ہم نے پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرکے اسے عالم اسلام کا قلعہ بنانا ہے : مجید نظامی

لاہور (خبر نگار خصوصی) تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتاز صحافی اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا تھا ہماری زندگیوں کا مقصد یہاں قرآن و سنت کا نظام نافذ کرنا ہے۔ وہ تقریبات عید میلاد النبیﷺ کے سلسلے میں ایوانِ کارکنانِ تحریکِ پاکستان میں دو روزہ سیرت النبیﷺ کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی سجادہ نشین چورہ شریف پیر سید محمد کبیر علی شاہ تھے۔ تقریب میں مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کے علاوہ گورنمنٹ دیال سنگھ کالج‘ لاہور‘ گورنمنٹ ایم اے او کالج‘ لاہور اور گورنمنٹ کمیونٹی ہائی سکول‘ مزنگ‘ لاہور کے اساتذہ و طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید‘ نعت رسول کریمﷺ اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری امجد علی نے حاصل کی جبکہ محمد ریاض ہجویری نے بارگاہِ نبویﷺ میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے سر انجام دئیے۔ مجید نظامی نے کہا کہ سیرت النبیﷺ کانفرنس کا مقصد اپنا ایمان تازہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت طیبہﷺ پر عمل کرنے کی توفیق بخشے ۔ ہم نے یہ ملک کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا اور اسے اللہ اور رسول اکرمﷺ کے نام پر بنایا تھا۔ ہماری زندگیوں کا مقصد یہ ہے کہ ہم یہاں اللہ اور رسول کریمﷺ کا نظام نافذ کر سکیں۔ حضور اکرمﷺ روشنی کا ایک عظیم مینار تھے جنہوں نے زمانے کی جاہلیت کو ختم کر دیا۔ اگر حضور اکرمﷺ دنیا میں تشریف نہ لاتے تو یہاں وہی زمانہ جاہلیت کی رسوم باقی رہتیں۔ انسانیت میں بھلائی و نیکی کا کوئی شعور نہ ہوتا اور پوری دنیا پر کفر و شرک کے اندھیرے چھائے رہتے۔ ہم نے پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کر کے اسے پورے عالم اسلام کا قلعہ بنانا ہے۔ انہوں نے دو روزہ کانفرنس کے شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایمان کو تازہ کرنا تھا اس مقصد میں ہم کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے کہا کہ حضور اکرمﷺ کا ذکر کرنے سے وقت باوقار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عظمت رسول کریمﷺ اس قدر اعلیٰ و ارفع ہے کہ بچوں سے بوڑھوں تک ناموس رسالتﷺ پر اپنی جان فدا کرنا بہت بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔ بچیوں کی پیدائش سے قبل ہی انہیں ہلاک کرنے کی تہذیب یورپ سے آئی ہے تا کہ نہ مجاہد کی ماں پیدا ہو گی اور نہ مجاہد پیدا ہو گا۔ مجید نظامی علامہ اقبالؒ کے بہت بڑے شیدائی ہیں‘ انہوں نے علامہ اقبالؒ کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ ہمیں صرف شکوے والا اقبالؒ ہی نہیں بلکہ جواب شکوہ والے اقبالؒ کو بھی دیکھنا چاہیے۔ جو نبیﷺ کی ناموس پر مرنے کی تمنا نہیں رکھتا اسے جینے کا حق نہیں ہے۔ آج حصول آزادی کو 62سال ہو گئے ہیں اور وہ جذبہ اور ولولہ جو تحریک پاکستان کے دوران ہمارے درمیان موجزن تھا اسے ماند کرنے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں۔ نئی نسل کو نہ صرف تحریک پاکستان اور اس کے پس منظر سے روشناس کرانے بلکہ یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ جن مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا ان کی تکمیل ابھی باقی ہے۔ طلبہ کو ہمارے بزرگوں حضرت مجدد الف ثانیؒ سے علامہ اقبالؒ ‘ قائداعظمؒ اور تمام مشائخ کی حیات و خدمات کے علاوہ ان اداروں اور تحریکوں سے بھی روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے جنہوں نے اس مملکت پاکستان کے قیام او راستحکام کے لیے کردار ادا کیا۔ ہمارا مسلک شخصیت پرستی نہیں بلکہ نوائے وقت کے ساتھ ہمارے نظریاتی اور قلبی تعلق کی بنیاد دینی اور قومی حمیت کا جذبہ اور رشتہ ہے۔ نظامی کو ان کی دینی ملی قومی اور صحافتی محاذ پر گزشتہ پچاس سالہ خدمات کی بنیاد پر ہم انہیں آبروئے صحافت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے تحریک پاکستان کے بعد تحریکِ ختم نبوت‘ تحریکِ نظامِ مصطفےٰ اور اب تحریک تحفظ ناموس رسالتﷺ میں کلیدی کردار ادا کر کے سچے عاشق رسولﷺ ہونے کا ثبوت دیا ہے جس پر پوری قوم بالخصوص پاکستان بھر کے مشائخ ان کے سپاس گزار ہیں۔ مشائخ نے ہر دور میں مخلوق خدا کی روحانی تربیت کی ہے اس طرح آج بھی اشد ضرورت ہے کہ وطن عزیز کے مشائخ عظام منظم ہو کر فعال کردار ادا کر کے پاکستان کو عشق رسولﷺ‘ پیار محبت و ایثار‘ مروت محبتوں کی سر زمین بنا دیں۔ غیر اسلامی رسومات کو ختم کرنے کے لیے مشائخِ عظام‘ علمائے کرام کو دن رات عمل کرتے ہوئے عریانی فحاشی کو ختم کرنا ہو گا۔ مجید نظامی صاحب اور ان کے ادارے بھی اس مشن میں ہمارے ساتھ ہیں۔ ہمارے گھروں میں ایک کامل مکمل مسلمان جو اسوہ رسولﷺ کا عملی نمونہ ہو وہ بنانا ہو گا۔ جس طرح تحریک پاکستان میں مشائخ عظام نے واضح اعلان کیا تھا کہ جو مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کا ساتھ نہ دے وہ ہمارا مرید نہیں۔ آج بھی اسی طرح ہم اعلان کرتے ہیں کہ جو اسلامی اقدار کو فراموش کرے وہ ہمارا مرید نہیں۔ اس وقت ہمارے معاشرے کو جدید کلچر اور عریانی و فحاشی سے نجات دلانے کی ضرورت ہے اس مقصد کے حصول کے لیے اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے چادر اوڑھ تحریک کا آغاز کیا گیا ہے جسے بڑی پذیرائی مل رہی ہے۔ چادر ہماری خواتین کی عظمت و آبرو کی محافظ ہے‘ چادر اوڑھنے سے ہماری خواتین کی جان اور ایمان محفوظ ہو جاتے ہیں۔ ہمیں غیروں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی ثقافت اور روایات کی پابندی کرنی چاہیے۔ منشیات ترک کرنے کے لیے عوام میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے لیے تحریک شروع کی ہے جو کامیابی سے جاری ہے۔ ملک بھر میں گھر گھر درود و شریف پڑھنے کی تبلیغ شروع کی گئی ہے موجودہ سال کے دوران 269کھرب مرتبہ درود شریف پڑھا گیا ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے مجید نظامی سے اپیل کی کہ وہ اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے رہنمائی اور تعاون کریں۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ سیرت النبیﷺ کانفرنس کا کلیدی موضوع معاشرے کی اصلاح ہے مسلمانوں کو حضور اکرمﷺ سے عقیدت تو ہے ہی لیکن خود غیر مسلم مفکرین جب کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان کی نگاہ بھی جا کر حضور اکرمﷺ پر ٹھہرتی ہے۔ معروف یورپی مفکر مائیکل ہاٹ نے ”دنیا کے سو عظیم انسان“ نامی کتاب لکھی۔ انہوں نے چار پانچ ہزار سالہ تاریخ کے عظیم انسانوں کی سیرت و کردار کا مطالعہ کیا اوراس کے نتیجے میں جس انسان کو پہلے نمبر پر فراز کیا وہ حضور اکرمﷺ تھے۔ مائیکل ہاٹ کے اس کام پر عیسائیوں نے طوفان بد تمیزی برپا کر دیا چنانچہ اس نے دوبارہ کام شروع کیا لیکن اس بار پھر انہیں حضور اکرمﷺ کی ذات مبارکہ ہی سب سے بلند مقام پر سرفراز ہوتی ہوئی نظر آئی اور تیسری بار بھی ایسا ہی ہوا۔ دو قومی نظریہ ہمارا تشخص ہے ہماری پہچان ہے۔ یہ نظریہ حضور اکرمﷺ نے دیا اسی کی بنیاد پر پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ 11ستمبر 2001ءکے واقعہ کا مقصد مسلمانوں کے خلاف اقدامات کرنا تھا چنانچہ اس کے نتیجے میں سابق صدر پرویز مشرف نے پوری قوم کو امریکہ کے پاس گروی رکھ دیا حالانکہ یہ ملک خود دار اور دیانت دار انسان قائداعظمؒ نے قائم کیا تھا۔ امریکہ 11ستمبر کے بعد عالم اسلام پر چڑھ دوڑا لیکن یہ قدرت کا عظیم معجزہ ہے کہ غیر مسلم تیزی سے مشرف بہ اسلام ہو رہے ہیں۔ پورے قرآن پاک میں اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں اور ہر مخلوق کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا ہے قرآن پاک نے زندگی گذارنے کا نہایت اعلیٰ نظریہ دیا لیکن آج غیر مسلم قوتیں ہم پر ثقافتی یلغار کرتے ہوئے ہمیں دین اسلام سے دور کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں۔ علمائے کرام عبادات کے حلقے میں رہتے ہوئے اس کائنات کے بارے میں قرآن و حدیث نے جو چیزیں بیان کی ہیں ان سے عوام الناس کو آگاہ کریں۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاویدا قبال نے کہا کہ حضور اکرمﷺ پندرہ سو سال قبل ہمارے لیے رحمت کا پیغام لے کرآئے اور اسلام نے دنیا پر ایسے مثبت اثرات مرتب کئے جو دنیا کے کسی نظام اور مذہب نے نہیں کئے۔ کیا وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے اور اس امت پر مشکل وقت آپڑا ہے ایسا اسلام سے دوری کی وجہ سے ہوا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے عورتوں کو بہت بلند حقوق دئیے حتیٰ کہ جنت کو ماں کے قدموں تلے رکھ دیا لیکن اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں عورتوں کو ان کے جائز حقوق نہیں دیے جارہے ۔ چونکہ مرد عورتوں کے ساتھ ٹھیک طرح انصاف نہیں کر پاتے اس لیے ضروری ہے کہ ایک مرد ایک ہی شادی کرے۔ پارلیمنٹ میں جس خاتون نے یہ کہا ہے کہ مردوں کو دوسری شادی کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے تو انہیں قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ پاکستان میں عورتوں کی تعداد مردوں سے کم ہے اور یہ تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے۔ ایسے میں مردوں کو دوسری شادی کی اجازت دینا اس لحاظ سے بھی قرین انصاف نہیں۔ علم ایک امانت ہے اور اس امانت کو ان لوگوں تک پہنچا دیا جائے جو اس کے اہل ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے عرب کے جاہل معاشرے میں جیسی زندگی بسر کی وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ میثاقِ مدینہ کے ذریعے حضور اکرمﷺ نے فرقوں اور قوموںمیں بٹی ہوئی قوم کو امت واحدہ کی لڑی میں پرو دیا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قبیلے اور قومیں اس لیے بنائیں کہ لوگ اچھائی‘ نیکی اور علم میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں۔ کرپشن کی لعنت سے معاشرے کو چھٹکارادلانا ضروری ہے۔ یہ ہمارا ہی فرض ہے کہ ہم اس معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں۔ بدی کرنے والوں کی ہرگز پیروی نہ کریں بلکہ اس کے تدارک کے لیے کردار ادا کریں۔ پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے کہا کہ ربیع الاول کے نہایت مبارک مہینے میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے یہ خوبصورت تقریب منعقد کر کے نبی کریمﷺ سے گہری عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ایک نظریے ‘ ایک فکر ‘ ایک سوچ کا نام ہے۔ جب تک یہ سوچ‘ یہ نظریہ اور یہ فکر باقی ہے تب تک دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو تمام اچھائیوں‘ خیر اور نیکیوں کا منبع و مرکز بنایا ہے۔ علم اس چیز کا نام ہے کہ ہم اس کے ذریعے اچھائی و برائی میں تمیز کر سکیں۔ حضور اکرمﷺ نے دنیا میں آکر انسانوں کو بتایا کہ بھلائی کیا ہے اور اسے کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔ حضور اکرمﷺ ساری کائنات کے لیے رحمت اللعالمین بن کر آئے تھے۔ ان کی یہ رحمت صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ کفار حتیٰ کہ جانور بھی اس رحمت سے مستفید ہوتے تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو خیرِ کثیر عطا کی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے یہ وعدہ کیا کہ اگر وہ نیکی کریں گے تو ان کے ساتھ خیر کا معاملہ کیا جائے گا۔ آج دشمن بری نظروں سے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ جب ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے تو پاکستان کی حفاظت کا فریضہ بھی بخوبی سرانجام دے سکیں گے۔ سابق جسٹس نذیر غازی نے کہا کہ نظریہ پاکستان ٹرسٹ سیرت النبیﷺ کانفرنس کا انعقاد کرنے پر مبارک باد کا مستحق ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں حضور اکرمﷺ نے انسانیت کی رہنمائی نہ کی ہو۔ یورپ کی تاریخ کے حوالے سے کتاب لکھنے والے یورپی مصنف نے کتاب میں واضح طور پر لکھا ہے کہ حضور اکرمﷺ نے دنیا کی قوموں پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کئے۔ حضور اکرمﷺ نے ایک حبشی حضرت بلالؓ کو بلند مرتبے پر فائز کیا تھا اور یہ اسی کا اعجاز تھا کہ آج امریکہ میں ایک حبشی کو صدر بنایا گیا ہے۔ حالانکہ چالیس برس پیشتر تک امریکہ میں کلبوں کے باہر یہ واضح لکھا ہوتا تھا کہ یہاں حبشیوں اور کتوں کا داخلہ ممنوع ہے حبشیوںکے لیے بسوں اور ریل گاڑیوں میں علیحدہ جگہ ہو ا کرتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنی بیوی یا اپنے نوکر کی نگاہوں میں عظیم ہو کیونکہ ان لوگوں کو اس کی اصلیت کا علم ہوتا ہے لیکن صرف حضور اکرمﷺ کی ایسی واحد ذات مبارکہ تھی کہ ان کی سب شریکِ حیات اور ان کے غلاموں نے حضور اکرمﷺ کی شان اقدس کو ہمیشہ تسلیم کیا اور وہ حضور اکرمﷺ کی خلوت کی باتیں بھی جلوت میں بیان کرتے تھے جو حضور اکرمﷺ کی اعلیٰ و ارفع عظمت و کردار کا واضح اظہار ہوا کرتی تھیں یہی وجہ ہے کہ حضور اکرمﷺ کے ایک غلام زیدؓ کے والدین جب انہیں لینے کے لیے آئے تو انہوں نے جانے سے انکار کر دیا۔ پاکستان اس وقت تک قائم رہ سکتا ہے جب تک کہ ہم حضور اکرمﷺ کی ناموس کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ توہین رسالتﷺ کا قانون ختم کر دیاجائے تو غازی علم الدین شہید کا قانون پھر بھی برقرار رہے گا۔ پاکستان نعلین مبارکﷺ کے صدقے سے حاصل ہوا ہے اور اس کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری اب نوجوان نسلوں پر عائد ہوتی ہے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ ملت کی بہت بڑی خدمت سرانجام دے رہا ہے اور وہ دشمنوں کی ثقافتی یلغار سے قوم کی حفاظت کر رہا ہے۔ ہمیں ناموس رسالتﷺ‘ ملت اسلامیہ اور پاکستان کی حفاظت کے لیے لڑنا‘ مرنا ہے۔ حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں نعت رسول کریمﷺ پڑھنے کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان ہوا تو پچاس ارکان نے احتجاج کیا کہ نعت پڑھنے کے لیے کمیٹی کا کوئی جواز نہیں بلکہ نعت بہر صورت پڑھنی چاہیے۔ ان ارکان اسمبلی کو پیر سید کبیر علی شاہ نے اپنے ہاں مدعو کیا۔ میں نے ان ارکان پنجاب اسمبلی سے تفصیلات معلوم کیں تو انہوں نے بتایا کہ ایک عیسائی رکن نے بڑی عظیم بات کی ہے کہ تم میں سے کوئی حضرت عیسیٰ ؑکی تعریف کرے تو میں اس کے پاﺅں دھو کر پینے کے لیے تیار ہوں لیکن تم کیسے مسلمان ہو کہ تمہارے نبی کریمﷺ کی تعریف کی جائے تو تم کہتے ہو کہ اس پر پابندی لگنی چاہیے۔ یہود و ہنود یہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے دلوں میں سے غیرت مصطفیﷺ نکال دی جائے تو یہ لوگ کسی کام کے نہیں رہیں گے‘ مجید نظامی پنجاب کے حکمرانوں سے کہیں کہ وہ نعت رسول کریمﷺ پڑھنے کی راہ میں رکاوٹیں حائل نہ کریں اور ایسا کرنے والوں کو روکیں۔ پروفیسر غلام سرور رانا نے کہا کہ حضور اکرمﷺ نے ہمیں جو پیغام دیا ہے اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ طلبہ کو زیادہ سے زیادہ سیرت النبیﷺ کا مطالعہ کرنا چاہیے کیونکہ مستقبل کے معمار یہی طلبہ ہیں‘ حضور اکرمﷺ عدل و انصاف کا عظیم پیکر تھے۔ آپﷺ ہر شخص سے انصاف کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ ایک بار ایک بااثر خاندان کی لڑکی کا مقدمہ آپﷺ کے سامنے پیش ہوا۔ چوری کے اس مقدمے میں آپﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کی سزا سنائی۔ جب آنحضرتﷺ سے سفارش کی گئی تو آپﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ایسا جرم کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹنے کا حکم دیتا۔ پہلی قومیں اس لیے برباد ہو گئی تھیں کہ وہ غریبوں کو سزا دیتے تھے اور امیروں کو کھلا چھوڑ دیتے تھے۔ حضور اکرمﷺ کا خطبہ حجة الوداع عالم انسانیت کا سب سے بڑا میگنا کارٹا تھا ایک عظیم آئین اور قانون بھی ہے جس نے انسانوں کو عظیم ترین حقوق دیے اور ان میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا قائداعظمؒ نے برطانیہ میں لنکنز ان میں داخلہ محض اس بنیاد پر لیا کہ وہاں پر حضور اکرمﷺ کا نام دنیا کے عظیم قانون دانوں کی فہرست میں سب سے اوپر درج تھا۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ نظریہ پاکستان کی ترویج و اشاعت کے لیے جو کوشش کر رہا ہے اس کا سہرا مجید نظامی کے سر ہے۔ تحریکِ پاکستان میں تمام طبقوں کے ساتھ ساتھ علماءمشائخ نے بھی حصہ لیا تھا اس وجہ سے قائداعظمؒ نے یہ فرمایا تھا کہ پاکستان کا آئین چودہ سو برس قبل سے ہی قرآن پاک کی صورت میں موجود ہے۔ صدر کے پروٹو کول کی وجہ سے کوئٹہ میں رکشے میں بچے کی ولادت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران اپنی مستی میں مست ہیں۔ اگر آئین و قانون کی پاسداری کی جائے تو ایسے واقعات ہرگز رونما نہ ہوں ہمیں بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف بھر پور انداز میں آواز بلند کر نی چاہیے۔ نظریہ پاکستان ٹرسٹ شعبہ خواتین کی کنوینر بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ ربیع الاول میں روئے زمین کے تمام مسلمان اپنے پیارے نبی حضرت محمدﷺ کا یومِ ولادت عقیدت و احترم سے مناتے ہیں۔ عید میلاد اگرچہ مسلمان مناتے ہیں لیکن معنویت کے اعتبار سے یہ روزِ سعید پوری نوعِ انسانی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس روز عظیم انسان کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی جس نے انسان کے جسم اور روح کو حقیقی آزادی عطا کی۔ تاریخ میں کئی ایسی شخصیات کا تذکرہ ملتا ہے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں انسانی معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش کی ۔ کسی نے دولت کی غلط تقسیم کے خلاف مساویانہ تقسیم کا نعرہ لگایا کسی نے انسانی حقوق کی بات کی اور کسی نے رنگ و نسل کے امتیاز کی اصلاح کی مگر حضرت محمد ﷺ وہ انقلابی پیغمبر ہیں جنہوں نے تاریخ عالم پر اپنے گہرے نقوش ثبت کئے ہیں جن کے برپا کئے ہوئے انقلاب پر دنیا انگشت بدنداں ہے۔ چودہ سو سال قبل عرب کے بے آب و گیاہ صحرا میں ایک انسان اٹھتا ہے جس کی پشت پر نہ تو دولت و ثروت کے انبار تھے نہ خاندانی جاہ و جلال جو یتیمی کے عالم میں ایک غریب گھرانے میں پروان چڑھتا ہے۔ جس کے ارد گرد ناخواندہ لوگ تھے جن پر رنگ نسل‘ حسب نسب‘ دولت و غربت ہر طرح کے غیر فطری امتیاز بری طرح چھائے ہوئے تھے۔ جہاں ایک طرف شہنشاہوں اور سرداروں کی حکومت تھی جو انسانوں کے جسموں کو غلامی کے شکنجے میں جکڑے ہوئے تھے تو دوسری طرف کاہن‘ جادوگر اور شعبدہ باز تھے جو مذہبی اور روحانی پیشوائیت کے لبادے میں لوگوں کے ذہنوں پر مسلط تھے۔ سر زمینِ عرب جہاں رسول اللہﷺ ہادی بنا کر بھیجے گئے اخلاقی پستی اور ظلم و ستم میں بد ترین حیثیت رکھتی تھی۔ یہاں انسانی خون پانی کی طرح بہایا جاتا۔ پتھر کے بتوں کے ساتھ خاندان‘ نسب اور نسلی تفاخر کے بتوں کی بھی پرستش کی جاتی تھی۔ دنیا میں آج جس آزادی ضمیر‘ امن‘ باہمی انسانی مساوات اور دولت کے منصفانہ تقسیم کے نعرے لگائے جارہے ہیں یہ دراصل میرے پیارے نبیﷺ کے لائے ہوئے انقلاب کی صدائے بازگشت ہے۔ انسان کے فکر و نظر میں یہ انقلاب اور اس کا یہ شعور‘ خود آگہی آنحضورﷺ کی روشن کی ہوئی شمع کا پر تو ہے۔ اسلام کے ان نظریات اور اصولوں کی موجودگی میں جب ہم نظر اپنے معاشرے پر ڈالتے ہیں تو ایک مایوسی ہوتی ہے۔ قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ پاکستان جدید اسلامی اور فلاحی مملکت ہو گا۔ غریب اور امیر کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا ۔ ریاست کی نظر میں مسلم اور غیر مسلم سب برابر ہوں گے۔ سماجی اور معاشی انصاف ہو گا۔ یہ معاشرہ دنیا میں جنت کا نمونہ پیش کرے گا مگر افسوس کہ ایسا نہیں‘ رشوت ستانی‘ سفارش‘ اقرباءپروری‘ کام چوری اور سرکاری املاک میں خورد برد اور مختلف نوعیت کی برائیاں عام ہیں۔ قرآن نے مسلمانوں کو بہترین اُمت قرار دیا ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے اعمال و افعال کو قرآن کے اور اپنے پیارے نبیﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ پروفیسر سعید عالم زیدی نے کہا کہ حضور اکرمﷺ نے حصول تعلیم پر بہت زیادہ زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ غزوہ بدر میں جب کفار کے تعلیم یافتہ لوگ مسلمانوں کی قید میں آئے تو حضور اکرمﷺ نے ان پر فدیہ لگایا کہ وہ دس دس مسلمانوں کو تعلیم دیں اس طرح انہیں رہائی دی جائے گی۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ ماں کی گود سے قبر تک تعلیم حاصل کرو۔ علم کی عظمت کو حضور اکرمﷺ نے ہی اجاگر کیا تھا۔ آپﷺ نے عرب کے جاہل معاشرے میں پڑھے لکھے لوگوں کو بہت زیادہ عزت و تکریم بخشی۔ پاکستان بیرسٹروں‘ وکلائ‘ دانشوروں اور علماءنے قائم کیا تھا۔ سر سید احمد خان نے مسلمانانِ برصغیر کی تعلیم و تربیت کا انتظام کرنے کے لیے محمڈن ایجوکیشنل سوسائٹی قائم کی جس کے تحت علی گڑھ سکول قائم ہواجو ترقی کرتے ہوئے یونیورسٹی کے درجے تک پہنچ گیا۔ اس یونیورسٹی نے مسلمانوں کی علمی تشنگی بجھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ پاکستان ایٹمی قوت ہے۔ ہمارا شمار ساتویں ایٹمی طاقت کے طور پر ہوتا ہے لیکن باقی چھ ایٹمی طاقتیں ہماری اس صلاحیت سے بے حد لرزاں ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ صلاحیت ان لوگوں کے پاس ہے جنہوں نے 1947ءمیں بے دست و پا ہونے کے باوجود دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ مجید نظامی بالکل بجا کہتے ہیں کہ ایٹم بم ہم نے سجانے کے لیے نہیں بنایا بلکہ اس کو دشمن کے خلاف چلانے کے لیے بنایا ہے۔ بھارت یزیدی کردار ادا کرتے ہوئے ہمارے دریاﺅں کا پانی بند کر رہا ہے۔ ایسے میں مجید نظامی کا یہ کہنا درست ہے کہ بھارت کے ڈیموں پر ایٹم بم اور میزائل مار کر انہیں تباہ کر دیا جائے کیونکہ پیاسا مرنے سے بہتر ہے کہ ہم بھارت سے لڑتے ہوئے مر جائیں۔ تقریب کے آخر میں نعت خواں آصف منیر نے حضور اکرمﷺ پر درود و سلام بھیجا پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے دینِ اسلام کی سر بلندی‘ پاکستان کی حفاظت‘ قافلہ نظریہ پاکستان کی کامیابی اور مجید نظامی کی صحت و عافیت ‘درازی عمر کے لیے خصوصی دعا کرائی۔ تقریب کا اختتام نعرہ تکبیر ‘ نعرہ رسالتﷺ اور نعرہ حیدری کے پرجوش نعروں سے ہوا۔