این آئی سی ایل کیس ....سپریم کورٹ کے حکم پر بحال ہونیوالے تفتیشی افسر ظفر قریشی معطل‘ شفقت نغمی الزامات کی انکوائری کرینگے

این آئی سی ایل کیس ....سپریم کورٹ کے حکم پر بحال ہونیوالے تفتیشی افسر ظفر قریشی معطل‘ شفقت نغمی الزامات کی انکوائری کرینگے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + جی این آئی) سپریم کورٹ کے حکم پر این آئی سی ایل کیس کی تفتیش کرنے والے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ظفر احمد قریشی کو وزیراعظم کے حکم پر گورنمنٹ سرونٹ (کنڈکٹ) رولز 1964ءکی خلاف ورزی پر معطل کر دیا گیا ہے۔ معطلی کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ظفر احمد قریشی سے الیکٹرانک میڈیا پر ان کے 2 جولائی کو فیڈریشن کے ادارہ کے کام میں رکاوٹ پیدا کرنے اور اس کے آداب کے منافی ایک بیان پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے تحریری وضاحت طلب کی گئی تھی جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ آپ کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کا یہ منصفانہ موقع فراہم کیا گیا ہے جس میں ناکامی پر آپ کے خلاف ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی لیکن ان کا جواب اطمینان بخش نہ ہونے کی بنا پر گورنمنٹ سرونٹس ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن رولز 1974ءکے تحت ان کی فوری معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف الزامات پر مبنی تفصیلی چارج شیٹ بھی جاری کی جا رہی ہے۔ اس کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے بھانجے چودھری مونس الٰہی گرفتار ہیں اور ان کے خلاف کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ بعض ذرائع ظفر قریشی کی معطلی کو چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کی وزیراعظم سے ملاقات کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ شفقت نغمی ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ظفر قریشی جنہیں معطل کر دیا گیا ہے کے خلاف الزامات کی تفتیش کریں گے‘ انہیں تفتیشی افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔
لاہور (خبرنگار) ایف آئی اے حکام نے 36 مزید افسران کے تبادلے و تعیناتی کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق یہ تبادلے این آئی سی ایل کیس کی تفتیشی ٹیم کے 4 افسران کے تبادلوں کو جواز مہیا کرنے کیلئے کئے گئے ہیں۔ حیران کن طور پر ان تبادلوں میں سے پہلے نوٹیفکیشن پر 2 جولائی (ہفتہ) کی تاریخ ڈالی گئی ہے مگر تبادلوں کا یہ نوٹیفکیشن 4 جولائی (سوموار) کو صبح 10 بجے لاہور زون میں موصول ہوا۔ اس نوٹیفکیشن میں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر، 7 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور انسپکٹروں کے تبادلے کا حکم دیا گیا ہے۔ جبکہ 17اسسٹنٹ ڈائریکٹروں اور چار انسپکٹرں کے تبادلے کا ایک مزید نوٹیفکیشن سوموار کو دفاتر بند ہونے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ایف آئی اے میں ماضی میں اس قدر تبادلے ایک روز میں ہونے کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ دو جولائی (ہفتہ)کو جاری ہونیوالے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالشکور میمن کو ایس بی سی کراچی سے تبدیل کرکے سی سی سی اسلام آباد تعینات کیا گیا ہے جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر مشتاق احمد شیخ کو زونل آفس کراچی سے انٹی کرپشن سرکل لاہور، عبدالحمید بھٹو کو ایس بی سی کراچی سے امیگریشن سیالکوٹ ائرپورٹ، سعید احمد وٹو کو سیالکوٹ ائرپورٹ سے ایس بی سی کراچی، سیف اللہ جوکھیو کو سی بی سی کراچی سے انٹی کرپشن سرکل لاہور، غلام نبی کو انٹی کرپشن سرکل ملتان سے سی بی سی کراچی، طارق پرویز کو امیگریشن پشاور ائرپورٹ سے سی بی سی اسلام آباد اور طارق توصیف کو پاسپورٹ سرکل پشاور سے سی بی سی اسلام آباد تعینات کیا گیا ہے جبکہ 10 انسپکٹروں میں تمام کا تعلق پنجاب سے ہے جن میں سے 5 کو بلوچستان اور 5 کو اسلام آباد زون تعینات کیا گیا ہے۔ انسپکٹر میاں محمد صابر، صارم گیلانی اور نصر اللہ کو انٹی کرپشن سرکل کوئٹہ، سرفراز علی اور محمد ندیم کو پاسپورٹ سرکل کوئٹہ، اعجاز احمد کو ای سی ڈبلیو اسلام آباد، امان اللہ کو انٹی کرپشن ونگ اسلام آباد، ہاشم رضا اور سرور وڑائچ کو سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ اسلام آباد اور شوکت علی کو سکیورٹی برانچ اسلام آباد تعینات کیا گیا ہے۔ جبکہ سوموار کو جاری ہونیوالے نوٹیفکیشن کے مطابق14 اسسٹنٹ ڈائریکٹروںکامران عطاءاللہ، خالد رحمت ،عارف کھوکھرکو لاہور سے کراچی،آغاعشرت علی،امتیاز علی چنہ،چودھری سردار خان کو کراچی سے لاہور،غلام عباس بلوچ کو کراچی سے بلوچستان، عارف علی بخاری کو گجرات سے اسلام آباد، حبیب اللہ تارڑ کو کوئٹہ سے کراچی، فاروق احمد کو کوئٹہ سے پشاور، عزیز احمد خان اور انعام اللہ خان گنڈاپور کو اسلام آباد، سید منیر اختر شاہ کو فیصل آباد سے حیدر آباد اور زبیر احمد کو حیدر آباد سے فیصل آباد تعینات کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں لاہور کے چار انسپکٹروں فرخ بیگ اور محمد عالم کو اسلام آباد، راﺅ لیاقت علی اور محمد اقبال کو کوئٹہ بھیجا گیا ہے۔
ایف آئی اے / تبادلے