چینی کمپنیاں تھرکول‘ بھاشا ڈیم‘ ونڈ پاور اور سولر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی : نوازشریف

چینی کمپنیاں تھرکول‘ بھاشا ڈیم‘ ونڈ پاور اور سولر منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے گی : نوازشریف

بیجنگ (نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) وزیراعظم محمد نوازشریف نے چائنا ڈویلپمنٹ بنک، چین کے امپورٹ ایکسپورٹ بنک، چائنا انوسٹمنٹ کارپوریشن، اوریئنٹ کمپنی اور دیگر کے سربراہوں اور نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے مختلف چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری، تجارت اور توانائی کے منصوبوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ چینی کمپنیوں نے پاکستان کی ترقی کے لئے مختلف منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اوریئنٹ کمپنی کے صدر نے کہا کہ وہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن چین تک پہنچانے کو تیار ہیں۔ اس حوالے سے تکنیکی تعاون کے لئے چینی ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔ وزیراعظم نوازشریف نے سرمایہ کاری، تجارت اور توانائی کے منصوبوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان اور چین جامع شراکت دار ہیں میرے دورے سے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزیدمستحکم ہوں گے، حکومت انہیں مکمل تحفظ دے گی اور تمام شکایات دور کریں گے، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں چین کا تعاون چاہتے ہیں‘ توانائی پالیسی کا جلد اعلان کریں گے۔ چینی کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات میں وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا کہ چین کی معاشی ترقی کے تجربے سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ معیشت کی بحالی اولین ترجیح ہے۔صدر چائنہ ڈویلپمنٹ بینک نے معدنیات اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں مزید 3.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بینک نے اوگرا کی جانب سے کوئلے اور ونڈ انرجی منصوبوں پر لگائے گئے ٹیرف کی شکایت کی جس پر وزیراعظم نے تمام رکاوٹیں دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعطم نے چائنا ڈویلپمنٹ بینک کے صدر سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں توانائی اور ٹیلی کیونیکیشن سمیت مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری سے متعلقہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل ایگزم بینک کے صدر سے ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایگزم بینک پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کرے۔ زیر زمین میٹرو ٹرین کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ اتنی کمپنیوں کے سربراہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور تجارتی معاہدوں میں دلچسپی ظاہر کی۔ ملاقاتوں کا مقصد پاکستان چین تعلقات کو مضبوط اور پاک چین روابط کو سڑک اور ریل کے ذریعے ملانے کی کوشش کرنا ہے۔ وزیراعظم سے اوریئنٹ کمپنی کے صدر نے بھی ملاقات کی۔ اوریئنٹ کمپنی کے صدر نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں ایک ہزار میگاواٹ بجلی منصوبے پر کام کررہی ہے اور یہ منصوبہ 18 ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن کو چین تک پہنچانے کیلئے تیار ہیں۔ اس حوالے سے تکنیکی تعاون کیلئے جلد چینی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کیلئے سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ توانائی بحران کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، تیل گیس کے ذخائر کی تلاش میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرینگے۔چین کے ایگزم بینک کے صدر لی روگو سے گفتگو کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ پاکستان مختلف شعبوں میں چین کی امداد اورتعاون کو قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہے۔انہوں نے ایگزم بینک کے صدر پرزور دیا کہ وہ پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں پرکام کرنے کی خواہشمند چینی کمپنیوں کو سرمایہ فراہم کریں۔وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ہماری حکومت ملک میں مختلف منصوبوں میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو مکمل سکےورٹی فراہم کرے گی۔ایگزم بینک کے صدر نے کہا کہ ان کے بینک نے پہلے ہی پاکستان میں چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی، ترقیاتی منصوبوں خاص طور پر توانائی کے شعبے کیلئے مزید فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف ،منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیراحسن اقبال اور مشیر طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ نواز شریف نے کہا کہ چینی بنکوں اور مالیاتی اداروں کے سربراہوں کے ساتھ ان کی ملاقات مفید اور نتیجہ خیز رہی ہے۔ بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں اور بینکاروں کے ساتھ جامع اور تعمیری مذاکرات کئے ہیںاور امید ظاہر کی کہ اس سے پاکستان میں اقتصادی سرگر میاں مزید تیز ہوںگی۔ نواز شریف نے پاکستان کی ترقی میں چینی سر مایہ کاروں کی طرف سے دلچسپی لینے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ چین پاکستان کی طرف سے مقرر کردہ اقتصادی اہداف کے حصول کیلئے گہری دلچسپی لے رہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چینی کمپنی نے کراچی میں میڑو ماس ٹرانزٹ منصوبے شروع کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے لوگوں کو سستی اور تیز رفتار ٹر انسپورٹ کی سہولت میسر آئے گی۔وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور چین کے درمیان مجوزہ ریلوے اور شاہراہوں پر مشتمل راہداری سے خطے میں اقتصادی ترقی اور خو شحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔انہو ں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ منصوبہ خطے کے عوام کی قسمت بدل کر رکھ دے گا۔چائنہ پاورانویسٹمنٹ کمپنی کے وفد سے بات چےت مےں وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ چینی کمپنیوں کے سرمائے کا مکمل تحفظ کیا جائے گا جس کی گارنٹی وفاقی حکومت دے گی، کسی منصوبے کو بدامنی کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا، انہوں نے سرمایہ کاروں کوٹیکسوں میں چھوٹ دینے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کراچی میں ماس ٹرانزٹ سسٹم میں چینی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کوسراہا، ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں نے جوکام چند ہفتوں میں شروع کرنا چاہتے ہیں وہ آج ہی شروع کرلیں، حکومت 7 دن میں ہرمعاہدے کی منظوری دے گی۔وزیراعظم نوازشریف سے چائنہ پاور انویسٹمنٹ کمپنی کے وفد نے ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم نے وفد کوتھرکول، ونڈ پاورسولر پراجیکٹس اور بھاشا ڈیم میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ فوری طور پر منصوبوں کی منظوری دینے کے لیے تیارہیں، چینی سرمایہ کار کمپنیوں نے نئی حکومت پر بھرپور اعتماد کا اظہارکرتے ہوئے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کا یقین دلایا، چینی سرمایہ کار نہ صرف کاشغرسے گوادرتک سڑک تعمیر کریں گے بلکہ انہوں نے ریل منصوبے میں سرمایہ کاری کی بھی یقین دہانی کرائی، کراچی سے لاہور اور پشاور تک ریل اور سڑک کے منصوبے بھی مکمل کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان میں پن بجلی، کوئلے سے بجلی پیدا کرنے، موٹر ویز اور تیز رفتار ٹرینوں جیسے شعبوں میں چینی سرمایہ کاروں کیلئے بے پنا مواقع ہے۔ گوادر سے کاشغر تک اقتصادی راہداری سے نہ صرف پاکستان اور چین کے عوام بلکہ تمام علاقائی ممالک کوفائدہ پہنچے گا۔ چینی کمپنیوں نے پاکستان میں میٹرو نظام اور کراچی ماس ٹرانزٹ منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی۔ نوازشریف نے چینی کمپنیوں کے نمائندوں سے انسداد دہشت گردی، اقتصادی راہداری کے مجوزہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ توانائی بحران کا حل اولین ترجیح ہے اقتصادی راہداری سے اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ چین کے ایکسپورٹ امپورٹ (ایگزم) بینک کے سربراہ لی روگیو نے کہا کہ چین کے تعاون سے پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے‘ چین نے پن بجلی‘ تھرمل اور جوہری بجلی کے شعبوں میں پاکستان سے تعاون کیا اور کرتا رہے گا۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایگزم بینک کی طرف سے پاکستان میں 27 منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔ ہم نے پاکستان سے بجلی اور دیگر شعبوں میں تعاون کیا ہے اور یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ ٹرانسپورٹیشن اور ڈھانچہ جاتی شعبوں میں تعاون بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چین کیساتھ قریبی تعاون سے پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔
بیجنگ (نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) وزیراعظم محمد نواز شریف اور چین کے صدر شی جن پنگ نے پاکستان چین سدا بہار دوستی کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ جب چینی وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں بطور وزیراعظم سب سے پہلے چین کا دورہ کروں۔ میں نے وزیراعظم لی جیانگ کی خواہش پوری کر دی ہے دوست ملک کا دورہ ان کیلئے اعزاز کا باعث ہے۔ وزیراعظم نے چینی صدر کو بتایا کہ پاکستان کو کئی چیلنجوں کا سامنا ہے معیشت کو موجودہ مشکلات سے نکالنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم نے کہا یہ ایک مشکل وقت ہے لیکن وہ ان تمام چیلنجوں پر قابو پانے کا عزم رکھتے ہیں۔ نواز شریف نے کہاکہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی کی صورتحال سے پوری طرح آگاہ ہیں حکومت اس میں بہتری کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ اقتصادی توانائی اور سکیورٹی چیلنجوں کا حل کرنا ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ چین اپنے دوست کا ساتھ دے گا۔ چینی صدر نے وزیراعظم نواز شریف کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور 2010ءمیں ہونے والی اپنی ملاقات کا حوالہ دیا۔ صدر شی جن پنگ نے کہاکہ انہیں اس ملاقات اور اس وقت زیرگفتگو آنے والے ایشوز کی خوشگوار یادیں ہیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہاکہ میری نظروں میں آپ اور آپ کے بھائی کی بہت قدر ہے، مجھے فخر ہے آپ نے اپنے پہلے غیر ملکی دورہ کیلئے چین کا انتخاب کیا۔ چینی صدر نے کہاکہ پاکستان ایک عظیم ملک ہے جس سے ہمیں بہت محبت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ نتیجہ خیز ثابت ہوگا کیونکہ دونوں ممالک نے اس کیلئے بہت پیشگی کام کیا ہے۔ چینی صدر نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دنوں میں ٹھوس نتائج سامنے آئیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ چین کا دورہ کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے۔ پاکستانی اور چینی عوام کے درمیان دوستی اور محبت کا رشتہ ہے۔ چین نہ صرف اچھا ہمسایہ بلکہ پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ چینی صدر نے نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ شی جن پنگ نے کہا کہ چین آمد پر نواز شریف کوخوش آمدید کہتا ہوں، دورہ چین کا انتخاب دونوں ملکوں میں شاندار تعلقات کا مظہر ہے۔ پاکستان چین تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان اور چین کا پائیدار سٹریٹجک تعلق ہے۔ ملاقات میں پاکستان اور چین نے ایک دوسرے کو بہترین دوست اور ہمسایہ قرار دیتے ہوئے باہمی دوستی اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ ترجمان وزیر اعظم ہاﺅس کے مطابق چینی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین ہر صورتحال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔ انہوں نے امیدظاہر کی کہ نواز شریف کے دور میں باہمی دوستی اور تعاون نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ چین نہ صرف پاکستان کا ہمسایہ بلکہ قریبی دوست ملک ہے۔ ا±نہوں نے ا±مید ظاہر کی کہ پاکستان اور چین کے تعلقات ا±ن کے دور حکومت میں مزید فروغ پائیں گے۔ پاکستان چین عوام کے درمیان محبت اور دوستی کا رشتہ ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے بیجنگ میں زیر زمین ریلوے پر سفر کیا اور اس بارے معلومات حاصل کیں۔ میٹرو ٹرین پر سوار ہونے سے پہلے وزیراعظم لائن6 کے آپریشن رو م میں گئے جہاں انہیں زیر زمین ریلوے نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ میٹرو ٹرین پر سفر کے دوران وزیراعظم کو منصوبے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ نواز شریف کو بتایا گیا کہ چینی حکومت میٹرو ٹرین سسٹم میں مسافروں کو سبسڈی فراہم کررہی ہے، فی گھنٹہ میں 40 ہزار سے زائد افراد زیرزمین ریلوے کے ذریعہ سفر کرتے ہیں۔ اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت نے بھی عوام کو کم خرچ پر آرام دہ سفر کی سہولیات فراہم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیجنگ کے زیرزمین ریلوے سسٹم نے انہیں متاثر کیا ہے۔ وہ بھی پاکستان میں ایسی ہی سہولیات فراہم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، وفاقی وزیر پلاننگ و ڈویلپمنٹ احس اقبال، وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے امور خارجہ طارق فاطمی، بیجنگ میں پاکستان کے سفیر مسعود خالد اور پاکستان اور چین کے اعلیٰ حکام بھی میٹرو سفر میں وزیراعظم کے ساتھ تھے۔