کئی شہروں میں ہڑتال جاری‘ لاہور میں منہاج القرآن کی ریلی‘ جماعت اسلامی اورانجمن اشاعت اسلام کے مظاہرے

لاہور/ شیخوپورہ/ ننکانہ/ حافظ آباد ( خصوصی نامہ نگار+ نمائندگان) سانحہ داتا دربار کیخلاف لاہور، سرگودھا، شیخوپورہ، جھنگ، اٹک، حافظ آباد، ننکانہ، ٹوبہ، گجرات، منڈی بہاءالدین سمیت کئی شہروں میں شٹرڈاﺅن ہڑتال جاری رہی۔ مقررین نے واقعہ کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ اولیاءکرام کے مزارات کا تحفظ یقینی بنائے اور ملزم بے نقاب کرے۔ لاہور میں تحریک منہاج القرآن نے ناصرباغ سے داتا دربار تک ریلی نکالی۔ منصورہ میں جماعت اسلامی، عالمی تحریک امن اور جمعیت علماءپاکستان کے رہنماﺅں نے احتجاجی جلسہ کیا۔ شرکاءنے دہشت گردی کے خلاف بینرز اٹھا رکھے تھے۔ انجمن اشاعت اسلام نے پریس کلب لاہور کے سامنے مظاہرہ کیا۔ دوسری طرف سرگودھا میں دکاندار سے جھڑپ میں 4افراد زخمی ہو گئے۔ ریلی کی قیادت لاہور کے منہاج القرآن کے امیر ارشاد طاہر نے کی۔ ناظم حفیظ اللہ جاوید، رانا ادریس، علامہ حسین آزاد، ممتاز صدیقی، افضل گجر، حافظ غلام فرید، شہزاد مصطفوی، پروفیسر رمضان ایوبی، فاشر رفیق، عبدالغفار اور ارشاد طاہر نے بھی خطاب کیا۔ قائدین نے کہاکہ داتا دربار پر حملہ کی ذمہ داری مرکزی اور پنجاب حکومت ہیں اور دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دینے والے قومی مجرم ہیں۔ اولیاءکرام کی گستاخی کا مواد کن کی کتابوں میں موجود ہے، حکمران سب جانتے ہیں اگر دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہوں تو دہشت گرد دندناتے نہ پھریں۔ جماعت اسلامی لاہور نے منصورہ ملتان روڈ، گلشن راوی اور شاہ پور میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ شرکاء نے امریکہ مردہ باد، دہشت گردی پے لعنت، داتا دربار میں دہشت گردی کے ملزمان گرفتار کرو کے نعرے لگاتے رہے۔ قیادت امیر العظیم، ذکر اللہ مجاہد اور عبدالعزیز عابد، جہانگیر بارا، ملک شاہد نوید اور خواجہ بلال نے کی۔ امیر العظیم نے کہاکہ دشمن ہمارے مذہبی و عوامی مقامات پر دہشت گردی کے ذریعے وطن عزیز میں گھر گھر اور گلی گلی خانہ جنگی کرانا چاہتا ہے، حکمران آنکھیں کھولیں اور دہشت گردی میں ملوث ہاتھوں کو بے نقاب کریں، حکمرانوں نے غیروں کی جنگ کو اپنی جنگ قرار دے کر پاک سرزمین کو لہو لہو کر دیا ہے، حکمران بلیک واٹر ، ’را‘ اور اسرائیل کا نام لینے سے گھبراتے ہیں اور ہر سانحہ کو پنجابی، سندھی، بلوچی، طالبان، لشکر جھنگوی اور لشکر طیبہ کا نام لے کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ عالمی تحریک امن کے سربراہ اور مرکزی جمعیت علماءپاکستان کے رہنما غلام شبیر قادری نے کہا ہے کہ بم دھماکوں اور گولیوں کے ذریعے داتا ہجویری کے ماننے والوں کے نظریات کو بدلا نہیں جا سکتا، خودکش حملوں کی تربیت دینے والوں کو فوراً گرفتار کیا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے۔ مولانا خادم حسین مجددی نے کہا اولیاءکرام کی دشمنی رکھنے والے مسلمان نہیں کافر ہیں۔ علامہ محمد ظہور اللہ رضا نے کہا خودکش دھماکے کرنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا پڑے گا۔ شرافت علی قادری نے کہانظام مصطفی پاکستان میں نافذ ہوتا تو کسی کو خودکش دھماکے کرنے کی جرا¿ت نہ ہوتی۔ ارشد قادری نے نعیمین ایسوسی ایشن کے عظیم نعیمی، علامہ امیر حسین، غلام دستگیر فاروقی نے کہا برصغیر میں اسلام صوفیاءکرام کے ذریعے پھیلا، صوفیاءکرام کے مزارات پر خودکش حملوں کی جتنی مذمت کی جائے اتنی ہی کم ہے۔ صاحبزادہ حامد مصطفی نے کہا دہشت گردوں کے ساتھ روابط رکھنے پر وزیر رانا ثناءاللہ کو برطرف کیا جائے۔ گلزار احمد سلطانی نے کہا پنجاب حکومت اگر مزارات پر سکیورٹی کا بندوبست نہیں کر سکتی تو ہمارے مزارات ہمیں واپس کئے جائیں۔ علامہ مقبول اشرفی نے کہا پاکستان ہمارے بزرگوں نے بنایا اور ہم جان پر کھیل کر پاکستان کی حفاظت کریں گے۔ شرکاءبار بار ”داتا تیرے جانثار بے شمار بے شمار“ کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ ناصر عباس، نواز چشتی، قاری ہاشم، محمد ابراہیم، قاری محمد نذیر نے بھی خطاب کیا۔ سانحہ داتا دربار کے شہداءکے ایصال ثواب کے لئے داتا دربار پر قل خوانی ، قرآن خوانی اور محفل نعت ہوئی۔ شہداءکے بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی گئی۔ نامہ نگار خصوصی کے مطابق انجمن تاجران، جے یو پی و سنی ایکشن کمیٹی کی اپیل پر شیخوپورہ میں مکمل شٹرڈاﺅن ہڑتال رہی۔ احتجاجی جلوس نکالا گیا جو لاہور سرگودھا روڈ سے شروع ہوکر ریگل چوک میں بازار سے ہوتا ہوا میلاد چوک میں جلسہ کی شکل اختیار کر گیا۔ جلوس کی قیادت جاوید لطیف، تاجروں، امجد نذیر بٹ و دیگر نے کی۔ مفتی اشرف قادری، محمد یعقوب رضوی اور دیگر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رانا ثناءاللہ کو برطرف کیا جائے، کالعدم تنظیموں کو غیرفعال بنانے کے ساتھ ان پر کڑی نظر رکھی جائے، سانحہ میں ملوث پس پر دہ ہاتھوں کو بے نقاب کیا جائے۔ ننکانہ صاحب میں مختلف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جو بعد میں ایک بڑی ریلی کی شکل اختیار کر گئی۔ چودھری مشتاق، شیخ شاہد محمود، ملک مختار، عرفان محمود، اسلم ناصر، علامہ محب النبی، حاجی عبدالحمید، قاری عبدالجبار اور خان بابر خان نے کہاکہ داتا دربار پر حملہ کرنے والے دہشت گرد مسلمان نہیں بلکہ وہ غیرملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں جن کا کوئی مذہب اور دین نہیں ہے۔ نمائندہ نوائے وقت کے مطابق احتجاجی ریلی میں اقلیتی رہنماﺅں سمیت سکھوں نے بھی شرکت کی۔ اہلسنت و الجماعت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر مدینہ مسجد سے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی جو ریلوے روڈ سے ہوتے ہوئے گول چوک میں اختتام پذیر ہوئی۔ پروفیسر عبدالحمید کوکب، سردار جنم سنگھ، مولانا عبدالجبار، مشرف حسین، خان بابر نے اپنے مشترکہ خطاب میں دہشت گردی کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ بے گناہ اور معصوم انسانوں کا قتل اسلام اور وطن دشمن عناصر کی سازشیں ہیں۔ نمائندہ نوائے وقت کے مطابق سنی تحریک اور مرکزی انجمن تاجران کی کال پر مارکیٹیں اور منڈیاں بند رہیں اور سڑکوں پر ویرانی چھائی رہی اور احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت شبیر حسین شاہ، سعید عثمان، بدر الزمان، محمد اصغر چشتی، غلام مصطفی سلطانی، مولانا سعید سیال، حسنین علی شاہ، شیخ محمد امجد، طارق انجم نے کی۔ شرکاءنے صدر زرداری اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے خلاف بھی سخت نعرہ بازی کی۔ مقررین نے کہا جو وزراءاور ممبران اسمبلی دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں ان کو فی الفور برطرف کیا جائے۔ فیروزوالا سے نامہ نگار کے مطابق شاہدرہ اور کوٹ عبدالمالک ، رچنا ٹاﺅن اور دیگر علاقوں میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے کئے گئے۔ جماعت اہلسنت اور جمعیت علمائے پاکستان کے زیراہتمام زیرقیادت قاری نصیر احمد، خادم حسین شرقپوری، محمد اشرف شاکرایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سابق ناظم عبدالرﺅف نے کہاکہ حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر حملہ کرنے والے انسان نہیں ہو سکتے۔ دریں اثناءوہاڑی، فیصل آباد میں بھی ریلیاں اور مظاہرے ہوئے جس میں اے ٹی آئی، جے یو پی، منہاج القرآن، یوتھ لیگ سمیت کئی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔