گیس بند کی گئی تو ہڑتال کر دیں گے: سی این جی ایسوسی ایشن‘ صنعتکاروں‘ تاجروں نے بھی فیصلہ مسترد کر دیا

لاہور (کامرس رپورٹر/ سٹاف رپورٹر/ ایجنسیاں) سی این جی ایسوسی ایشن‘ صنعتکاروںاور تاجروں نے سی این جی سٹیشنوں اور صنعتوں کو ہفتے میں دو روز بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے معیشت کیلئے نئی حکومتی سازش قرار دیا ہے۔ چیئرمین سی این جی ایسوسی ایشن نے کہا کہ گیس بند کی گئی تو غیرمعینہ مدت کیلئے ہڑتال کرینگے جبکہ صنعتکاروں اور تاجروں نے کہا کہ حکومتی فیصلے سے روزانہ اجرت کمانے والے ہزاروں محنت کشوں کے خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے۔ زبردستی تھوپے گئے فیصلے کو قبول نہیں کرینگے‘ صنعتی پیداوار مزید کم ہو جائیگی‘ فیصلے سے برآمدات بُری طرح متاثر ہونگی‘ فیصلہ ملکی مفاد میں نہیں‘ ملک میں نیا بحران جنم لے گا۔ تفصیلات کے مطابق سی این جی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ملک بھر کے 2200سی این جی سٹیشنوں اور 3000سے زائد صنعتی یونٹوں کو کسی طرح بند رکھا جا سکتا ہے ہمیں یہ عاجلانہ فیصلہ منظور نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں آل پاکستان سی جی جی ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی فیصلے سے مالکان کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو گا جبکہ سی این جی ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع نے کہاکہ اس بارے میں ڈیلرز سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ فیصلے سے سی این جی انڈسٹری پر بُرے اثرات مرتب ہونگے۔ لاہور چیمبر کے صدر‘ نائب صدر نے کہاکہ گیس بند کرنیکی بجائے جنگی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار بڑھائے۔ وفاق ایوان ہائے تجارت و صنعت کے نائب صدر حمید اختر چڈھا اور خواجہ خاور رشید نے کہا کہ ہمارا ملک اس قسم کے فیصلوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے‘ حکومتی فیصلے سے ایکسپورٹ آرڈر متاثر ہونگے۔ اکبر شیخ نے کہاکہ ٹیکسٹائل پالیسی میں وعدہ کیا گیا تھا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی لیکن اب 2دن کے لئے گیس کی بندش کی جا رہی ہے۔ انجمن تاجران کے سیکرٹری عبدالرزاق ببر نے کہا کہ تاجر برادری اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے‘ ہمارے کاروبار تباہ ہو جائیں گے‘ قومی تاجر اتحاد لاہور کے صدر بابر علی خان اور جنرل سیکرٹری نذیر احمد چوہان نے اسے معیشت کے لئے ایک سازش قرار دیا۔ حکومت فیصلے سے گوجرانوالہ کے شہریوں اور صنعت برادری میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف صنعتوں کے مالکان محمد اعظم بھٹہ‘ چودھری محمد سرور نے وفاقی حکومت کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کا یہ فیصلہ انتہائی غیردانشمندانہ ہے جسے فوری واپس لیا جائے۔
ردعمل