کراچی : لیاری دو گروپوں میں میدان جنگ بنا رہا‘ بموں سے حملے 10 افراد ہلاک مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں

کراچی : لیاری دو گروپوں میں میدان جنگ بنا رہا‘ بموں سے حملے 10 افراد ہلاک مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں

 کراچی (کرائم رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) کراچی کے مختلف علاقوں میں فائرنگ دستی بموں کے حملوں میں 10 افراد جاںبحق، 20 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ اس دوران لیاری کا علاقہ گینگ وار گروپوں کے درمیان شدید فائرنگ اور دستی بموں سے حملوں، گھروں کو آگ لگانے سے میدان جنگ بنا رہا۔ پولیس اور رینجرز علاقے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ صدر زرداری نے لیاری کی صورتحال اور کراچی میں امن و امان پر غور کے لئے آج اجلاس طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق لیاری میں گینگ وار گروپوں کی گذشتہ پانچ روز سے جاری لڑائی میں جمعہ کی صبح اچانک تیزی آگئی اور بابا لاڈلہ اور زاہد لاڈلہ گروپ کے کارندوں نے مندرہ محلہ‘ رحیم آباد اور الفلاح روڈ پر شدید فائرنگ اور دستی بموں اور ایوان گولوں سے حملے کئے جبکہ اس دوران بعض گھروں کو آگ بھی لگائی گئی کلری کے علاقے میں دستی بم کے حملے میں شکیل کچھی نامی نوجوان ہلاک ہو گیا جبکہ مندرہ محلہ میں دستی بم کے حملے اور فائرنگ سے کچھی رابطہ کمیٹی لیاری سیکٹر کا انچارج 35 سالہ شعیب ہنگورجہ سمیت 3 افراد مارے گئے۔ ادھر آگرہ تاج کالونی میں ابراہیم مسجد کے نزدیک مسلح افراد کی فائرنگ سے 30 سالہ شعیب ہلاک اور 3 افراد زخمی ہو گئے۔ اس دوران شیر شاہ پنکھا ہوٹل کے علاقے میں 35 سالہ عظمیٰ گولی سر میں لگنے سے ہلاک ہو گئی جبکہ پرانا حاجی کیمپ میں 30 سالہ شخص کی لاش ملی جسے سر اور سینے میں آٹھ گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا، لیاری ہی کے علاقے میرا ناکہ پل کے قریب بھی ایک 25 سالہ نوجوان کی لاش ملی، اسے سر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ جمعہ بلوچ روڈ پر بھی مسلح افراد کی فائرنگ سے 35 سالہ نامعلوم شخص ہلاک ایک سالہ بچی آسیہ دختر اسلام کے علاوہ ایک عورت 38 سالہ یاسمین زخمی ہوئی۔ نیا آباد میں ماما ہوٹل کے قریب 28 سالہ شاہد‘ علی محمد محلے میں 22 سالہ محمد اشرف اور بہار کالونی میں الفلاح روڈ پر 28 سالہ اکبر فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ لیاری میں بدامنی کے خلاف کھچی برادری کے افراد نے ماری پور روڈ پر زبردست احتجاج کیا اور مظاہرین نے کچھی رابطہ کمیٹی کے سیکٹر انچارج مقتول شعیب ہنگورجہ کی لاش کے ساتھ دھرنا دیا اور جب پولیس نے ماری پور روڈ کو کلیئر کرانے کی کوشش کی تو مظاہرین مشتعل ہو گئے اور پولیس پر پتھراﺅ شروع کر دیا۔ جس کے بعد پولیس نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے واٹر کینن سے پانی کی بوچھاڑ کے علاوہ شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی جبکہ پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 32 سالہ اقبال شاہ جاںبحق ہو گیا اور سات افراد زخمی ہوئے۔ مظاہرین نے چند سادہ لباس پولیس اہلکاروں کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور واٹر کینن پر چڑھ کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں کئی گھنٹے تک جاری رہیں۔ ادھر لیاری کے اندرونی علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی اور لوگ بدستور گھروں میں محصور رہے جبکہ آگرہ تاج کالونی کے تمام مکینوں گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے۔ اس دوران مسلح افراد گھروں پر شدید فائرنگ کرتے اور سامان نکال نکال کر باہر پھینکتے رہے۔ ادھر کھچی برادری کے افراد نے جن میں بڑی تعداد میں خواتین شامل تھیں نے تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے وزیر اعلیٰ ہا¶س کے سامنے دھرنا دیا اور لیاری کو گینگ وار گروپوں سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا۔ بعدازاں صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے مظاہرین کے 4 رکنی وفد سے مذاکرات کئے اور لیاری میں شرپسندوں کے خلاف ایکشن کی یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین منتشر ہو گئے۔ ادھر صدر آصف علی زرداری گذشتہ روز کراچی پہنچ گئے۔ انوہں نے شہر میں امن و امان اور لیاری کی صورتحال پر غور کے لئے پولیس رینجرز اور صوبائی حکام کا آج اجلاس طلب کر لیا جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ علاوہ ازیں سہراب گوٹھ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص مارا گیا جبکہ منگھو پیر کے علاقے سلطان آباد میں رینجرز نے آپریشن کے دوران خودکش حملہ آور سمیت کالعدم تنظیم کے 11 افراد کو بھاری اسلحہ جس میں ٹینس بال بم، 33 کریکر، 46 چھوٹے بڑے ہتھیاروں سمیت گرفتار کر لیا۔
کراچی / فائرنگ