دریائے سندھ، سیلابی ریلہ پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد سندھ کے ضلع کشمور میں واقع گڈوبیراج سے گذر رہا ہے، بیراج میں پانی کی آمد نو لاکھ ستر ہزار چھ سو کیوسک جبکہ اخراج نو لاکھ پچاس ہزار کیوسک ہے۔

دریائے سندھ، سیلابی ریلہ پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد سندھ کے ضلع کشمور میں واقع گڈوبیراج سے گذر رہا ہے،  بیراج میں پانی کی آمد نو لاکھ ستر ہزار چھ سو کیوسک جبکہ اخراج نو لاکھ پچاس ہزار کیوسک ہے۔

گڈوبیراج میں آج شام تک دس لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گذرے گا ۔ کشمور میں سیلابی بند سے بہنے والے پانی کے باعث مزید دس بستیاں زیرآب آگئی ہیں ۔ بستی لال بیگ ، مزاری ، سکندرچانڈیو، مست علی ، یاسین منگی اورگردنواح میں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے ۔ تحصیل اوباڑو میں پچاس سے زائد گوٹھ سیلاب سے تباہ ہوچکے ہیں ۔ سیلاب سے ہزاروں افراد متاثرہ ہیں ۔ سیلابی ریلے سے کشمور، شکارپور، گھوٹکی، لاڑکانہ اور دیگر اضلاع میں بھی متعدد علاقے زیر آب آچکے ہیں ۔ گھوٹکی میں قادر پوربند کے آس پاس پچاس سے زائد دیہات زیرآب ہیں جبکہ پاک فوج کے دستوں نے پانچ ہزارمتاثرہ افراد کو وہاں سے نکال لیا ہے ۔ قادرپوربند بائیس کلومیڑکے ایریا میں کشمور سے سکھر تک پھیلا ہوا ہے جبکہ رینجرز ، پولیس اورمحکمہ آبپاشی کا عملہ بند کی حفاظت پرمامورہے ۔ اس علاقے میں ڈی سی او گھوٹکی عبدالعزیز کی نگرانی میں دس سے زائد ریلیف کیمپ قائم کردیئے ہیں ۔ صوبہ سندھ میں دریا کے کنارے کچے کے علاقوں میں آباد لاکھوں افراد حکومت کی جانب سے متبادل جگہ فراہم کئے جانے کے باوجود اپنا علاقہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ متاثرین سیلاب کے لئے ریلیف کیمپ قائم کئے جاچکے ہیں تاہم کیمپوں میں متاثرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔ سیلابی ریلے سے شکارپور بچل بھائیوں کے قریب چوبیس دیہات زیرآب آگئے ۔ دو ہزار افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں ، ان متاثرین کی محفوظ مقامات کی جانب منتقلی کا کام جاری ہے ۔ سیلابی ریلے میں ایک خاتون کے بہہ جانے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔