حج کرپشن کیس میں استثنی کیلئے گیلانی کی درخواست مسترد‘ نئی حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہ بیٹھے‘ لوگوں کو لٹنے سے بچائے : سپریم کورٹ

حج کرپشن کیس میں استثنی کیلئے گیلانی کی درخواست مسترد‘ نئی حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہ بیٹھے‘ لوگوں کو لٹنے سے بچائے : سپریم کورٹ

اسلام آباد (اے پی اے + آئی این پی) سپریم کورٹ نے حج کرپشن کیس کی سماعت میں یوسف رضا گیلانی کو استثنیٰ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کسی کو گھر بیٹھے استثنیٰ نہیں مل جاتا۔ چھبیس کروڑ روپے کی وصولیاں کرنا ہیں ایک آنہ وصول نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے حج سکینڈل کیس میں فراڈ کے مرکزی ملزم احمد فیض کو ملک میں واپس لانے، مبینہ طور پر سکینڈل میں ملوث اعلیٰ سرکاری افسران کیخلاف ضابطے کی کارروائی کرنے، فوجداری مقدمات کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ ایف آئی اے اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور سے طلب کرتے ہوئے سماعت 23 جولائی تک ملتوی کردی ۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے استثنیٰ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ وہ عدالت میں درخواست دیں گے تب ہی فیصلہ کیا جائے گا، عدالت نے حکم دیا ہے کہ ایف آئی اے سمیت دیگر محکموں میں ایماندار افسران کا تقرر کیا جائے اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اگلی سماعت پر عدالت فیصلہ جاری کرے گی جبکہ تین رکنی بینچ کے سربراہ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم سمیت کسی کے بھی مقدمات سے استثنیٰ کا معاملہ گھر بیٹھ کر حل نہیں ہوتا عدالتوں سے مطالبہ کرنے سے ہی ہو سکتا ہے ایف آئی اے ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کرے حج جیسے مقدس فریضہ سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے جبکہ جسٹس اعجاز چودھری نے ریمارکس دئیے ہیں کہ وزیراعظم کے مقدمات سے استثنیٰ کا فیصلہ وزارت قانون یا حکومت نے نہیں عدالت نے کرنا ہے کوئی گھر بیٹھ کر خود کو خود سے ہی استثنیٰ حاصل نہیں کر سکتا پاکستانی ایجنٹ پہلے جا کر عمارتیں کرائے پر حاصل کر لیتے ہیں اور بعدازاں اس میں کرپشن کرتے ہیں حکومت حاجیوں کو اپنی رہائش کے مسائل خود حل کرنے کیوں نہیں دے رہی۔ انہوں نے یہ ریمارکس جمعرات کے روز دیئے ہیں حج کرپشن کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے اعظم خان اور دیگر اعلیٰ حکام عدالت میں پیش ہوئے اس دوران ایف آئی اے کی جانب سے رپورٹ پیش کی گئی۔ اس موقع پر تحقیقاتی افسر حسین اصغر بھی موجود تھے ججز کچھ دیر تک رپورٹ کا مطالعہ کرتے رہے۔ اے پی اے کے مطابق چیف جسٹس نے اعظم خان سے پوچھا کہ آپ ہمیں بتائیں اس کیس کو کتنے عرصے تک چلانا ہے ا یک حج گزر گیا دوسرا آگیا چھبیس کروڑ روپے عدالت نے واپس کرائے آپ نے ابھی تک کچھ نہیں کیا کوئی پراگریس نہیں ہے سعودی حکومت نے دیئے تھے 700 ریال اضافی لئے گئے تھے واپسی کا کہا تھا چیک بھجوا دئیے گئے روزانہ تاریخیں لے رہے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ دلچسپی نہیں رکھتے۔ اعظم خان نے کہا کہ ایک وزیر چالان ہوگئے احمد فیض کی گرفتاری کے حوالے سے دفتر خارجہ نے خط لکھا تھا اور اس حوالے سے وزیر نے بات بھی کی تھی وہاں سے کوئی ریسپانس نہیں مل سکا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس سے لگتا ہے کہ آپ کے ڈپلومیٹک تعلقات صحیح نہیں ہیں اعظم خان نے کہا کہ احمد فیض کے ریڈ نوٹس جاری کئے گئے ہیں وہ سعودیہ میں ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ نیا ڈی جی ایف آئی اے آگیا ہے کاموں کا بوجھ بھی زیادہ ہے مگر اس سے پرانے کام کو بھی کرائیں۔ جسٹس گلزار نے کہا کہ سعودیہ میں اس طرح کی گرفتاری عام بات ہے چیف جسٹس نے کہا کہ ہماری وجہ سے کوئی ڈی پورٹ نہیں ہونا چاہئے ہم کسی کے ساتھ پارٹی نہیں ہیں ملزم کو واپس آنا چاہئے۔ عدالت ہر صورت اپنے احکامات پر عمل کرائے گی ،حج سکینڈل میں ملوث پاکستانی افراد کو تو پکڑا نہیں جا رہا، سعودی حکام کیسے تعاون کریں گے، سعودی حکام سے اگر حقیقت میں کوئی درخواست کی جاتی تو 24 گھنٹے میں ملزم پکڑکر حوالے کر دیتے ہیں۔ 26 کروڑ روپے حاجیوں کو دیئے ہیں، ایک ریکوری نہیں کی، جو آپ نے 7 سو ریال پر حاجی سے اضافی لئے تھے۔ بنیادی طور پر تین مقدمات تھے۔ وزارت مذہبی امور اور حج ڈائریکٹوریٹ کے افسران کے خلاف جو ایکشن لیا جا رہا تھا اس کے بارے میں عدالت کو بتایا جائے۔ جواد علی شاہ کے خلاف تحقیقات کہاں تک پہنچیں۔ اس وقت کے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ رﺅف چودھری کے بارے میں معاملات پر کیا کہا گیا۔ عدالت جان چکی ہے کہ نئی حکومت پالیسیاں بنائے۔ لوگوں کو لٹنے سے بچائیں۔ اچھے افسران کو لگایا جائے۔ آپ بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں عدالت ہر صورت اپنے احکامات پر عمل کرائے گی۔
حج کرپشن کیس