سکیورٹی فورسز لدھا میں داخل‘ گلیوں میں لڑائی‘ مزید 30 شدت پسند جاں بحق‘ سوات میں فضل اللہ کا قریبی ساتھی سیف اللہ اور کمانڈر نیک زادہ گرفتار

وانا + سوات (ایجنسیاں + ریڈیو نیوز + اے ایف پی) جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز لدھا کے علاقے میں داخل ہو گئی ہیں۔ گلیوں میں دست بدست لڑائی‘ جھڑپوں میں مزید 30 شدت پسند جاںبحق اور 2 افسروں سمیت 8 سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے۔ شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ ہو گئے۔ سوات میں فورسز نے فضل اللہ کے قریبی ساتھیوں سیف اللہ اور کمانڈر نیک زادہ کو گرفتار کر لیا‘ ان کے 24 ساتھی بھی پکڑے گئے‘ بنوں اور سوات میں 17 شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ کرم ایجنسی میں جھڑپ کے دوران 5 شدت پسند مارے گئے۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان اطہر عباس کے مطابق جنوبی وزیرستان میں آپریشن راہ نجات کے دوران 30 شدت پسند جاںبحق ہوئے جبکہ شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں 8 سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ سراروغہ کے زیادہ تر حصے کو کلیئر کرا لیا گیا ہے‘ اس دوران جھڑپوں میں 16 شدت پسند مارے گئے‘ لدھا کی گلیوں میں شدید لڑائی جاری ہے جس کے دوران 10 شدت پسند جاںبحق ہوئے جبکہ مکین اور رزمک سے فورسز نے شدت پسندوں کی مختلف پناہ گاہوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود برآمد کر لیا جبکہ جھڑپوں میں 4 شدت پسند مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے سراروغہ کنی گرام اور کوٹ کئی سمیت کئی علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ان علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے جس کے بعد شدت پسند شمالی وزیرستان اور کرم ایجنسی کی طرف فرار ہو رہے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں تین ہفتوں سے جاری آپریشن کے دوران تین سو سے زائد شدت پسند مارے جا چکے ہیں جبکہ بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے سوات کے علاقے کوزہ بانڈی میں سرچ آپریشن کے دوران مولوی فضل اللہ کے اہم قریبی ساتھی اور شدت پسند کمانڈر سیف اللہ کو گرفتار کر لیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق شدت پسند کمانڈر سیف اللہ کوزہ بانڈی میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں بھی ملوث تھا جبکہ کمانڈر نیک زادہ کو کوزہ بانڈئی سے گرفتار کیا گیا۔ دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے مٹہ کے علاقے کلاکوٹ میں سرچ آپریشن کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے قتل میں ملوث تین شدت پسندوں کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ کرم ایجنسی میں سپین ٹل کے علاقے میں شدت پسندوں نے سکیورٹی چیک پوسٹ پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سپن ٹل اور لوئر کرم کے علاقے چٹیانگہ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کی۔ کارروائی میں پانچ شدت پسند جاںبحق اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ ان کے دو ٹھکانے بھی تباہ ہو گئے۔ واقعے کے بعد ٹل‘ کرم ایجنسی روڈ اور شمالی وزیرستان ٹل روڈ بند کر دی گئی ہے۔ دوسری طرف باجوڑ ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر خار میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے تین شدت پسندوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جبکہ ملا سید اور چہارمنگ میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری جاری ہے جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادھر جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے 3 ہزار 7 سو بچوں کو ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے سکولوں میں داخلہ دیا گیا ہے۔ یہ بچے ٹانک میں 14 اور ڈیرہ اسماعیل خان کے 9 سکولوں میں شام کی شفٹ میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ سپیشل سپورٹ گروپ کے زیر اہتمام پاکستان پوورٹی ایلی ویشن فنڈز کے تحت جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان پہنچنے والی خواتین کو کشیدہ کاری اور نوجوانوں کو ہنر کی تربیت دی جائے گی۔
فورسز لدھا میں داخل