لاپتہ افراد کے بچے دردر ٹھوکریں کھا رہے ہیں‘ حکومت اقدامات کیوں نہیں کرتی: چیف جسٹس‘ وزارت داخلہ کو آمنہ مسعود کے شوہر کو تلاش کرنے کا حکم

اسلام آباد (خبر نگار + ثناءنےوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزارت داخلہ کو آمنہ مسعود جنجوعہ کے شوہر کو تلاش کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاتہ افراد کے بچے دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں‘ حکومت آخر اقدامات کیوں نہیں اٹھا رہی۔ بدھ کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس چودھری اعجاز احمد اور جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل تین رکنی بنچ نے لاپتہ افراد کے حوالے سے لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ قمر زمان کو حکم دیا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ کے شوہر کو ڈھونڈ کر لائیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کا مقدمہ پانچ سال سے زیر سماعت ہے یہ معاملہ حل نہیں ہو سکا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی ہے اس سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے فوری طور پر آئی جی اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ اور آر پی او راولپنڈی کو طلب کیا اور ان کو ہدایت کی آمنہ مسعود جنجوعہ کے شوہر مسعود جنجوعہ کو ایک بجے دن تک بازیاب کرا کر لایا جائے آئی جی اسلام آباد سے چیف جسٹس نے پوچھا کہ آمنہ مسعود جنجوعہ اور دیگر لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو کس نے ریڈزون میں آنے دیا۔ آپ لوگوں نے یہ کیمپ لگوایا ہے مسعود جنجوعہ کا پتہ چلایا جائے جس کے بعد آئی جی اسلام آباد کلیم امام نے کورٹ کو بتایا کہ مسعود جنجوعہ کی بازیابی کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ سے مذاکرات کئے ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے گی آمنہ مسعود جنجوعہ سے مذاکرات کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ ان کا کیمپ ختم کرایا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے ان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے کہا تھا یہ نہیں کہا تھا کہ آپ ان کا کیمپ ختم کرنے کے لئے مذاکرات کریں کتنے افسوس کی بات ہے کہ آمنہ مسعود جنجوعہ سپریم کورٹ کے باہر خیمہ زن ہیں کیونکہ ان کے شوہر تین سال سے لاپتہ ہیں بتایا جائے کہ مسعود جنجوعہ کہاں ہے لاپتہ افراد کے بچے دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیںحکومت آخر کیوں اقدامات نہیں اٹھا رہی ہے آئی جی اسلام آباد اور سیکرٹری داخلہ اس حوالے سے رجسٹرار آفس میں رپورٹ دیں۔ عدالت عظمیٰ نے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد کو ہدایت کی کہ پنجاب کے آئی جی کو ساتھ ملائیں اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔ آئی این پی کے مطابق وزارت داخلہ نے لاپتہ افراد کے حوالے سے ستمبر 2006ءسے تاحال کی گئی کوششوں کی تفصیلات پیش کیں‘ جس کے مطابق ستمبر 2006ءمیں 416 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سپریم کورٹ کو موصول ہوئی تھیں جن کے بعد وزارت داخلہ نے سپریم کورٹ کے حکم پر 241 افراد کو بازیاب کروا لیا جبکہ 175 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ وزارت داخلہ نے عدالت عظمیٰ کو یقین دلایا ہے کہ مزید لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ”نادرا“ کی مدد سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے سپیشل ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ حکم