کشکول توڑنے کی باتیں کرنے والوں کا پیالہ تو ہم سے بھی بڑا نکلا: خورشید شاہ

کشکول توڑنے کی باتیں کرنے والوں کا پیالہ تو ہم سے بھی بڑا نکلا: خورشید شاہ

اسلام آباد (اے پی اے + آئی این پی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کشکول توڑنے کی باتیں کرنے والوں کا پیالہ تو ہم سے بھی بڑا نکلا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کشکول توڑنے کے دعویداروں کا پول کھل کر سامنے آرہا ہے، آئی ایم ایف سے ہونے والی بات چیت سے ثابت ہو رہا ہے ہمارا کشکول ڈیڑھ فٹ کا تھا تو ان کا ڈیڑھ میٹر کا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے بلائی جانےوالی اے پی سی کی باضابطہ دعوت موصول نہیں ہوئی اس کا مقصد ملک میں امن و امان کا قیام ہے تو پھر اس میں عسکری اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کو بھی بلانا ہو گا۔ انہوں نے کہا چیئرمین نیب کی تقرری کے سلسلے میں مشاورت کا عمل شروع ہو چکا ہے اس سلسلے میں حکومت اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک نہیں، نیک نیتی سے اس پر اتفاق رائے کی کوشش کریں گے۔ ان کا کہنا تھا چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملے پر ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور عوامی نیشنل پارٹی سے رابطہ کیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے دورہ چین سے واپسی سے قبل ہی اس حوالے سے جوابی خط ارسال کر دیا جائے گا۔ آئی این پی کے مطابق انہوں نے کہا اے این پی نے چیئرمین نیب کی تقرری کے معاملے پر ہمارا ساتھ دیا ہے جبکہ ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے ابھی تک رابطہ نہیں کیا۔ ہم کسی طور فرینڈلی اپوزیشن نہیں ہو سکتے، انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) کی طرح قیادت کو گالیاں نہیں دینگے، مصر میں مارشل لاءاور پاکستان میں ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں، نوازشریف دوبارہ سوئس کیسز دوبارہ کھولنا چاہتے ہیں تواس سلسلے میں آئین و قانون کے مطابق جواب دینا ہو گا، حکومت کی جانب سے 12 جولائی کو بلائی گئی اے پی سی میں شرکت کے لئے دعوت ملی تو پارٹی سے مشاورت کے بعد شرکت کرینگے۔ انہوں نے کہا 29 جون کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے چیئرمین نیب کےلئے زبانی مشاورت ہوئی تھی جس پر میں نے شاہ محمود قریشی، فاروق ستار اور امیر حیدر ہوتی سے ٹیلیفونک رابطے کئے مگر انہوں نے کوئی نام تجویز نہیں کیا حالانکہ اپوزیشن لیڈر کو مکمل اختیار ہے وہ نیب چیئرمین کےلئے اکیلا بھی نام دے سکتا ہے مگر ہم اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ زبانی مشاورت میں بھگوان داس، شعیب سڈل اور نسیم کوثر کے نام زیر بحث آئے تھے مگر مسلم لیگ (ن) نے تحریری خط میں جسٹس ریٹائرڈ رحمت حسین جعفری اور خواجہ ظہیر کا نام دیا ہے ان دونوں پر پیپلز پارٹی اپنا م¶قف وزیراعظم کو میں پیش کرےگی۔ انہوں نے کہا جب ہم حکومت میں تھے تو چاہتے تھے اتفاق رائے سے نیا احتساب بل پاس ہو مگر اپوزیشن کے اعتراضات کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا اب بجلی مہنگی کر کے عوام پر بوجھ ڈال رہے ہیں ان کی حکومت کے آنے سے یہ فرق پڑا ہے ڈالر 100 روپے سے بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا اے پی سی میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی سیاسی قیادت کے ساتھ بٹھایا جائے۔
خورشید شاہ