مرسی کو ہٹانے پر تحفظات‘ عمران فاروق کیس پر معلومات ہیں‘ برطانیہ نے تعاون مانگا تو کرینگے : نثار

مرسی کو ہٹانے پر تحفظات‘ عمران فاروق کیس پر معلومات ہیں‘ برطانیہ نے تعاون مانگا تو کرینگے : نثار

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی+نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے امریکی سفیر کو بتا دیا ڈرون حملوں سے پاکستان امریکہ تنازع پیدا ہو سکتا ہے جبکہ معاملہ افغانستان سے امریکی انخلا اور بعد کی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ ڈرون حملے ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں برطانیہ عمران فاروق قتل کیس میں الطاف حسین سے متعلق باخبر رکھے ہوئے ہے کیمرون حکومت نے کیس سے متعلق مدد مانگی تو دیکھیں گے۔وزارت داخلہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایف آئی اے نے مشرف کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی شروع کر رکھی ہے، کارروائی میں جو بھی پیشرفت ہوئی میڈیا کو آگاہ کروں گا۔ اے پی اے کے مطابق انہوں نے کہا الطاف حسین یا کسی بھی شخص کے بارے میں کارروائی قانون کے مطابق ہو گی۔ ایف آئی اے کی 4 رکنی کمیٹی پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت شواہد جمع کر رہی ہے اس کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی جائے گی۔ انہوں نے کہا ڈرون حملے فائدے کے بجائے نقصان پہنچا رہے ہیں تاہم تمام تر تحفظات اور احتجاج کے باوجود امریکا اسے جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکی ڈھٹائی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا لاپتہ افراد کی بازیابی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 3 ٹاسک فورس بھی تشکیل دی گئی ہیں جن سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا جنرل کیانی نے آرمی کو سیاست سے پاک کیا اس پر ان کو کریڈٹ ملنا چاہئے۔ آئی این پی کے مطابق انہوں نے کہا الطاف حسین کے بارے میں میرے پاس معلومات ہیں تاہم ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ڈرون حملے بند نہ ہوئے تو پاکستان امریکہ حکومتوں کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا سکیورٹی پالیسی راتوں رات نہیں بن سکتی، اس کے لئے مشاورتی اجلاس طلب کیاگیا ہے جس کی حتمی تاریخ کا تعین سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان سمیت آرمی چیف اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان کو مدعو کیا جائے گا۔ قومی سکیورٹی پالیسی کے دو حصے ہوں گے، ایک حصہ آپریشنل پالیسی پر مشتمل ہوگا جس میں انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی، انٹیلی جنس معلومات کو اکٹھا کرنا، کوئیک رسپانس اور دہشت گردی کے واقعے کی وجوہات اور کمزوریوں کی نشاندہی کرنا شامل ہوگا جبکہ دوسرا حصہ سٹریٹجک پالیسی پر مبنی ہوگا جس میں مذاکرات اور دہشت گردی میں ملوث گروپوں کے رابطوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں گی اور دیکھا جائے گا کہ ان گروپوں کی کون کون مدد کررہا۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں منتخب صدر کو ہٹانے پر شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا الطاف حسین یا کسی دوسرے ایشو کے حوالے سے میرے پاس کوئی معاملہ آئے گا تو قانون کے مطابق ایکشن لوں گا، الطاف حسین کا کیس لندن میں ہے اور اس حوالے سے ہمیں باخبر رکھا جارہا ہے، برطانوی حکومت کی طرف سے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی گئی، حکومت برطانیہ نے اس کیس میں تعاون کی اپیل کی تو ضرور کریں گے۔ انہوں نے کہا توقیر صادق کا کھیل ختم ہورہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کا کوئی عہدیدار بھی کرپشن کرے گا تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکی سفیر پر واضح کردیا ہے کہ یہ بند ہونے چاہئیں اور حکومت امریکہ کو بتایا جائے یہ حملے جاری رہے تو پاکستان اور امریکہ کی حکومتوں کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا نیا ڈی جی پاسپورٹ جلد تعینات کر دیا جائے گا، آرمی چیف سے میری ایک سے زیادہ ملاقاتیں ہوچکی ہیں، فوج کا سیاسی رول نہیں ہونا چاہیے، جہاں فوج اچھا کام کرے گی وہاں انکی تعریف کریں گے۔ ایک سوال پر بتایا خواتین بچوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات کے لئے ایف آئی اے میں خصوصی سیل بنایا۔ خبر نگار خصوصی کے مطابق انہوں نے کہا پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس 12 جولائی کو بلانے کی تجویز ہے، مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی تاریخ کا تعین کیا جائے گا، اجلاس میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان بریفنگ دیں گے، آرمی چیف کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ الطاف حسین کے حوالے سے سوال پر وزیرداخلہ نے کہا الطاف حسین کے حوالے سے جو بھی کیس یا معاملہ چل رہا ہے وہ پاکستان میں نہیں لندن میں ہے البتہ ہمیں اس سے باخبر رکھا جا رہا ہے، حکومتی یا سرکاری سطح پر ہم سے کوئی امداد یا ان پٹ نہیں مانگی گئی، اگر سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی مطالبہ کیا جائے گا تو قانون کے مطابق اقدام کریں گے۔ وزیر داخلہ نے کہا امریکی سفیر کو گزشتہ روز ملاقات میں واضح کر دیا وہ اپنی حکومت کو بتائیں مسلم لیگ ن کی حکومت ڈرون حملوں کے حوالے سے یکسو ہے اور یہ حملے جاری رہے تو امریکہ کے ساتھ شدید تنازعہ ہوگا اس حوالے سے ہماری پالیسی واضح ہے، ڈرون حملوں میں معصوم شہری جاں بحق ہو رہے ہیں اور یہ ہماری قومی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے، گزشتہ سات برسوں میں جو عادتیں پڑ چکی ہیں ان کو تبدیل کرنا ہوگا، امریکہ سوچ لے کیا وہ یہ حملے افورڈ کر سکے گا۔ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کمیٹی نے اس حوالے سے اپنا کام شروع کردیا ہے، انکوائری رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا بلوچستان اور کراچی کے حوالے سے ہماری پالیسی واضح ہے، صوبوں میں روزمرہ کے امن و امان کے معاملات پولیس کے دائرہ کار میں آتے ہیں، رینجرز اور ایف سی جب صوبے میں بھجوائے جاتے ہیں تو وہ صوبائی حکومت کی ہدایت پر کام کرتے ہیں، وفاق اس میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا ڈی جی رینجرز خودمختار ہیں۔ وزیر داخلہ نے کا ایسا ہوا تو یہ ان کی اپنی کمزوری ہے اور وزیراعلیٰ کو مجھ سے بات کرنی چاہئے تھی، انہیں ہم سے جو تعاون چاہئے ہم انہیں دینے کے لئے تیار ہیں لیکن وہ اپنے صوبے کے حالات درست کریں۔
چودھری نثار