کراچی میں مزید 5 افراد جاں بحق‘ شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم

کراچی (کرائم رپورٹر + آن لائن + مانیٹرنگ نیوز) کراچی میں فائرنگ پرتشدد واقعات اور جلاﺅ گھیراﺅ کا سلسلہ گذشتہ روز بھی جاری رہا۔ مزید 4 افراد جاںبحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ اس طرح 4 روز میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 99 ہو گئی جبکہ مزید دو گاڑیوں اور پانچ دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اورنگی ٹاﺅن کٹی پہاڑی‘ محمد پور اور قصبہ کالونی میں کشیدگی برقرار رہی۔ لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ گذشتہ صبح مومن آباد کے علاقے فقیر کالونی میں 25 سالہ محمود کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جبکہ پاپوش نگر میں رحمانیہ مسجد کے نزدیک نامعلوم افراد نے گھر میں گھس کر 40 سالہ مستری اللہ وسایا کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ ان دونوں کی لاشوں کو پوسٹمارٹم کے لئے عباسی شہید ہسپتال پہنچایا گیا اس کے علاوہ نارتھ کراچی میں ایک نوجوان یعقوب ولد حسن کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جس کی لاش ٹیکسی سے ملی۔ اورنگی ٹاﺅن میں ایک شخص عادل کو منی بس سے اتارنے کے بعد گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ وہ اسلام چوک کے علاقے میں رہتا تھا اور الیکٹریشن کا کام کرتا تھا اور ایک بچی کا باپ تھا۔ حالیہ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے گذشتہ دو دن سے نارتھ کراچی میں اپنے چچا کے گھر رکا ہوا تھا اور ٹیلیفون پر بچی کے ساتھ بات کرنے کے بعد گھر جا رہا تھا کہ دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔ پی آئی ڈی سی پل کے نزدیک بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص 45 سالہ عبدالحمید زخمی ہو گیا جبکہ فائرنگ کے بعد ملزمان پی آئی ڈی سی پل کے نیچے فرنیچر مارکیٹ کو آگ لگا کر فرار ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں فرنیچر کی پانچ دکانیں جل کر تباہ ہو گئیں۔ ادھر پی آئی بی کالونی میں بھی ایک دکان کو آگ لگائی گئی جبکہ لیاقت آباد میں ٹرک اور ٹرالر کو نذر آتش کر دیا گیا۔ قائد آباد داﺅد چورنگی اور سٹیل مل تک کے علاقے میں بھی زبردست فائرنگ ہوئی جس کی وجہ سے نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی۔ دوسری طرف رینجرز اور پولیس نے ان علاقوں میں کارروائی کر کے مزید 55 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن سے نامعلوم مقام پر تفتیش کی جا رہی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ رابطہ کمیٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عوام اور کارکن صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنے جذبات قابو میں رکھیں۔ دوسری جانب کراچی کے علاقے ڈالمیا میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے اور دستی بموں سے حملے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق دو منشیات فروش گروپوں نے ایک دوسرے پر دستی بموں سے حملہ کیا‘ راکٹ بھی فائر کئے گئے جس سے علاقے کے کچھ گھروں کو جزوی نقصان ہوا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ کراچی میں رینجرز کو شرپسندوں کو گولی مارنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات خراب کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی عبدالماجد کا کہنا ہے کہ تین روز میں بیس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف صنعت کاروں کا نہیں بلکہ عام تاجروں‘ مزدوری پیش افراد کا بھی نقصان ہوا ہے۔