سب سے زیادہ قربانیاں دیں‘ ہم پر انگلیاں اٹھانا ہمارے قائدانہ کردار کی نفی ہے : صدر

لندن (آصف محمود سے/اے ایف پی/رائٹر) صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے مغربی لندن کے علاقے ایلزبری میں واقع ہالیڈے ہومز میں ہونے والے عشائیہ میں ملاقات کی ہے دونوں رہنماﺅں کے درمیان باضابطہ مذاکرات آج ہونگے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق صدر زرداری اور ڈیوڈ کیمرون کے درمیان عشائیہ پر ملاقات کا یہ اہتمام محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ 30 سال قبل آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے والے برطانیہ کے وزیر برائے انٹرنیشنل ایڈ ایلن ڈنکن نے کیا تھا۔ برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ پر دیئے گئے اس عشائیہ میں بلاول بھٹو زرداری، آصفہ زرداری، برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے والے دیگر لوگ بھی شریک ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہ عشائیہ غیر سرکاری تھا اور اسے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی خدمات کے اعزاز سے منسوب کیا گیا تھا۔ اے ایف پی کے مطابق 10 ڈاﺅننگ سٹریٹ سے ڈیوڈ کیمرون کے ترجمان کے مطابق ان مذاکرات سے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے کا موقع ملے گا۔ ترجمان کے مطابق کیمرون اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس بات پر مذاکرات کریں گے کہ پاکستان کی امداد اور حمایت کیسے جاری رکھی جا سکتی ہے۔ رائٹر کے مطابق دونوں ممالک اس موقع پر باہمی کشیدہ ہو جانے والے تعلقات کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کرینگے۔ لندن سے نمائندہ خصوصی کے مطابق صدر زرداری نے اس عشائیہ سے قبل سنٹرل لندن کے چرچل ہوٹل میں برطانوی وزیر داخلہ تھریسامے اور دےگر اعلیٰ برطانوی عہدیداروں سے بھی ملاقاتیں کیں سابق برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے فون پر بات چیت کی۔ صدر زرداری نے برطانوی وزیرداخلہ تھریسامے سے ملاقات میں عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سیلاب زدگان کی دل کھول کر امداد کرے۔ اس ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ، سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر، صدر کے سیکرٹری ملک آصف حیات اور دوسرے سینئر حکومتی اہلکار شامل تھے۔ صدر نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے امداد بڑھا کر 5 ملین پاﺅنڈ کرے۔ عالمی برادری کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔ ویزا کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پاکستانیوں کو ویزا کے حصول میں حائل مشکلات دور کرنے کی ضرورت ہے خصوصی طور پر سٹوڈنٹس اور بزنس مینوں کیلئے ویزا کے حصول میں حائل مشکلات دور کی جانی چاہئیں۔ تھریسامے نے یقین دلایا کہ وہ ویزا کی مشکلات دور کرنے کیلئے پاکستانی حکام سے رابطے میں رہیں گی۔ پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے اس موقع پر سفارتی اور سرکاری پاسپورٹوں پر ویزا کی پابندی ختم کرنے کیلئے معاہدہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ برطانوی وزیر داخلہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی کوششوں کوسراہا۔ صدر زرداری نےاقتصادی ترقی اور خصوصی طور پر جوانوں کیلئے ملازمتوں کے مواقع کے حوالے سے عالمی حمایت پر زور دیا انہوں نے یورپی یونین اور عالمی مارکیٹوں میں پاکستان کی رسائی کیلئے تجارت بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ آن لائن کے مطابق صدر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی رابطوں سے تعلقات مزید مربوط اور مضبوط ہوئے ہےں برطانےہ کے ساتھ نہ صرف ہم انٹےلی جنس شےئرنگ بلکہ دےگر شعبوں مےں بھی مزید مضبوط تعاون چاہتے ہےں، پاکستانی نژاد برطانوی ارکان پارلےمنٹ سے گفتگو مےں صدر نے کہا کہ وہ برطانےہ مےں مقےم پاکستانےوں کے کردار سے پوری طرح آگاہ ہےں پاکستانےوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان کا جلد ازالہ کےا جائے گا، صدر زرداری نے واضح کےا کہ وہ برطانوی وزےراعظم سے اپنی ملاقات مےں ان کے بھارت مےں دئےے گئے بےان کا معاملہ اٹھائےں گے اور اس بارے مےں قوم اور حکومت کا واضح موقف ان کے سامنے رکھا جائے گا،دہشتگردی کے خاتمے کیخلاف جنگ مےں پاکستان کو بھاری جانی ومالی نقصان ہوا ہے،اس کے باوجود ہم پر انگلےاں اٹھانا دہشتگردی کے خلاف ہمارے قائدانہ کردار کی نفی ہے،پاکستان نہ صرف اپنے عوام بلکہ خطے اور دنےا کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنے کےلئے کردار ادا کر رہا ہے۔ مسلح افواج اور سےکورٹی فورسز کی قربانےاں کسی بھی دوسرے ملک سے بڑھ کر ہےں، برطانوی ارکان پارلےمنٹ نے انہےں پاکستان برطانےہ تعلقات کے حوالے سے نقطہ نظر سے آگاہ کےا برطانےہ مےں مقےم پاکستانےوں کے مسائل بھی زےر غور آئے۔عشائیہ کے دوران برطانوی وزیراعظم نے زرداری کے ساتھ گرمجوشی سے مصافحہ کیا