مرسی کیخلاف توہین عدالت کے الزامات کی تحقیقات‘ جھڑپوں میں مزید 14 ہلاک‘ 350 زخمی

مرسی کیخلاف توہین عدالت کے الزامات کی تحقیقات‘ جھڑپوں میں مزید 14 ہلاک‘ 350 زخمی

قاہرہ + واشنگٹن (اے ایف پی + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) مصری فوج کی جانب سے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد مرسی کو وزارت دفاع کی عمارت میں نظربند کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل وہ ایک فوجی عمارت میں نظربند تھے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ انہیں ایک فوجی بیرک میں رکھا گیا ہے۔ اخوان المسلمین کے مطابق مرسی کے دیگر ساتھیوں کو فوجی عمارت میں ہی نظربند رکھا گیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق اخوان المسلمون کے مرشد عام (سپریم لیڈر) محمد بدیع کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ان کے نائب خیرات الشاطر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے گئے ہیں۔ دوسری جانب مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں جاری رہیں اور مزید 14 افراد ہلاک اور 350 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ ادھر مصر کے جوڈیشل حکام نے مرسی کے خلاف عدالت کی توہین کے الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ مرسی اور ان کے 15 دیگر ساتھیوں پر الزام ہے انہوں نے عدالت کی توہین کی۔ یہ بات تحقیقاتی جج ثروت حماد نے بتائی۔ مرسی کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ان پر بیرون ملک جانے سے روکنے کا یہ دوسرا حکم ہے۔ دریں اثناءآئینی عدالت کے چیف جسٹس عدلی منصور نے عبوری صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے اور ملک میں تمام گروپوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی حکومت میں شامل ہوں۔ انہوں نے منصفانہ الیکشن کا وعدہ کیا ہے جس میں اخوان المسلمون بھی شامل ہو گی۔ بعض اطلاعات کے مطابق زیر حراست ڈاکٹر مرسی کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے۔ مرسی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد اخوان المسلمون کے سیاسی چہرے ”آزادی و انصاف“ کے کئی سرکردہ رہنماﺅں کوحراست میں لے لےا گےا ہے۔ اخوانی قیادت پر لوگوں کو اکسانے کے الزام میں 300 عہدےداروں کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حکام نے ”آزادی و انصاف“ کے چیئرمین سعد الکتاتنی، اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام ڈاکٹر رشاد البیومی اور کئی دیگر رہنماﺅں کو حراست میں لے لیا۔ ذرائع کے مطابق گرفتاریوں کا دائرہ اخوان المسلمون کے علاوہ کئی دوسری مذہبی جماعتوں اور مذہبی چینلوں کے مالکان اور عہدیداروں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام خیرات الشاطر کے صاحبزادے نے ”العربیہ“ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے والد کی گرفتاری کی خبروں کی تردید کی۔ روزنامہ ”الاہرام“ نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے تین سو سرکردہ رہنماﺅں کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے ہیں۔ قاہرہ کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اخوان المسلمون کے جن رہنماﺅں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں ان کی تلاش جاری ہے۔ وزیراعظم ہشام قندیل کو عدالتی حکم پر ایک سال کے لئے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ مرسی کی معزولی کے بعد مصر کے مختلف شہروں میں مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں جاری ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق جھڑپوں میں مزید 14 افراد ہلاک اور 350 سے زا ئد زخمی ہو گئے ہیں۔ محمد مرسی کا تختہ الٹے جانے کے بعد مخالفین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، انہوں نے قاہرہ سمیت کئی شہروں میں جشن منایا۔ اپوزیشن جماعتوں نے فوجی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمد البرادی کا کہنا تھا کہ فوج کے روڈ میپ سے انقلاب کی تجدید ہوئی ہے۔ دوسری جانب محمد مرسی کے حامیوں نے فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کیا۔ مختلف شہروں میں سکےورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ مرسی کا تختہ الٹے جانے کے بعد امریکہ نے اپنے غیر ضروری سفارت کاروں اور عملے کو مصر چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی کا کہنا ہے کہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر فوجی اقدامات بغاوت ثابت ہوئے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ مرسا ماترو میں فوج اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں برطرف کئے گئے صدر مرسی کے حامی چار افراد مارے گئے ‘ دوسرے واقعہ میں مرسی کے مسلح حامیوں نے شہر میں قائم سکیورٹی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کردیا اس تصادم میں 10 افراد زخمی ہو گئے۔ ساحلی شہر سکندریہ میں بھی مسلح تصادم میں مرسی کا ایک حامی مارا گیا۔ مرکزی صوبہ اسیوت اور صوبہ غربیہ میں بھی سکیورٹی فورسز اور مرسی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ مرسی حکومت کے خاتمے کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کے لئے مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر عمرو موسیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفاہمت کے لئے نتیجہ خیز بات چیت کا دور شروع ہو گیا ‘ مرسی کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا ہے، اب نئی حکومت کے لئے صلاح مشورے کئے جائیں گے۔ عبوری صدر کے حلف اٹھانے سے پہلے مصری فضائیہ نے قاہرہ پر فلائی پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔ اخوان المسلمون کے ایک سینئر رہنما محمد البلتگی نے کہا ہے فوجی بغاوت کے بعد اب بعض گروپوں کی جانب سے تشدد آمیز واقعات کا خدشہ ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اخوان ہتھیار نہیں اٹھائے گی۔ اخوان المسلمون نے کہا کہ الاہرام نے ان کا اخبار شائع کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اخوان المسلمون نے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک پولیس سٹیٹ بن چکا ہے۔ مصر کی اسلامی جماعتوں کے اتحاد نے اپنے حامیوں کو صدر مرسی کا تختہ الٹنے کے خلاف آج مظاہروں کی اپیل کر دی ہے۔ دوسری جانب سلفی تحریک نے ملکی صورتحال کے باعث احتجاج بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مصری وزیر خارجہ محمد کامل نے امریکی ہم منصب جان کیری سے رابطہ کر کے یقین دہانی کرائی ہے کہ فوجی بغاوت نہیں کی گئی۔ انسانی حقوق اور عوامی رائے کا احترام کیا گیا ہے۔
مصر / جھڑپیں