پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے‘ بدعنوانوں سے رقم کیوں نہیں نکلوائی جاتی : چیف جسٹس

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ہے‘ بدعنوانوں سے رقم کیوں نہیں نکلوائی جاتی : چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+آئی این پی +اے پی اے) سپریم کورٹ نے ٹیکسوں کی مد میں وصول کی جانے والی رقم کے اعداد و شمار طلب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے‘ جمہوری حکومتوں میں عوامی مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے لیکن یہاں ٹیکس کا بوجھ صارفین پر ہی ڈال دیا جاتا ہے‘ کرپشن کرنے والوں سے رقم کیوں نہیں نکلوائی گئی، حکومت کیوں عوام کی جیب پر بوجھ ڈال رہی ہے‘سپریم کورٹ پہلے بھی عوامی مفاد میں لڑ رہی تھی، اب بھی لڑے گی، سی این جی کے معاملے میں صارفین کے مفادات کو ترجیح نہیں دی گئی‘ گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سی این جی قیمتوں میں اضافہ کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل منیر اے ملک سے استفسار کیا، حکومت نے جی ایس ٹی 17 فیصد لگایا۔ پھر سی این جی پر 9 فیصد اضافی ٹیکس کیوں وصول کیا جا رہا ہے؟، اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 9 فیصد اضافی ٹیکس کمپنیوں سے وصول کیا جاتا ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمپنیاں اپنی جیب سے ٹیکس ادا نہیں کرتیں، جمہوری حکومتوں میں عوامی مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے، جمہوری حکومت عوام کی نمائندہ ہوتی ہیں لیکن ٹیکس کا بوجھ صارفین پر ہی ڈال دیا جاتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سی این جی کے معاملے میں صارفین کے مفادات کو ترجیح نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت گزشتہ کئی سال سے سی این جی پر 9 فیصد اضافی ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہمارے پاس عدالتی نظرثانی کا اختیار موجود ہے دیکھتے ہیں کہ عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ کیسے ڈالا جاتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گیس کمپنیاں 17 فیصد جی ایس ٹی، سی این جی سٹیشنز سے وصول کرتی ہیں جبکہ 9 فیصد اضافی ٹیکس سی این جی سٹیشنز والے صارف سے وصول کرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گیس پر اضافی نو فیصد ٹیکس کا بوجھ صارف پرڈالا گیا ہے جبکہ سیلز ٹیکس قانون کہتا ہے کہ صرف 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنا ہوگا۔ 2007ء سے اوگرا اضافی ٹیکس وصول کر رہا ہے، یہ اقدام کیا جمہوری حکومت کے فائدے میں ہے، ملک میں کرپشن کی انتہا ہو چکی ہے، نیچے سے لے کر اوپر تک کرپشن میں لوگ ملوث ہیں، عدالت عوام کے بنیادی حقوق کیلئے لڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد ہے، اشیا خوردنی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں لیکن حکومتی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان قیمتوں پر کوئی بھی سروے نہیں کرایا جاتا۔ عدالت نے سماعت 24 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے یکم جولائی 2007ءسے یکم جولائی 2013ءتک ایک فیصد اضافی جی ایس ٹی اور سی این جی پر نوفیصد اضافی ٹیکس کی مد میں وصول کی جانے والی رقم کے اعداد و شمار طلب کر لئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ملک میں گیس نہیں کہ بجلی کی پیداوار کے لئے دیں اوگرا نے تین کلو میٹر کے علاقے میں 17 سی این جی سٹیشنز لگانے کی اجازت دی۔ اوگرا کو سب پتہ ہے کہاں گیس چوری ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ سب ملی بھگت ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جمہوری حکومتیں عوام کی نمائندہ ہوتی ہیں لیکن ٹیکس کا بوجھ صارفین پر ہی ڈالا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت سے کہا تھا عام استعمال کی چیزوں کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے کیا ایسا کیا گیا؟ عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں مشکل میں ہے۔ جسٹس اعجاز چودھری نے ریمارکس دیئے کرپشن کرنے والوں کی وجہ سے خزانہ خالی ہوا۔ ان سے رقم نکلوائیں۔ سی این جی سٹیشنز والے جتنے بھی اضافی ٹیکس دیتے ہیں بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا پٹرول کس ریٹ پر خرید کر کتنے میں فروخت کر رہے ہیں؟ سی این جی پر 2007ء سے اضافی 9 فیصد جی ایس ٹی واپس دینا پڑے گا۔ جسٹس اعجاز چودھری نے ریمارکس دیئے حکومت لوگوں کی جیب پرکیوں بوجھ ڈال رہی ہے حکومت سہولت کے بجائے ان کی جیب سے پیسے نکالے تو وہ اعتماد نہیں کریںگے سیاسی اثر و رسوخ پر سی این جی سٹیشن لگائے گئے۔ بااثر افراد کئی سال سے گیس چوری کر رہے ہیں۔ اوگرا گیس چوری تو روکتی نہیں اور بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے گجرات میں ناقص اقدامات کی وجہ سے 17 معصوم بچوں کی جانیں گئیں کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، اپنا نقصان ہوتا تو پتہ چلتا۔ سلنڈر پرکوئی کنٹرول نہیں، صرف ہر جگہ پیسہ چلتا ہے۔ اوپر سے نیچے تک کرپشن کرپشن ہی کرپشن ہے۔ اٹارنی جنرل بتائیں کہ یکم جولائی 2007ءسے 2013ء تک کتنا اضافی ٹیکس لیا۔ بجلی گھروں کو دینے کیلئے گیس نہیں، یہاں 3 کلو میٹر کی حدود میں 17 سی این جی سٹیشن کھولے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کرپشن کی وجہ سے قومی خزانہ خالی ہے تو عوام پر بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ عوام نے عوامی نمائندے کرپشن کرنے کیلئے منتخب نہیں کئے تھے۔ رمضان آرہا ہے، مہنگائی کا سیلاب پہلے ہی آ چکا، رہی سہی کسر اضافی ٹیکسوں نے پوری کردی ہے۔ محکموں میں پھر وہی لوگ بیٹھے ہیں جن سے کوئی باز پرس نہیں کرسکتا۔ حکومت نے پھر انہی لوگوں کو لگا دیا ہے تاکہ سپریم کورٹ سے لڑتے رہیں۔
سی این جی کیس