بھانسی پر عملدرآمد بحال‘ تمام کیس میرٹ پر نمٹائیں گے‘ حکومت : ایمنسٹی کا احتجاج

بھانسی پر عملدرآمد بحال‘ تمام کیس میرٹ پر نمٹائیں گے‘ حکومت : ایمنسٹی کا احتجاج

 اسلام آباد( اے ایف پی/ثناءنیوز+بی بی سی) پاکستان کی نئی حکومت نے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد میں عارضی تعطل ختم کردیا ہے جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کے دور میں صرف ایک سکیورٹی اہلکار کو پھانسی دی گئی جس کا کورٹ مارشل ہوا تھا سزائے موت پر عملدرآمد کو معطل رکھنے کے سلسلے میں 2008ءمیں ایک صدارتی حکم جاری کیا گیا تھا جس کی میعاد 30جون کو ختم ہوچکی ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حمید نے یہاں بتایا کہ نئی حکومت نے سزائے موت کے قیدیوں کے تمام کیسوں کو میرٹ پر نمٹانے کا فیصلہ کیا ہے حکومت نے ایسے تمام کیسز کا کیس وار جائزہ لینے کی ہدایات جاری کی ہیں اور سزائے موت کے قیدیوں کو عام معافی نہیں دی جائے گی۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے 450کیسز ہیں انہوں نے کہا کہ سزائے موت پانے والے صرف ان مجرموں کے کیسز پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا جو عورتوں اور عمر رسیدہ افراد کی سپیشل کیٹیگری میں آتے ہیں۔ ادھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو پھانسی دینے کا سلسلہ بحال کرنے کے بجائے اس پر عارضی طور پر عملدرآمد معطل کرنے کا حکم جاری کرے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا پیسفک کے ڈپٹی ڈائریکٹر پولی ٹریسکوٹ کا کہنا ہے سزائے موت پر عملدرآمد کے لیے حکومت کے کسی بھی اقدام سے ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں جب تک پھانسی کی سزا موجود ہے اس وقت تک بے گناہ افراد کے لیے بھی سزائے موت کا خطرہ کم نہیں ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں مقدمات کی منصفانہ پیروی کی خلاف ورزی سے نہ صرف خطرات اور بھی بڑھ گئے ہیں بلکہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے ہم حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جلد مورٹوریم کی توسیع کرے۔"
پھانسی/معطلی ختم