دہشت گردی کا مسئلہ وزیراعظم کی جانب سے بلائی گئی کانفرنس سے حل نہیں ہوگا، رحمٰن ملک کی کارکردگی کے پیش نظرانہیں وزیر داخلہ کی بجائے وزیرِ معذرت ہونا چاہیے۔ مفتی منیب الرحمٰن

دہشت گردی کا مسئلہ وزیراعظم کی جانب سے بلائی گئی کانفرنس سے حل نہیں ہوگا، رحمٰن ملک کی کارکردگی کے پیش نظرانہیں وزیر داخلہ کی بجائے وزیرِ معذرت ہونا چاہیے۔ مفتی منیب الرحمٰن

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحٰمن نے کہا کہ داتا گنج بخش کی درگاہ پرحملہ دہشت گردی کی ایک نئی نظریاتی جہت کا اظہارہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور پاکستان کی حدود میں ڈرون حملے دونوں قابل مذمت ہیں کیوں کہ دونوں صورتوں میں معصوم لوگ مارے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علماء کرام کو دہشت گردی کے واقعات پر واضح بیان دینا چاہیے، دہشت گردی کے واقعات میں کوئی تیسری قوت ملوث نہیں، خود کش حملہ آوراسی ملک کے باشندے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحٰمن ملک صرف حلیفوں کو منانے اور ان کی منت سماجت میں مصروف رہتے ہیں ان کو وزیرمفاہمت و معذرت ہونا چاہیے۔ مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ کالعدم جماعتوں کے کارکن اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، ایک کالعدم پارٹی کے صدر کو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے اپنی آغوش میں بٹھا رکھا ہے اورجنرل سیکریٹری کو گورنر پنجاب ہیلی کاپٹر میں سیر کراتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کا رویہ منافقانہ ہے ،ان سے کسی انقلابی اقدام کی توقع نہیں کی جاسکتی۔