ڈاکٹر قدیر کیس: سماعت اوپن کورٹ میں کرنے کی استدعا مسترد

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہورہائےکورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے ایٹمی سائنس دان‘ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدےرخان کوسکیورٹی کے نام پر نظربندکرنے کے خلاف دائردرخواست پرمزید سماعت آج تک ملتوی کردی جبکہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل علی ظفر کی جانب سے کیس کی سماعت اوپن کورٹ میں کرنے کی استدعا مسترد کر دی ۔ڈاکٹر عبدالقدیر کے وکیل علی ظفر کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کو سکیورٹی کے نام پر گھر تک محدود کرتے ہوئے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ حتی کہ انکے طبی معالج کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یاد رہے کہ مرکزی درخواست وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔جس میں احمربلال صوفی ایڈوکیٹ کی وساطت سے موقف اختےارکےا گیاتھاکہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے” سائمن ہنڈرسن“ نے پاکستان کے اےٹمی پروگرام کے بارے مےں متعدد حساس نوعےت کے مضامےن لکھے تھے ۔مصنف کادعوی ہے کہ اس سلسلے مےں اسے تمام معلومات ڈاکٹر عبدالقدےر سے حاصل ہوئی تھےں۔درخواست مےں مزےد کہاگےاہے کہ مدعا علےہ کے سائمن ہنڈرسن کے ساتھ رابطوں کی تفتےش کی اجازت دی جائے اور ڈاکٹرقدےرخان کو بلا کرپوچھاجائے کہ وہ ان دعوﺅں کو قبول کرتے ہےں ےامسترد۔