پاکستان سے سول جوہری تعاون کیلئے اجازت کی ضرورت نہیں : چین

اسلام آباد(سہیل عبدالناصر)پاکستان نے بھی یہی مﺅقف اختیار کیا ہے کہ چین سے چشمہ تھری اور چشمہ فور کے نام سے دو ایٹمی ری ایکٹر حاصل کرنے کا جس وقت معاہدہ کیا گیا اس وقت چین نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن نہیں تھا۔انتہائی مستند ذرائع نے نوائے وقت کو بتایا کہ اگرچہ پاکستان اس ڈیل کیلئے قانونی اعتبار سے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے علاوہ کسی ملک یا فورم کو جواب دہ نہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان نے سفارتی ذرائع سے مذکورہ گروپ کے اہم ارکان کو باور کرایا ہے کہ بنیادی طور پر چشمہ ون،چشمہ ٹو،چشمہ تھری اور چشمہ فور کے معاہدے ایک ہی وقت کئے گئے تھے ۔اسی لئے ان چاروں ری ایکٹروں کی تنصیب کیلئے چشمہ کے قریب ایک ہی مقام چنا گیا۔ چشمہ ون اور ٹو کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے لیکن مالی وسائل کی وجہ سے چشمہ تھری اور چشمہ فور کے کام میں تاخیر ہو گئی۔ان ذرائع کا دعویٰ ہے پاکستان دستاویزات کی مدد سے اپنے مﺅقف کو درست ثابت کر سکتا ہے۔این ایس جی کے ایک رکن ملک کے پاکستان میں متعین سینئر سفارتکار کا کہنا ہے کہ اگر چین نے پاکستان کے مزید دو ایٹمی ری ایکٹر فروخت کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے تو نیوکلیئر سپلائرز گروپ اسے اس اقدام سے نہیں روک سکتا کیونکہ گروپ کے قوانین پر عمل درآمد کی نوعیت رضاکارانہ ہے۔ نیوکلیئر سپلائرزگروپ کے قوانین کے مطابق جن ملکوں نے جوہری عدم پھیلاﺅ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط نہیں کر رکھے انہیں ایٹمی ٹیکنالوجی اور متعلقہ سازوسامان فراہم نہ کیا جائے۔ دلچسب امر یہ ہے کہ اسرائیل اور بھارت دونوں نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے لیکن اس کے بوجود بالترتیب فرانس اور کنیڈا سمیت متعدد،این ایس جی کے کئی ارکان نے ان دونوں ملکوں کو ہر قسم کی ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی۔امریکہ نے البتہ اتنا تکلف ضرور کیا کہ اس نے بھارت کے ساتھ ایٹمی ڈیل کیلئے مذکورہ سپلائرز گروپ سے استثنیٰ حاصل کیا ۔