صنعتی تجارتی صارفین کیلئے بجلی اسی مہینے گھریلو کیلئے دو سے تین ماہ تک مہنگی ہو گی : خواجہ آصف

صنعتی تجارتی صارفین کیلئے بجلی اسی مہینے گھریلو کیلئے دو سے تین ماہ تک مہنگی ہو گی : خواجہ آصف

اسلام آباد (بی بی سی) وفاقی وزیر برائے پانی اور بجلی خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں مالی بحران کو حل کرنے کے لئے جولائی میں بجلی کے نرخ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ فوری طور پر جولائی ہی میں صنعتی اور تجارتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا جائے گا جبکہ گھریلو صارفین اور خاص طور پر وہ گھریلو صارفین جن کا بجلی کا استعمال زیادہ ہے، ان کے لئے نرخوں میں اضافہ دو تین ماہ میں کیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ غریب صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور ان پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے گا۔ توانائی کے شعبے میں مالی بحران اور گردشی قرضے پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بنیادی طور پر گردشی قرضے کا مسئلہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسڈی یا رعایتی قیمت کی وجہ سے پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں سبسڈی کی مد میں کچھ رقم رکھی ہے لیکن یہ اتنی نہیں جتنی گذشتہ حکومت نے رکھی تھی اور اب حکومت نے سبسڈی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں فوری طور پر اضافہ کر لیا جائے تو گردشی قرضوں میں اضافے کو روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر نرخوں میں اضافے کو دو تین ماہ کے لیے موخر کر دیا گیا تو پھر گردشی قرضے میں 100، 150 ارب کا اضافہ ہو جائے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت کو بھی کم کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت فی یونٹ بجلی کی پیداواری قیمت 14 روپے سے زیادہ ہے جسے کم کر کے 10 یا 11 روپے فی یونٹ پر لانا پڑے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت بجلی کی رسد کے ساتھ ساتھ طلب کو حقیقت پسندانہ بنانے کی کوشش کرے گی۔ کسی ملک میں بھی دکانیں اور کاروباری مراکز رات گئے تک کھلے نہیں رہتے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بچت کی جانی چاہئے۔ وفاقی وزیر کا دعویٰ تھا کہ طلب کو ٹھیک کر کے 1200 سے 1300 میگاوٹ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔ توانائی پالیسی میں دکانوں کے جلد بند کئے جانے کی تجویز کے شامل ہونے کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس کے حق میں ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں وزیر اعظم کی تائید بھی حاصل ہے لیکن اس بارے میں چاروں صوبوں کو شامل کرنا لازمی ہو گا۔ کھاد پیدا کرنے والے کارخانوں کو دی جانے والی گیس اور امدادی قیمت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی صرف ان یونٹس کو کی جائے گی جن کی مشینری میں گیس ضائع نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ کھاد اور فرٹیلائزر فیکٹریوں کو جس قیمت پر گیس فراہم کی جا رہی ہے اس کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہے۔ سی این جی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی اتنی گاڑیاں سی این جی پر نہیں چلائی جاتیں جتنی پاکستان میں چلتی ہیں۔ چند لاکھ افراد کی سہولت کے لیے کروڑوں پاکستانیوں کو بجلی سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سیاسی بنیادوں پر سی این جی سٹیشن لگانے کی اجازت دی جاتی رہی اور اپنے من پسند لوگوں کو فائدہ پہنچایا جاتا رہا۔
خواجہ آصف