فیصل آباد: شادی میں فائرنگ سے بچے کی ہلاکت، سپریم کورٹ نے سی پی او کو نااہل قرار دےدیا

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت / نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے فیصل آباد میں شادی کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے نتیجہ میں 12 سالہ بچے کی ہلاکت کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سی پی او فیصل آباد رائے طاہر کو نااہل قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب کو ان کیخلاف فوری کارروائی اور کسی نئے اہل سی پی او کے تقرر کا حکم دیدیا جبکہ ملزم کی ضمانت منظور کرنیوالے ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد عدنان کیخلاف کارروائی کا معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دیا۔ گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ملزمان کی جانب سے جاں بحق ہونے والے 12 سالہ بلال کے والد کو دیت کی رقم قانون کے مطابق ادا نہ کرنے اور مقامی ایم پی اے کی جانب سے دباﺅ ڈالنے پر فیصل آباد کےس سی پی او رائے طاہر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران صرف اپنی نوکریاں کر رہے ہیں‘ بااثر افراد کے زیر اثر رہتے ہیں تو ایک عام آدمی کو انصاف کیسے ملے گا۔ اس طرح تو طاقتور فریق غریب پر دباﺅ ڈالے گا۔ کھیل تماشے میں کسی غریب کا بچہ مار دیا گیا اور کسی کو اس کی ہلاکت کا احساس نہیں۔ جسٹس افتخار نے پولیس افسر رائے طاہر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جس ایم پی اے خواجہ اسلام نے راضی نامہ کیلئے دباﺅ ڈالا کیا آپ نے ابھی تک متعلقہ ایم پی اے خواجہ اسلام کا بیان لیا ہے کہ وہ اس میں مداخلت کیوں کر رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کو لکھ کر دیں کہ میں اپنے علاقے میں امن لانے میں ناکام ہو چکا ہوں۔ اس دوران رائے طاہر نے عدالت سے معافی کی درخواست کی جسے فاضل عدالت نے مسترد کر دیا اور کہا کہ کسی غریب کا گھر تباہ کرکے بعد میں معافی مانگ لیتے ہیں۔ پولیس افسران نے عجیب روایت بنا رکھی ہے۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے عدالت کو بتایا کہ قتل کی دیت 30 ہزار‘ 630 قیراط چاندی ہے۔ اس کی مالیت تقریباً 32 لاکھ روپے بنتی ہے اگر بدلہ یا سمجھوتہ ہو تو دیت کی رقم کا تعین فریقین پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔