نوازشریف کی صدر کے دورہ برطانیہ پر تنقید سمجھ سے بالاتر ہے : یوسف رضا گیلانی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + آن لائن + ثناءنیوز) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک کا چیف ایگزیکٹو میں اور صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ہیں اور سب ملک کے اندر موجود ہیں اس لئے کوئی فکرمندی نہیں ہونی چاہئے۔ جعلی ڈگری کی حمایت نہیں کرتے۔ قومی ہیلتھ پالیسی میں آبادی کے مسائل اور ہزاری کے اہداف پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ جہاں جیتنے کا عزم ہو وہاں کمزوری طاقت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جمہوری حکومت نے تمام غیر آئینی ترامیم ختم کر کے 73ءکا آئین بحال کیا۔ دہشت گردی کے بارے میں قومی کانفرنس ہوم ورک کے بعد بلائی جائے گی۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز اسلام آبادمیں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کے 44ویں کانووکیشن میں خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کامیاب طلبہ کو انعامات دیئے۔ تقریب میں وفاقی وزیر صحت‘ معاون خصوصی شہناز وزیر علی اور پروفیسر ظفر اﷲ چودھری نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک کے چیف ایگزیکٹو وزیراعظم ہیں اور صوبوں کے چیف ایگزیکٹو وزراءاعلیٰ ہیں۔ ان میں سے کوئی باہر ہوتا تو تشویش کی بات تھی مگر ان میں سے سے کوئی باہر نہیں ہے اور سب اپنا کام کر رہے ہیں اس لئے کوئی فکر مندی نہیں ہونی چاہئے۔ صدر آصف علی زرداری کی شخصیت ایسی ہے کہ ان کے ساتھ آپ (صحافی) کوئی نہ کوئی ایشو رکھتے ہیں۔ ایک صحافی نے اس پر کہاکہ ان سے خاص محبت ہے جس پر وزیراعظم نے کہاکہ یہ بات نہ ہوتی تو کوئی اور بات ہو جاتی۔ وزیراعظم نے سیاسی قیادت کے درمیان اتحاد کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں تین ایریاز میں لڑنا پڑ رہا ہے۔ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ ہے دہشت گردی کا مسئلہ ہے اور تیسری قدرتی آفت ہے جیسے سیلاب آگیاہے۔ دہشت گردی کے حوالے سے اپوزیشن نے قومی کانفرنس بلانے کی تجویز دی تھی۔ اس پر ہوم ورک کر کے کانفرنس بلائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب کے ایشو پر ساری قوم متحد اور متفق ہے۔ تمام لیڈر اپنی اپنی طرف سے کوششیں کر رہے ہیں کہ متاثرہ عوام کی بحالی ہو اور سیلاب کی صورتحال میں کام کیا جائے۔ مجھے کسی کی نیت پر شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سول سوسائٹی اور میڈیا متحرک ہے۔ ہم تنہائی میں نہیں ہیں پوری دنیا سے امداد آرہی ہے اور دوست ممالک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مشکل وقت میں یاد رکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سابقہ ادوار میں ڈیم بنانے کے سنہری مواقع موجود تھے لیکن گذشتہ 9 سال میں بھی کوئی ڈیم نہیں بنایا گیا۔ ہم نے دو سال کے اندر مشترکہ مفادات کی کونسل میں دیامر بھاشا ڈیم کے بارے میں صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کیا تاکہ اس کو سیاسی مسئلہ نہ بنایا جائے۔ اسی طرح چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی طرف بھی توجہ دی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ اور وزیر مملکت برائے اقتصادی امور کو کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا کہ وہ سفیروں کو سیلاب کی صورت حال کے بارے میں بتائیں اور اپیل کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب زدگان کو سی 130 کے ذریعے امدادی اشیاءپہنچائی گئیں۔ ان میں اڑھائی سے تین لاکھ خوراک کے پیکٹ متاثرین کو فراہم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب کے نقصانات کی رپورٹ آئے گی۔ جس کے بعد سیلاب میں جاںبحق ہونے والوں کے پسماندگان کو معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی کے چیئرمین اور وزیر تعلیم کو جعلی ڈگری معاملہ میں قواعد کی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ آن لائن کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ میاں نوازشریف نے اس ملک میں جمہوریت کے فروغ اور استحکام کے لئے بہت کام کیا ہے اسی وجہ سے میں ان کا احترام کرتا ہوں مگر صدر زرداری کے دورہ برطانیہ پر نوازشریف کی تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کے پاکستان کے حوالے سے آنے والے بیان کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ برطانیہ کو منسوخ کئے جانے کے بارے میں اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ان کا برطانیہ کے دورے کا کوئی پروگرام نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو یہ میری منظوری سے ہونا تھا۔ ثناءنیوز کے مطابق وزیراعظم نے ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ”ریسکیو“ اور ”ریلیف” کے حوالے سے موثر آپریشن پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات میں کیا۔ وزیراعظم نے افواج کے سربراہ سے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ملک کے شمالی حصوں میں لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے اور ریسکیو و ریلیف پر بھرپور توجہ دی جائے۔ چیف آف آرمی سٹاف کے وزیراعظم کو ملکی سلامتی اور امدادی کاموں کے حوالے سے پاک فوج کی جانب سے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔