹی اٹارنی جنرل زاہد خان نے جمع کرا دیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مظہر علی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے بارے میں دائر درخواست پر وفاقی حکومت سے مئوقف طلب کیا تھا۔ اٹارنی جنرل کے ذریعے دائر کئے گئے جواب میں وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ پرویز مشرف پر بے نظیر بھٹو قتل کیس، نواب اکبر بگٹی کیس، لال مسجد اور آرٹیکل 6کے مقدمات زیرسماعت ہیں۔ وہ ان مقدمات میں عدالتوں کے روبرو پیشی سے فرار چاہتے ہیں۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی درخواست بدنیتی پر مبنی ہے، اگر ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا گیا تو وہ پھر واپس وطن نہیں آئیں گے۔ وفاق کے مطابق ان کو جو مرض لاحق ہے اس کا علاج، ڈاکٹر اور سہولیات پاکستان میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت ان کی والدہ کو بھی وطن لانے اور علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش کر چکی ہے۔ سابق صدر کے وکیل فروغ نسیم نے درخواست میں مئوقف اختیار کیا تھا کہ مشرف نے مختلف عدالتوں سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے، کسی بھی ٹرائل کورٹ نے ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد نہیں کی۔ خصوصی عدالت نے بھی ان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں لگائی، وہ جب چاہے انہیں طلب کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا اور گزارش کی کہ جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے۔ واضح رہے کہ 5اپریل 2013ء کو وزارت داخلہ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل پر اس لئے ڈالا تھا کہ وہ اپنے اوپر دائر مقدمات کا عدالتوں میں سامنا کریں۔ وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ 2002ء کے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی اسمبلی پرویز مشرف کے من پسند لوگوں پر مشتمل تھی۔ سابق صدر نے اپنے دور حکومت میں 3نومبر 2007ء کو غیرقانونی ایمرجنسی نافذ کی۔ بعد میں فوجداری الزامات سے بچنے کے لئے ملک سے باہر چلے گئے۔ اب چونکہ پرویز مشرف کے خلاف چار مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، ان پر لگائے گئے الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ انہیں ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پرویز مشرف کو ان مقدمات میں سزائے موت بھی ہوسکتی ہے۔ سزا ملنے کے احکامات کے پیش نظر پرویز مشرف ملک سے فرار ہوسکتے ہیں اس لئے حکومت پرویز مشرف کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دے سکتی ۔سابق صدر کو بیرون ملک جانا ہے تو وہ سپریم کورٹ سے اجازت لے سکتے ہیں۔ پرویز مشرف پر خصوصی عدالت نے فرد جرم عائد کررکھی ہے۔ اس مرحلے پر ان کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے سے کیس خراب ہوسکتا ہے۔ وہ اب مقدمات کا سامنا نہیں کرسکتے، اس لئے بہانہ بناکر ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ پرویز مشرف کو علاج و معالجے کی تمام جدید سہولیات ملک میں میسر ہیں۔ ان تمام سہولیات کے ہونے کی وجہ سے پرویز مشرف کا ملک سے باہر جانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ان کی درخواست خارج کی جائے۔ سندھ ہائیکورٹ میں داخل کئے گئے جواب کی کاپی پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم کو فراہم کردی گئی ہے۔ کیس کی سماعت 7مئی کوسندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل دو رکنی بنچ کریگا۔
مشرف/ ای سی ایل کیس