سندھ میں بلدیاتی نظام ہےیاکمشنری نظام الجھن نہ سلجھ سکی ،پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بھی کشمکش سے باہر نہیں نکل سکیں۔

سندھ میں بلدیاتی نظام ہےیاکمشنری نظام الجھن نہ سلجھ سکی ،پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بھی کشمکش سے باہر نہیں نکل سکیں۔

سندھ میں نئے مجوزہ بلدیاتی انتظامی نظام کے بارے میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی ۔ پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر صغیر احمد نے سندھ کے مجوزہ نظام کے بارے میں واضح طور پر کوئی موقف نہیں دیا۔ڈاکٹر صغیر کا کہنا تھا کہ صوبے کا امن و امان مستحکم رکھنے کے لئے ایم کیو ایم نے کمشنری نظام کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا اور اسی لئے ایم کیو ایم نے کوئی شرط نہیں رکھی، تاہم آپس میں مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما پیر مظہر الحق بھی تذبذب کا شکار دکھائی دیئے ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی سندھ کے عوام کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کونسا قانون ہو گا اس کا فیصلہ عید کے بعد کیا جائے گا ، پریس کانفرنس کے بعد صحافیوں نے دونوں رہنماﺅں پرسندھ میں مجوزہ نظام کے حوالے سے تابڑ توڑ سوالوں کے حملے کر دیئے جسکا دونوں رہنما واضح جواب نہ دے سکے اور سندھ میں کونسا نظام ہو گا یہ کشمکش جوں کی توں برقرار ہے