اوبامہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے خاموشی اور عزم کیساتھ پاکستان دوست ممالک کا کولیشن قائم کریں : بروس ریڈل

اوبامہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے خاموشی اور عزم کیساتھ پاکستان دوست ممالک کا کولیشن قائم کریں : بروس ریڈل

واشنگٹن (کے پی آئی) امرےکی صدر کے سابق مشےر اور مصنف بروس رےڈل نے صدر باراک اوباما کو مشورہ دےا ہے کہ مسئلہ کشمےر کے حل کے لےے خاموشی لیکن عزم کے ساتھ پاکستان کے دوست ممالک کی کولیشن قائم کرنے پر کام کرنا چاہئے جو کشمیر کے تصفیہ طلب معاملے کو حل کرنے کیلئے متحد ہوکر امن عمل کی حمایت کرے گی، مسئلہ کشمیر کا حل ایسا ہونا چاہئے جس میں لائن آف کنٹرول کو دونوں طرف ایک مستقل اور روایتی بین الاقوامی سرحد ( ممکنہ طور کچھ تبدیلیوں کے ساتھ) تسلیم کیا جائے اور کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان غیر معلق سرحد ہو تاکہ کشمیری عوام معمول کی زندگی جی سکیں۔انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ کنٹرول لائن کے آر پار رسل و رسائل ، ماحولیات، کھیل کود اور سیاحت جیسے مخصوص علاقائی معاملات پر مشترکہ طور کام کرنے کے لئے ایک مشترکہ انتظام قائم کیا جائے ۔ اپنی نئی کتاب Avoiding Armageddon", مےں بروس ریڈل نے مزید لکھا ہے کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں بھارت اور پاکستان کی کرنسی کا استعمال قانونی بنایا جائے ، یہ خیال حال ہی میں بھارت میں ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ دونوں ملکوں کے لئے برابر کی جیت کے مترادف ہوگا، کشمیریوں کو سب سے بڑی فتح حاصل ہوگی کہ وہ امن دیکھیں گے اورآر پار متحد ہوجائیں گے۔مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے اس میں پاکستان کی جیت بھی ہوگی کیونکہ اسے بھارت کے ساتھ محاذ آرائی جاری رکھنے کے لئے محدود وسائل صرف نہیں کرنے پڑیں گے۔اس میں بھارت کی کامیابی بھی ہوگی کیونکہ اسے کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔انہوں نے کتاب میں 2008ءکے ممبئی حملوں پر بھی گہرائی کے ساتھ نظر ڈالی ہے اور امریکہ کے جنوب ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کا تجزیہ کرنے کے علاوہ اس بات کی سفارشات بھی پیش کی ہیں۔
بروس ریڈل