صوبہ خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب اوربارشوں کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سولہ سوہوگئی ہے جبکہ پندرہ سوسے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں ۔  

صوبہ خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب اوربارشوں کے باعث جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سولہ سوہوگئی ہے جبکہ پندرہ سوسے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں ۔  

پشاور کے نواحی علاقوں سمیت ضلع چارسدہ ، نوشہرہ، سوات، ملاکنڈ، بنوں، کرک، کوہستان اور شانگلہ میں حالیہ سیلاب سے تیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ جنہیں پشاور سمیت متعلقہ اضلاع میں ریلیف کیمپوں میں پناہ دی گئی ہے۔ حکومت اور مخیراداروں کی جانب سے متاثرین کو امداد دی جا رہی ہے۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں جلد ان کے گھروں میں آباد کیا جائے۔ اس کے علاوہ سوات، نوشہرہ، دیراور چارسدہ میں طوفانی بارشوں کے بعد ریلیف اور ریسکیو کا کام جاری ہے۔ کئی علاقے تاحال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ رابطہ پل بہہ جانے سے شہروں کا آپس میں رابطہ منقطع ہے۔ادھربارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے سے ٹانک شہرمیں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں شور کوٹ ، ایئرپورٹ ، کوٹلہ سیداں اور بستی ملانا میں بھی پانی داخل ہوگیا ہے ۔ جہاں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ ادھرکندیاں کے چشمہ ریسٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ سیلاب سے ڈیرہ اسماعیل خان کی گیارہ لاکھ میں سے آٹھ لاکھ آبادی شدید متاثر ہوئی ہے۔ دس ہزار مکانات،چھ سو سے زائد سکول گر گئے اور پچاس دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، ہزاروں ایکڑ رقبہ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ دوسری جانب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے جس سے ندی نالوں میں دوبارہ سیلاب آچکا ہے۔ بلوچستان کے علاقوں سبی، بھاگ، لہڑی، جھل مگسی بارکھان اور قرب و جوار میں طوفانی بارش سے دریائے ناڑی اور تلی ندی میں طغیانی آگئی ہے۔ لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ ڈیرہ مراد جمالی میں کئی گھنٹوں کی لگاتار بارش سے بیس سے زائد مکانات منہدم اور نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں جبکہ بجلی اورمواصلات کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ سبی میں بارش اور سیلاب سے کروڑوں روپے کی کھڑی فصل تباہ ہوگئی ہیں اورسیلابی ریلا شہریوں کی املاک اورمویشی بہا کر لے گیا ہے۔