”چوروں کی ساتھی“ نہیں بننا چاہتی، بیگم نسیم ولی کا نئی جماعت بنانے کا اعلان

”چوروں کی ساتھی“ نہیں بننا چاہتی، بیگم نسیم ولی کا نئی جماعت بنانے کا اعلان

لاہور/ پشاور (خصوصی رپورٹر+ ایجنسیاں) عوامی نیشنل پارٹی خاندانی تنازعات کے بعد ٹکڑوں میں بٹ گئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کی والدہ نے باچا خان عوامی پارٹی کے نام سے نئی پارٹی تشکیل دیدی ہے۔ دونوں ہی جماعتیں باچا خان کے فلسفے پر چلنے کا اعلان کر رہی ہیں تاہم بیگم نسیم ولی خان کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی سے کئی قدآور رہنماﺅں کے جانے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ این این آئی کے مطابق پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیگم نسیم ولی خان نے کہا اے این پی نے کرپشن کا بازار گرم کیا، عوامی نیشنل پارٹی کے وزرا اور عہدیدار اپنے دور حکومت میں سرکاری دفاتر میں لوگوں سے پیسے لیتے تھے، اب ان کے خلاف نیب کے فیصلے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ چوروں کی ساتھی نہیں بننا چاہتی اسلئے اے این پی کے پارٹی الیکشن میں بھی حصہ نہیں لیں گی۔ انہوں نے کہا وہ کارکنوں سے اپیل کرتی ہیں کارکن باچا خان کے فلسفے سے رہنمائی حاصل کریں۔ وہ ایک نئی سیاسی جماعت قائم کررہی ہیں جو باچا خان کے فلسفے پر عمل پیرا ہوگی، ہم چوروں کا ساتھ دیں گے نہ ان کو اپنے ساتھ شامل کریں گے، باچا خان کے کارکنوں کے ساتھ مل کر ایجنڈا اور منشور تیار کیا جائےگا۔ آن لائن/ اے پی اے کے مطابق انہوں نے کہا سات سال طویل انتظار کے بعد اس فیصلے پر پہنچی ہوں اب باچاخان کے مشن کو پورا کرنا ہو گا جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کی موجودہ قیادت نے باچاخان کے مشن کو چھوڑ کر پانچ سال اقتدار میں لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہم بہت جلد ایک جرگہ بلائیں گے اور وہ اس کا فیصلہ کریگا پارٹی کا سربراہ کون ہو گا۔ میں اس میں کوئی مداخلت نہیں کرونگی نہ ہی اس سے پہلے میں نے کوئی مداخلت کی ہے بلکہ پارٹی ورکروں کو تخریب سے روکا ہے۔ انہوں نے کہا باچاخان کا مشن امن کا مشن تھا، غریب اور انسانیت کا مشن تھا موجودہ قیادت نے باچاخان کے فلسفہ اور رولز سے ہٹ کر قوم کو جو نقصانات پہنچائے اسکا ازالہ کرنے میں کافی وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا عوامی نیشنل پارٹی کی موجودہ قیادت سے ناراض ارکان کو دوسری سیاسی جماعتوں میں جانے کے بجائے ہمارے ہاتھ مضبوط کرنے ہونگے۔ ہماری پارٹی میں چور وں کےلئے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ انکا کہنا تھا کہ میں نے پہلے بھی واضح کر دیا تھا اعظم خان ہوتی، حیدر ہوتی، اسفندیارولی اور پانچ سال اقتدار میں دفتروں میں قوم کو لوٹنے والوں کو ہم اپنی پارٹی میں نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا جو بھی باچاخان کے فلسفہ سے ہٹ جائے وہ میری نظر میں زندہ نہیں۔ پارٹی میں تمام فیصلے انصاف سے ہونگے۔ انہوں نے کہا لونگین خان کی عمر اتنی نہیں ہے ان کو پارٹی قیادت سونپی جائے، جرگہ اور کمیٹی نے ان کو قیادت سونپ دی تو یہ بدنیتی پر مبنی فیصلہ ہو گا کیونکہ سینکڑوں ایسے پیروکار موجود ہیں جو باچاخان کے فلسفے اور نظریے کو پختونوں کے گھر گھر پہنچا سکتے ہیں اس لئے لونگین خان کو قیادت دینا ٹھیک نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سات سال خاموشی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عوامی نیشنل پارٹی کی موجودہ قیاد ت کے خلاف کرپشن کے کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے لیکن اب تونیب نے تمام چیزیں واضح کر دی ہیں کہ موجودہ قیادت نے صوبے کے عوام کے حقوق کے نام پر اپنی جیبیں بھریں۔ خیبر پی کے اسمبلی سے ہم نے کالا باغ ڈیم کیخلاف تین قراردادیں پاس کی ہیں لیکن موجودہ حکمران جماعت کے سربراہ کی کالاباغ ڈیم کی حمایت بدنیتی پر مبنی ہے جبکہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے ممبران نے بھی خاموشی اختیار کی ہے۔ ان میں یہ ہمت نہیں ہے کہ وہ اپنی اسمبلی میں پیش کی گئی تین قراردادوں کا دفاع کر سکیں۔
بیگم نسیم ولی