پیپلزپارٹی پنجاب کی تنظیم دو حصوں میں تقسیم‘ زرداری نے پارٹی کو پنجاب میں عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کی ہدایت کر دی

کراچی (سٹاف رپورٹر) صدر آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہاں تصادم کی سیاست سے گریز کیا جائے۔ بلاول ہاﺅس کے صدارتی کیمپ میں صدر زرداری نے گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں بابر اعوان اور جہانگیر بدر سے بھی ملاقاتیں کیں اور پنجاب کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2013ءالیکشن کا سال ہے۔ صدر نے ہدایت کی کہ پنجاب میں عوامی رابطہ مہم کو تیز اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے تاہم انہوں نے کہا کہ ہم تصادم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اس سے گریز کیا جائے۔ پنجاب میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قمر الزماں کائرہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) گھبراہٹ اور سیاسی تنہائی کی شکار ہے‘ احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے‘ ہمیں مسلم لیگ (ن) سے کوئی خطرہ نہیں۔ سرائیکی صوبہ تنظیمی مسئلہ ہے علاقے کے لوگوں کی خواہش پر نئے صوبے کی تشکیل غلط بات نہیں۔ پیپلز پارٹی کی عوامی رابطہ مہم جاری ہے اور جاری رہے گی۔ پی پی پی کو ختم نہیںکیا جا سکتا۔ پھانسیوں پر لٹکانے کے نعرے لگانے والے اپنا ماضی دیکھیں۔ عمران خان نے جن مسائل کی نشاندہی کی حکومت اسے خوش آمدید کہتی ہے۔ کائرہ نے بتایا کہ صدر زرداری نے پی پی پی پنجاب کی تنظیم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ مخدوم شہاب الدین پی پی پی جنوبی پنجاب کے صدر اور امتیاز صفدر وڑائچ پی پی پی سنٹرل پنجاب کے صدر ہوں گے۔ یہ فیصلہ پارٹی کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کسی تحریک سے کوئی خطرہ نہیں۔ پی پی پی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا ہے کہ مفاہمتی عمل جاری رہے گا‘ الیکشن 2013ءمیں ہی ہوں گے‘ پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ہدایت‘ سپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کی پی سی بی سے رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو ہدایت دی کہ مفاہمت کی پالیسی کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔