آئی ایم ایف سے 5 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کا معاہدہ....بجلی‘ گیس مہنگی‘ کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم ہو گی‘ بعض اداروں کی نجکاری کا امکان

آئی ایم ایف سے 5 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض کا معاہدہ....بجلی‘ گیس مہنگی‘ کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم ہو گی‘ بعض اداروں کی نجکاری کا امکان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + اے پی اے) پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 5 ارب 30 کروڑ ڈالر قرضے کا نیا معاہدہ طے پا گیا۔ اس بات کا اعلان جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کے وفد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آئی ایم ایف کا یہ پروگرام آئندہ 3 سال کیلئے ہو گا۔ آئی ایم ایف کےساتھ معاہدے کی تفصیلات بارے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا موجودہ قرضہ پاکستان کو نادہندگی سے بچانے کےلئے ہے۔ پاکستانی معیشت کی بحالی کےلئے آئی ایم ایف کا ایجنڈا بھی ہماری پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہمیں ٹوٹی پھوٹی معیشت ورثے میں ملی جسے دوبارہ مستحکم کرنا ہو گا۔ اقتصادی ترقی کی شرح میں اضافے کےلئے بنیادی اصلاحات کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ قرضوں کی قسطیں سر پر آگئیں جنہیں اتارنا ضروری ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدے کا مقصد ملکی معیشت کو استحکام دینا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے کنٹری ڈائریکٹر جیفری فرینکس کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان نے تیار کیا ہے۔ نئے معاہدے میں پاکستان کے لئے قرض ادائیگی کی شرائط کو آسان بنایا گیا ہے۔ قرض کی حتمی منظوری آئی ایم ایف بورڈ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقتصادی بحالی کے لئے صوبوں کو وفاق سے تعاون کرنا ہو گا۔ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت پاکستان کو افراط زر کی شرح اور مالیاتی خسارہ کم کرنا ہو گا۔ پاکستان کو خسارے میں چلنے والے اداروں کی بہتری کےلئے اقدامات اٹھانا ہونگے۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی بہتری کے لئے نجکاری کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کے تحت مستحق طبقے کی امداد جاری رہے گی۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ 3 سالہ پروگرام کے تحت 3 فیصد شرح سود پر 5 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض لئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی تشکیل نو کے ذریعے کارکردگی بڑھائی جائے گی، اقتصادی بحالی کیلئے صوبوں کو وفاق سے تعاون کرنا ہو گا۔ میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت زراعت پر ٹیکس نہیں لگا سکتی، یہ صوبائی معاملہ ہے، پاکستان نے 3 سال میں مالی خسارہ 4 فیصد تک لانے کا ہدف رکھا ہے، اپنی ضروریات کیلئے نہیں پچھلے قرضوں کی ادائیگی کیلئے نیا قرضہ لیا جارہا ہے، آئی ایم ایف کا موجودہ قرضہ پاکستان کو نادہندہ ہونے سے بچانے کیلئے ہے۔ سربراہ آئی ایم ایف پاکستان جیفری فرینکس کا اس موقع پر کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف رضامند ہیں کہ محصولات میں بہتری لائی جائے، پاکستان کو افراط زر کی شرح میں کمی کرنا ہو گی۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس مراعات کے تمام ایس آر او ختم کئے جائیں، سب کیلئے یکساں ٹیکس نظام بنایا جائے۔ جیفری فرینکس کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان نے تیار کیا ہے۔ نئے معاہدے میں پاکستان کے لئے قرض ادائیگی کی شرائط کو آسان بنایا گیا ہے۔ پاکستان کو خسارے میں چلنے والے اداروں کی بہتری کےلئے اقدامات اٹھانا ہونگے۔ خسارے میں چلنے والے اداروں کی بہتری کے لئے نجکاری کی جا سکتی ہے۔ دریں اثناءثناءنیوز کے مطابق پاکستان نے بجلی مہنگی کرنے کی آئی ایم ایف کی شرط مان لی ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان و مشیر رانا اسد امین نے بتاےا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام پر مذاکرات مکمل ہو گئے ہیں وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اپنی شرائط کے مطابق قرض لے رہے ہیں، مذاکرات کے دوران پاکستان نئے ٹیکس عائد نہ کرنے کے م¶قف پر قائم رہا۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ملکی مفاد کے خلاف کوئی شرط قبول نہیں کی گئی۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں نئے ٹیکس کا مطالبہ تو تسلیم نہیں کیا تاہم کئی شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر اتفاق ضرور کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ٹیکس مراعات کے تمام ایس آر اوز ختم کر کے سب کے لئے یکساں ٹیکس نظام لایا جائے۔بی بی سی کے مطابق اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے اس منظور شدہ قرض 5.3 ارب ڈالر کے علاوہ 2 ارب ڈالر مزید حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے جس پر بعد میں غور کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کے نمائندے نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے اس پروگرام میں شمولیت کے بعد پاکستان کو اپنی معیشت کو درست سمت دینے کے لئے بعض مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، جن کی جھلک حالیہ بجٹ میں دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ مشکل فیصلے کرنے ہوں گے اور حکومت اس جانب پہلے ہی پیش رفت کر رہی ہے تاکہ اقتصادی ترقی کی رفتار بڑھا کر غربت کو کم کیا جاسکے اور پاکستانی عوام کو بہتر معیار زندگی دیا جاسکے۔ اس کے لئے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ معیشت زیادہ تیزی سے ترقی کر سکے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے بجلی اور گیس کے بلوں پر دی جانے والی رعایتی قیمتوں یا سبسڈی کو ختم کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر رکھا ہے۔ سبسڈیز کو مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن بجٹ میں ہم نے اس سال کے لئے سبسڈی فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ہمارا وعدہ ہے کہ حکومت جو بھی رعایت لوگوں کو دے رہی ہے وہ یکمشت واپس نہیں لی جائے گی۔پاکستان نے آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ سیلز ٹیکس‘ انکم ٹیکس اور ایکسائز کی مد میں استثنیات کے مرحلہ وار خاتمہ کے لئے اقدامات کرے گا۔ سٹاف لیول پر ہونے والے معاہدہ سے تین سالہ پروگرام کو آئی ایم ایف کی انتظامیہ اور بعدازاں بورڈ آف ڈائریکٹرز کے زیر غور لانے کی راہ کھل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کا مقصد پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے مقاصد میں مالی استحکام‘ افراط زر میں کمی‘ توانائی کے بحران کا خاتمہ‘ سرکلر ڈیٹ کے ایشو کو ختم کرنا‘ سماجی تحفظ کے نیٹ کو بہتر بنانا‘ کاروباری ماحول کی بہتری‘ غیر ملکی سرمایہ کاری‘ سرکاری تحویل کے اداروں کی بہتری‘ نجکاری کے پروگرام کی بحالی‘ زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا شامل ہیں اور نئے پروگرام میں انہی مقاصد کو سامنے رکھا گیا ہے۔ سابقہ حکومت کی طرف سے لئے گئے قرضوں کی وجہ سے ملک پر ادائیگی کی بھاری ذمہ داری ہے۔ ہم قرضوں کا حجم بڑھنے نہیں دیں گے تاہم نیلم جہلم‘ بھاشا ڈیم یا دوسرے منصوبوں کے لئے قرضے لئے جائیں تو یہ بہتر ہے‘ پنجاب کی طرف سے ایک سمری بھیجی گئی تھی کہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں اس معاملہ کو لایا جائے اور اسے پورے ملک میں وسعت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امیروں پر ٹیکس لگایا ہے‘ ملک میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس کی شرح 15 فیصد تک جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف والے تین سال سے پاکستان آنے کو تیار نہیں تھے‘ ہم نے بجٹ میں جو ایکشن لئے ہیں ان کی تعریف کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری تحویل کے کاروباری اداروں کی وجہ سے 450 بلین روپے سالانہ منافع ہوتا ہے‘ ہم نے ان سب کو ایک ایک کر کے ٹھیک کرنا ہے‘ ان کی اگر نجکاری نہیں ہونا تو ان کو منافع بخش بنانا ہے‘ نجکاری میں پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ بھی ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ٹیکس کی بنیاد بڑھنی چاہئے۔ پاکستان نے اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ تمام ایگزامشنز مرحلہ وار ختم کر دی جائیں گی۔ ایسے اقدامات بھی واپس لے لئے جائیں گے جس میں ٹیکس ایگزامشنز یا خصوصی ریٹس دئیے گئے ہوں۔ اس طرح ایسی سبسڈیز جو امراءکو دی جا رہی ہیں ختم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بجٹ میں مشکل فیصلے کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے‘ ماضی میں پاکستان میں کچھ پروگرام کامیابی سے نہیں چلے ‘ سابق حکومتوں نے وہ کچھ نہیں کیا جس کا انہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔